Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بے ضمیری-بنتِ لیاقت

بے ضمیری-بنتِ لیاقت
Print Friendly, PDF & Email

"یار کیا ضرورت ہے مما کو بتانے کی بس کہہ دینا میری دوست نے دیا ہے ، پوچھیں گی بھی تو کسی دوست کا نام لے دینا ” میٹرو میں سوار ہوتے ہی کانوں میں ایک آواز پڑی ۔ چونکہ میٹرو میں عورتوں اور مردوں کے لئے الگ الگ پورشن نہیں بنے ہوئے اس لئے جہاں مردوں کے کھڑے ہونے کی جگہ شروع ہوتی ہے اور عورتوں کا پورشن ختم ہوتا ہے وہاں جگہ ملی ۔ اس آواز نے اپنی جانب متوجہ کیا تو ایک سرسری سی نظر پیچھے کھڑے لڑکے پر پڑی اس نے بات ہی ایسی کہہ دی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی دھیان اس طرف ہو گیا ۔ وہ لڑکا شاید کسی سے فون پر محوِ گفتگو تھا کیونکہ جواباً کسی کی آواز نہیں آئی تھی ۔ کال اگر بند ہو جاتی تو شاید دھیان ہٹ جاتا مگر وہ بھی شاید کال پیکج لگا کر فون کر رہا تھا ۔ خیر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کی طرف کان لگا دئیے ۔ یقیناً اس کی مخاطب ایک لڑکی ہی تھی ۔ جوں جوں بات آگے بڑھتی گئی میں شرم سے زمین میں گڑتی گئی ایسا نہیں تھا کہ وہ کوئی اخلاق سے گری بات کر رہا تھا لیکن وہ ایک لڑکی سے یوں سر عام ، پبلک میں اتنی بے باکی سے بات کر رہا تھا کہ اس کی بے باکی پر دل سے افسوس ہوا ۔ میرے ساتھ ایک خاتون کھڑی تھی جو عمر میں میری والدہ جتنی ہوں گی ۔ پہلے ان پر غور نہیں کر پائی لیکن جب ان پر نظر پڑی اور ذرا غور کیا تو احساس ہوا کہ وہ بھی شاید میرے والے حالات سے ہی گزر رہی ہیں ان کے چہرے پر نجانے کیا تھا کہ مجھے خوامخواہ شرمندگی ہونے لگی میرا دل چاہا کہ اس لڑکے کا موبائل پکڑ کر توڑ دوں یا اسے کہوں کہ تم ایک پبلک ٹرانسپورٹ میں ہو یہاں تمہاری ماں باپ کی عمر کے لوگ بھی ہیں جو تمہاری باتوں سے تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ یہ سوچ کر ہی میری روح کانپ گئی کہ یہ ماں باپ اس طرح ہمارے جوانوں کو دھڑلے سے اس طرح بے شرمی سے باتیں کرتے سنیں گے تو اپنی اولادوں کے بارے میں بھی شک و شبہات میں پڑ سکتے ہیں آخر وہ بھی تو اس صدی کے بچے ہیں ۔ لیکن اللہ ہر ایک کی عزت کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ پھر خیال آیاکہ یوں کسی کی باتیں نہیں سننی چاہیئے تو دھیان بٹانے کے لئے کانوں میں ہینڈز فری لگا لی تاکہ اس کی آواز نہ سنائی دے۔ ابھی موبائل پر کچھ لگایا نہیں تھا کہ ایک اور آواز نے اپنی جانب متوجہ کیا اس بار آنے والی آواز عورتوں کی سائیڈ سے تھی ۔ "یار ہمایوں سے آج میری لڑائی ہو گئی ، میں نے اس کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا ، اس نے مجھے ذلیل کرا دیا ” لہجے میں غم کے ساتھ ساتھ کچھ غصے کی جھلک بھی نمایاں تھی وہ کالج کی ایک لڑکی تھی نجانے کون سے کالج کی تھی لیکن شاید گریجویشن یا پھر انٹر کی طالبہ تھی۔ لڑکے کی بے باکی پر دل کیا کم غمگین تھا کہ ایک لڑکی نے بھی وہی حرکت کر دی دل اتنا دکھی ہو گیا کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ بے اختیار دل سے دعا نکلی کہ اللہ ہماری قوم کو ہدایت دے ۔ آج کل محبت کو لوگوں نے فیشن ہی بنا لیا ہے جس کی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ نہیں ہوتا لوگ اسے عجیب مخلوق سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔ ہاں کوئی پسند آ جاتا ہے ، دل میں کوئی گھر کر جاتا ہے اس پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا ، کوئی بلاوجہ اچھا لگنے لگتا ہے اس میں بھی کوئی قباحت نہیں بات تو یہاں آ کر بگڑتی ہے کہ ہم اپنی اس پسند کو کیسے اپناتے ہیں یا اس کو پانے کے لئے کیا کرتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کسی کا پسند آ جانا برا نہیں لیکن اس کے بعد آپ کیا راستہ چنتے ہیں وہ بات اہم ہے کیونکہ اس پر آپ کا اختیار ہے ۔ کیا آپ اسے عزت دیتے ہیں ؟ اسے عزت سے اپناتے ہیں؟ یا اس کی تذلیل کرتے ہیں سب کے سامنے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کوئی آپ کے بارے میں کیا سوچے گا ۔آج کل کا جو دور جا رہا ہے وہ دور ہی ایسا ہے کہ کوئی انسان اس سے ماورا نہیں المیہ تو یہ ہے کہ نوجوان نسل یہ اخلاقیات بھی بھلا بیٹھی ہے کہ کون سی بات کہاں اور کس کے سامنے کرنی ہے اور کہاں نہیں کرنی ۔ اب وہ لڑکا جو کال پر ایک لڑکی سے سر عام بات کرتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ کوئی اس لڑکی کو باکردار سمجھے گا؟ یا اس لڑکے کو با عزت ؟ جولڑکی سرِ عام اپنے دوست کے قصے سنا رہی ہو آپ کے خیال میں لوگوں کی اس کے بارے میں کیا رائے ہو گی ؟ ہاں ٹھیک ہے انسان دوستوں سے شیئر کر لیتا ہے اپنے دل کی بات لیکن صرف دوست سے نا کہ پوری عوام سے ۔ وہ کہیں اکیلے میں بھی اپنی دوست سے بات کر سکتی تھی ۔ میں میرے نوجوان بہن بھائیوں سے یہ نہیں کہتی کہ وہ محبت نہ کریں یا کسی کو پسند نہ کریں کیونکہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے لیکن خدارا اپنے ارد گرد کا ، اپنے ماحول کا خاص خیال رکھیں کہ کہیں آپ غیر اخلاقی حرکت کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ۔ کہیں آپ کی وجہ سے کوئی اذیت میں تو مبتلا نہیں ہو رہا؟ کہیں آپ ایسی بات تو نہیں کرنے جا رہے جو آپ کو پبلک میں نہیں کرنی چاہیئے ۔ میری اتنی گزارش ہے کہ دورانِ سفر ، یا کہیں راستے میں اپنے موبائلز پریا دوستوں سے اس طرح کی باتیں شیئر کرنے سے گریز کریں ۔ اور بہتر تو یہ ہے کہ آپ اپنی پریشانیاں اپنے اللہ سے شیئر کریں کیونکہ وہ انہیں سن کر زمانے میں ڈھنڈورا نہیں پیٹے گا وہ آپ کی پریشانی کو احسن طریقے سے دور کرے گا ۔ انشاء اللہ
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو آداب کا خیال رکھنے کی توفیق عطا کرے آمین!

Views All Time
Views All Time
698
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کوکا کولا کے 13 حیرت انگیز استعمال
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: