ماڈرن اِزم یا فحاشی – بنت لیاقت

Print Friendly, PDF & Email

آج ایک جگہ اقبال ؒ کا مندرجہ ذیل شعر پڑھا تو سوچ میں پڑ گئی کہ وہ کون سے جوان ہیں جن کی بابت علامہ اقبال اتنے پر یقین ہیں کہ اتنی بڑی بات کہہ دی۔
؎ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
آج کل تو جوانوں کی دو ہی اقسام ہیں ایک تو وہ جو سوشل میڈیا پر بہت ایکٹو ہیں اور عملی زندگی میں بہت پیچھے ، دوسرے وہ جن میں سوشل میڈیا کی برائی کے علاوہ شاید اس معاشرے کی ہر برائی موجود ہے ۔ 100 میں سے 80٪ جوان تو سوشل میڈیا پر اپنے دن رات سیاہ کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ۔ اس سوشل میڈیا نے جہاں دنیا پر ترقی کے نئے در وا کئے ہیں وہیں بے حیائی کو انتہا پر پہنچا دیا ہے ۔ آئے دن سچا پیار ہو جانا تو عام سی بات ہے ۔جہاں لڑکے لڑکیوں کو شیشے میں اتارنے کی ہر ممکن کوشش میں ہمہ تن مصروف نظر آتے ہیں وہاں لڑکیاں بھی کچھ کم نہیں وہ بھی” آ بیل مجھے مار "والی کہاوت کے مصداق اپنا وقار خود اپنے ہاتھوں مجروح کرنے میں کوشاں ہیں ۔ لڑکی ذات بنی ہی جذبات سے ہے بہت جلد باتوں میں آ جاتی ہے ، بہت جلد اعتبار کر لیتی ہے ۔ کوئی اس کے ساتھ ذرا سی ہمدردی کر دے تو اسی کو اپنا مسیحا سمجھ بیٹھتی ہے اور اسی بات کو اکثر جذبات فروش اوباش لڑکے اپنے گھناؤنے مقصد کے لئے بنیاد بناتے ہیں ۔ اس جذباتی پیار نے جوانوں کو اس قابل ہی کہاں چھوڑا ہے کہ وہ عقابی روح کا مطلب ہی سمجھ پائیں ۔ پچھلے دنوں ایک خبر پڑھی "فیس بک کی دوستی ، اعلی تعلیم یافتہ لڑکی زیادتی کے بعد قتل” یہ پڑھ کر ایک دفعہ تو روح کانپ گئی ۔ فیس بک جس کو ہم بے ضرر سمجھتے ہیں ، نامحرموں سے بات کرنا بالکل معیوب نہیں سمجھا جاتا ، غیر مہذب سمائلی ایموشنز کا بے دریغ بنا سوچے سمجھے استعمال کرنا اور پھر اسے برا نہ سمجھنا عام سی بات ہے ، اسی فیس بک نے نجانے کتنی لڑکیوں کی جان لی اور نجانے کتنی لڑکیاں مسلسل بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں، اور نہ جانے کتنے لڑکوں کو خود کشی پر اکسایا اور کتنے گھر اجاڑے کچھ اندازہ ہی نہیں ۔ تحریر پڑھنے والوں میں اکثر سوچ رہے ہوں گے کہ تحریر لکھنے والی تو جیسے فیس بک پر یہ سب کام نہیں کرتی ہو گی میں یہ اعتراف کرتی ہوں میں بھی انسان ہوں آپ ہی جیسے بہت سی غلطیاں کر جاتی ہوں یہ تحریر اوروں سے پہلے خود میرے اپنے لئے ہے ۔ اخبار پڑھو تو ہر ہر خبر پر دل کانپ جاتا ہے ، انسان نہ تو فرشتہ ہوتا ہے نہ جانور اس کے اندر اللہ نے خیر اور شر دونوں رکھے ہیں اگر وہ خیر کو بڑھا لے تو فرشتوں کی صفت حاصل کر لیتا ہے اگر شر کو بڑھا لے تو جانور بن جاتا ہے جبکہ خیر اور شر میں اعتدال ہی انسان کو انسان رکھتا ہے ۔ انسان فرشتوں سے عظیم ہے فرشتوں نے اللہ کے حکم پر ایک انسان کو سجدہ کیا ، جانوروں سے عظیم ہے کہ جانوروں کے پاس عقل نہیں ہے ۔ آج کل کے انسان میں شر اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ آٹھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے خوفِ خدا بھول جاتا ہے۔ انسان میں شر اتنا بڑھ گیا کہ ساٹھ سالہ بوڑھے نے پندرہ سالہ لڑکے کو دوستی سے انکار کرنے پر تیزاب ڈال کر جلا دیا۔ انسان میں شر اتنا پھیل گیا ہے کہ ایک خاتون ٹیچر کو زندہ جلا دیا جاتا ہے ۔ شر جتنا بھی بڑھ جائے لوٹ کر تو تمہیں اس خدا کے پاس ہی جانا ہے اسے کیا جواب دو گے۔
ایک آیت کا ترجمہ ہے:”تم بے جان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گاپھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔” ( البقرہ 2:28)
کہاں گئے اقبال کے شاہین؟ کہاں ہے وہ جوان جن میں عقابی روح بیدار ہونے کی ذرا جھلک بھی نظر آتی ہو۔ جہاں ہر گلی چوراہے سے لاشیں برآمد ہوں ، جگہ جگہ چور ڈاکو پل رہے ہوں ، عزتیں عصمتیں غیر محفوظ ہوں ، سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر تبصرے کرنے والے لوگ دوسروں کی گرل فرینڈ ہونے یا بوائے فرینڈ رکھنے کا طعنہ دینے والے ذرا خود پر نگاہ کریں تو وہ بھی اس معاشرتی برائی سے بچے ہوئے نہیں ہیں افسوس تو اسی بات کا ہے کہ ہم دوسروں کے لئے اس بات کو معیوب سمجھتے ہیں اور خود اپنے لئے اسے غلط نہیں سمجھتے اور سمجھتے بھی ہوں تو یہ کہہ کر دامن بچا جاتے ہیں کہ "مجھے ہو گیا تو کیا ہوا سب ہی پیار کرتے ہیں۔ ” جس معاشرے میں بھائی بہن، دیور بھابھی، نند بہنوئی جیسے مقدس رشتوں کا تقدس پامال خود اس رشتے کے محافظ ہی کر رہے ہوں وہاں کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے ہماری امت کو تباہ کرنے کی ۔
ایک اور آیت کا مفہوم کچھ یوں ہے: اور ہم نے ظالموں کو ڈھیل دے رکھی ہے۔ 
اللہ نے صرف ڈھیل دے رکھی ہے ، چھوڑ نہیں دیا جس دن پکڑ آ گئ اس دن اس کائنات میں کہیں پناہ نہیں ملے گی ۔ ہم آج جذبات کی رو میں بہہ کر پستیوں کے دلدل میں اتنا دھنس چکے ہیں کہ معیوب باتیں بھی بری نہیں لگتیں کیونکہ وہ باتیں اس معاشرے کا حصہ بن چکی ہیں اور بھئی جو چیز معاشرے کا حصہ بنا جائے وہ اچھی یا بری نہیں رہتی وہ تو فیشن بن جاتی ہےاور آج کل کے ماڈرن زمانے میں جو فیشن کو نہ اپنائے وہ دقیانوسی اور جاہل ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ اگر بے غیرتی کو چھوڑ کر عزت کو چن لینا جہالت ہے تو ہم جاہل ہی اچھے۔۔۔۔ اللہ اس امت محمدیہ ﷺ کو ہدایت اور توفیق دے اور وہ جذبہ دے جس کی بات اقبال نے اپنی شاعری میں جابجا کی ہے۔

Views All Time
Views All Time
826
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پیپر، سوال، بحث اور سوشل میڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: