کرپشن بڑے پیمانے پر – بنتِ لیاقت

Print Friendly, PDF & Email

wanehar-liaqatٹیلی ویژن چلایا ، ایک نیوز چینل وزیر اعظم کرپٹ ہے، دوسرا اپوزیشن بھی کرپٹ ہے، تیسرا وزراء کرپٹ ہیں ۔ غرض جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق ہر چینل اپنی اپنی کہنے میں مصروف ہے۔ میں نے بہت سوچا ، سمجھنے کی کوشش کی کہ کون صحیح کہہ رہا ہے اور کون غلط لیکن کسی کی بات بھی سمجھ میں نہیں آئی ہر کوئی دوسرے کی مٹی پلید کرنے میں لگا ہوا ہے جیسے اس کا دامن اس گندگی سے پاک ہو ۔ مجھے اس حکومت سے گلہ نہیں کہ وہ ہمارا حق مار رہے ہیں ، مجھے اپوزیشن سے بھی اُنس نہیں کہ وہ ہمارے حق کے لئے لڑ رہا ہے کیوں کہ کوئی کسی کے لئے نہیں لڑتا سب اپنے اپنے پیٹ کی آگ بجھانا چاہتے ہیں کیا گارنٹی ہے کہ آج ہمارے حق کی بات کرنے والا کل ہمارے حقوق ادا کر سکے گا؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں اگر کسی کے پاس اس کا جواب ہے تو بتائے ۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ حکومت نے بہت بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے اور حکومتی سپورٹر اپوزیشن کے خلاف یہی کچھ کہتے نظر آتے ہیں ۔ مگر میری نظر میں بڑے پیمانے کی کرپشن کی تعریف کچھ اور ہے ۔ کرپشن کا لفظی مطلب ہے خرابی اب وہ کسی بھی طبقے کے لوگ کر رہے ہوں کسی بھی ادارے کے لوگ کر رہے ہوں ۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں ۔ کرپشن کون کر رہا ہے؟
ریڑھی پر پھل بیچنے والا پھلوں کی پیٹی میں اوپر اوپر اچھے پھل رکھتا ہے اور نیچے گلے سڑے، تھوک کی دکانوں پر دکاندار خود سے ہر چیز اتنی مہنگی قیمت پر بیچ رہے ہیں ۔بارش کے وقت رکشہ ڈرائیور بھی کسی سے کم نہیں انہیں معلوم ہے کہ سواری نے تو ہر حال میں جانا ہی ہے جتنا ٹھگ سکتے ہیں ٹھگ لیں ۔ کلرک جب تک رشوت نہ لیں کام نہیں کرتے ، پوچھو کہ ایسے کیوں کرتے ہو تو جواب ملتا ہے جناب گزارا نہیں اس کے بغیر مہنگائی بہت ہے ، ارے جس سے رشوت لیتے ہو اسکے بارے میں کیا جانتے ہو کہ وہ بیچارا گھر کیسے چلاتا ہے ۔ کیونکہ امیر لوگ تو رشوت دیتے ہی نہیں وہ کسی نہ کسی بڑے افسر کی سفارش سے ہی کام نکلوا لیتے ہیں جن کو تم لوٹ رہے ہو وہ بھی تمہارے ہی جیسے طبقے کے لوگ ہیں ۔ غریب غریب کا پیٹ کاٹنے پر تلا ہوا ہے۔ کیا حکومت نے کہا ہے کہ رشوت لو؟
کیا حکومت نے کہا ہے کہ جن چیزوں پر وہ قابلِ برداشت قیمتیں کر رہے ہیں ان کی قیمتیں بڑھاؤ؟
کیا حکومت کہتی ہے کہ اپنے بھائی بندوں کا حق چھین لو؟
حکومت بھی اسی عوام کا ایک حصہ تھی جب اس نے حکومت سنبھا لی ،تو ظاہر ہے کہ حکومت بھی وہی کرتی ہے جو عوام کرتی ہے۔
ایک دانا کا قول ہے”جیسی عوام ویسے حکمران” اور یہ بالکل ٹھیک ہے ، عوام خود کو ٹھیک کرتی نہیں اور گلہ اس حکومت سے ، آج عمران خان کا ساتھ دینے والے کل اس کو بھی گالیاں دیں گےآج نواز کو گالیاں دینے والوں میں اکثر وہ ہیں جو نواز کے سپورٹر تھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کو ٹھیک کریں ۔ خود کو ایمان دار بنائیں حلال اور حرام کا فرق کرنا ہمارا فرض ہے حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ہمیں حرام سے روکے یا حلال کی ترغیب دے۔ جہاں پبلک کے لئے واٹر کولر لگے ہوں اور وہاں گلاس کو زنجیر سے باندھ کر رکھنا پڑے کہ کہیں چوری نہ ہو جائے۔
جہاں مائیں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے جاتے ہوئے بچوں سے کہیں کہ بیٹا نیا جوتا مت پہن کر جاؤ کوئی اٹھا کر لے جائے گا ۔ وہاں ہمیں حکومت سے زیادہ اپنے آپ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میں حکومت کی سپورٹر نہیں ہوں ، نہ ہی کسی اپوزیشن کی حمایتی میں تو بس ایک پاکستانی ہوں جسے اپنے پاکستان میں بڑھتی یہ معاشرتی بیماریاں پریشان کئے ہوئے ہیں کہ ہم کب خود کو ٹھیک کریں گے؟ آخر کب اپنی زبانوں کو دوسروں سے گلہ کرنے والی بنانے کی بجائے دوسروں کو معاف کرنے والی بنائیں گے؟ کب ہم دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں گے؟ آخر کب؟؟؟؟
 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Views All Time
Views All Time
267
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خواتین کا عالمی دن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: