Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میسجز سے ملتی خوشخبریاں اور نقصانات

by دسمبر 12, 2017 بلاگ
میسجز سے ملتی خوشخبریاں اور نقصانات
Print Friendly, PDF & Email

آج میری تحریر جس بارے میں ہے وہ معاملہ بہت نازک ہے ۔ بہت سے لوگ شاید میری اس بات سے اتفاق نہ کریں ۔  یہ ضروری بھی نہیں ہے ۔ میرا قلم ان سب باتوں سے ڈر کر کبھی نہیں رکے گا ۔  کچھ دن پہلے کی بات ہے ایک دوست سے ملاقات ہوئی ۔تب ہی ایک بھکاری بچہ آ کر اللہ کا واسطہ دے کر مانگنے لگا، اس نے اے دھتکار دیا ۔میرے لئے  یہ منظر تکلیف دہ تھا خیر،  وہ موبائل پر مصروف تھی پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک اسلامی پیغام سب دوستوں کو بھیج رہی ہوں ۔ میں نے کہا مجھے بھی بھیج دینا ۔ جب مجھے میسج موصول ہوا تو وہ کچھ یوں تھا ۔

"اللہ کے یہ پانچ نام 20 دوستوں کو بھیجیں ۔ 20 دن میں آپ کو ایک بڑی خوشخبری ملے گی، اگنور مت کرنا ورنہ 20 دنوں میں کوئی بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے ۔ شکریہ۔”

پیغام کیا تھا ایک انگارہ تھا جیسے، دماغ ایسا کھولا کہ الامان ۔۔۔ ہم نے اپنے دین کو اپنے لئے کیسے کیسے بدل لیا ہے ۔  ایک پیغام اب ہماری قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہو گیا ہے ۔  ہم نجانے ایک دن میں کتنے پیغام دوستوں کو فارورڈ کرتے ہیں ۔ جن میں بہت سے لطائف ہوتے ہیں اور بہت سے شاعری پیغامات ،لیکن ہمیں ایک اسلامی پیغام کو بھیجتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لینا چاہیئے ۔ یہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے ۔

قرآن پاک میں اللہ ارشاد فرماتا ہے :

"یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی ، ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کو ، وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔” (النمل- آیت 2،3)

"اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں۔” (البقرہ – آیت 25)

ایسی بہت سی آیات قرآن میں ملتی ہیں جن میں خوشخبری اور نقصان نہ ہونے کے لئے کارآمد نسخے بتائے گئے ہیں ۔ ہم ان میں سے تو کسی پر عمل کرتے نہیں کیوں کہ ان پر عمل کرنے کے لئے وقت چاہیئے جو ہمارے پاس آج کل کی مصروفیات میں نہیں نکل پاتا ۔ تو جی بس ایک پیغام 20 لوگوں کو بھیجو اور انتظار کرو اللہ کی طرف سے خوشخبری کے نازل ہونے کا ۔ ہو سکتا ہے کسی کی کوئی خواہش پوری ہوئی بھی ہو ایسے پیغامات آگے بھیجنے سے ۔ لیکن کیا گارنٹی ہے کہ یہ وہ پیغام آگے بھیجنے کا صلہ ہے یا آپ کی آزمائش ۔۔۔ اللہ انسان کو آزماتا ہے پھر جو اس کے ہوتے ہیں وہ صحیح راہ پر چلتے رہتے ہیں ۔ جو کم عقل ہوتے ہیں وہ بھٹک جاتے ہیں ۔ اللہ نے نماز کا حکم دیا، زکوٰۃ کا حکم دیا، رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ۔ ہم ان میں سے کچھ بھی تو نہیں کرتے ۔ اگر کرتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کریں لیکن ایک پیغام کو اپنی خوشیوں کا ضامن سمجھ کر آگے پھیلانا اپنے ساتھ سراسر زیادتی ہے ۔ کوئی ہم سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے تو ہم دھتکار دیتے ہیں ، کہ تم تو ہٹے کٹے ہو جاؤ خود کماؤ ، تم بچے ہو والدین پتہ نہیں کیسے تم لوگوں سے بھیک منگوا لیتے ہیں ، جاؤ بابا اس عمر میں بھی مانگنے کا شوق ہے اپنی جھونپڑی میں جاؤ اللہ اللہ کرو قبر کی فکر کرو اب، تمہیں شرم نہیں آتی عورت ہو کر سڑکوں پہ مانگتی پھرتی ہو کسی کے گھر کام کر لو ، حلال کماؤ، حلال کھاؤ ، وغیرہ وغیرہ ۔ بے شک یہ سب باتیں اپنی جگہ درست لیکن ذرا سوچو اللہ کے نبی ﷺ کے در پر کوئی جاتا تھا تو وہ کبھی خالی ہاتھ لوٹ کر نہیں گیا ۔ خود بھوکے رہ لئے سوالی کے سوال کو رد نہیں کیا ۔ یہ جاننے کی کوشش کئے بغیر کہ وہ مستحق ہے بھی یا نہیں ۔ آج ہمیں موت پڑ جاتی ہے سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اگر اس بھکاری کو دے دیا تو اپنا ماہانہ بجٹ خراب ہو جائے گا ۔ اللہ سے لین دین کرنے کا بھی ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ کے نام پر مانگنے والے کو کبھی رد نہ کرو وہ مستحق ہے یا نہیں آپ کو اللہ ضرور اس کا بہتر بدلہ دے گا ۔ باقی وہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے ۔ ہم اس احسن طریقے کو اپنانے کی بجائے ایک پیغام کو نجانے کتنی بار فارورڈ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے بگڑے کام سنور جائیں گے ۔ اور اگر فارورڈ نہیں کیا تو نقصان اٹھاؤ گے ۔ اگر ایک پیغام سے سب مسئلے حل ہو جایا کرتے تو اسلام کی تعلیمات تو صفر ہو کر رہ گئیں ۔ (نعوذ باللہ)

یہ بھی پڑھئے:   گداگری اور این جی اوز - منافع بخش کاروبار | انور عباس انور

اللہ کے کام اللہ جانے مگر میرا یہ ماننا ہے کہ یہ پیغامات آگے بھیجنے کے ساتھ ساتھ اگر ہم عملی طور پر بھی اللہ سے کام بنوانے کے لئے محنت کریں تو زیادہ بہتر ہے ۔  قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
"آپ کہہ دیں ہم تمہیں بتائیں جو لوگ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں؟وہ لوگ جن کی محنت دنیا کی زندگی میں ہی کھو گئی ، اور وہ سمجھتے رہے کہ یقیناً وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔” (سورۃ الکہف – آیت نمبر 104 – 103)

اللہ کا نام پھیلانے میں کوئی حرج نہیں لیکن قسم دینا، آگے بھیجنے پر خوشخبری کی نوید دینا ، آگے نہ بھیجنے پر نقصان کی وعید دینا ۔ یہ آپ کا کام نہیں اگر آپ ثواب کمانے کی نیت سے پیغام آگے بھیجتے ہیں تو ضرور بھیجیے مگر خدارا انسان بنے رہیئے ، خدا بننے کی کوشش مت کریئے ۔کس عمل پر ثواب دینا ہے کس عمل پر عذاب یہ اس مالکِ کائنات کا کام ہے آپ کا نہیں ۔ کچھ تو ایسے مہان لوگ ہیں کہ پیغام کے آخر پہ یہ بات ڈالنے کی بھی جرات کر لیتے ہیں کہ:

"اللہ فرماتا ہے جس نے مجھے لوگوں کے سامنے رد کیا اللہ اسے رد کر دے گا ۔” یہ کچھ ایسی بات ہے کہ ایک بار تو انسان لرز جاتا ہے کہ کہیں یہ پیغام آگے نہ بھیجا تو کہیں اللہ خفا نہ ہو جائے ۔ ایسے پیغامات ہمیں عملی طور پر اللہ کے قریب کرنے کی بجائے اکثر گمراہ کر دیتے ہیں اور ہم نماز پڑھنے جانے کی بجائے، کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کی بجائے ، کسی سے حسنِ سلوک کرنے کی بجائے ایک پیغام کی آس پہ بیٹھے رہ جاتے ہیں ۔ کام پورا ہو جائے تو یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ ایک پیغام آگے بھیج دینے سے اللہ خوش ہو جاتا ہے ۔ اور فرائض سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔

Views All Time
Views All Time
173
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: