غدار کون؟

Print Friendly, PDF & Email

ملک سے وفاداری کسی بھی شہری کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے ملک سے وفادار نہ ہو تو اس شخص کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ میرے خیال سے وطن عزیز میں غداری کے سب سے بڑے مرتکب اس ملک کے سیاست دان ہیں۔ آپ کسی بھی بڑے سیاست دان کا نام لے کر دیکھیں اگر یار لوگ ایک سیکنڈ سے پہلے اس کو غدار ثابت کر کے نہ دکھائیں تو پھر کہیے گا۔ تو بات ہو رہی تھی ملک سے غداری کی جو کہ سب ہی سیاست دان اپنے سیاسی کیرئیر میں کرتے نظر آئے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال مودی کے یار اور وطن عزیز کے حالیہ سب سے بڑے غدار میاں محمد نواز شریف کا ایک کمرشل لبرل صحافی سیرل المیڈا کو دیا جانے والا انٹرویو ہے۔ جس میں انہوں نے ممبئی حملوں کا الزام اپنے ہی ملک کو قرار دیا ہے۔ ایسے سطحی گھٹیا اور کوئی لفظ ہی نہیں جس میں اپنا غصہ بیان کر سکوں کہ اس الزام کی وجہ اب ملک کی بدنامی ہو گی۔ اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو گرفتار کر کے غداری کی سزا دی جائے جو کسی بھی طور سزائے موت سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ ریاست کو چاہیے کہ ایسے تمام غداروں کو ختم کر کے نئے محب الوطن بینڈ کو تشکیل دیا جائے۔۔

ابھی میں نواز شریف کے اس سطحی، گھٹیا بیان اور اس کے کم عقل ہونے کو کوس ہی رہا تھا کہ مجھے پتا چلا کہ یہ ساری باتیں تو پہلے ہی کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی پیرائے میں کہی گئیں ہیں۔ ان کو کہا بھی ایسے لوگوں نے کہ جس کا نام سن کر ہم کو اپنے محب الوطن ہونے پر تو شک ہو سکتا ہے لیکن ان پر کبھی نہیں ہو سکتا۔جب میں نے سنا کہ سابقہ آئی ایس چیف احمد شجاع پاشا نے کہا کہ ”لوگ ہمارے تھے لیکن آپریشن ہمارا نہیں تھا“ـ تو مجھے ہر گز یقین نہیں آیا کیونکہ یہ بیان ایک غدار حسین حقانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہوا تھا۔ پھر کہیں گزرتے گزرتے جنرل حمید گل کی ویڈیو سنی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کا یہ دعوی ٹھیک ہی ہے کہ ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ، کوئی اور مجاہدین بھی تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   ان بارشوں سے کہہ دو کہیں اور جا کے برسیں

ابھی یہ سنتے ہوئے گومگو کی حالت میں تھا کہ میرے سامنے پاکستان کے صدر اور جنرل رہ چکے جناب سید پرویز مشرف کا دنیا نیوز میں دیا انٹرویو آ گیا۔۔ اس انٹرویو کو بھارتی چینل این ڈی ٹی وی نے اس طرح رپورٹ کیاFormer Pakistan President Pervez Musharraf has admitted in an interview that Islamabad supported and trained groups like the Lashkar-e-Taiba (LeT) in the 1990s to carry out militancy in Kashmir. The former army chief has also said that Lashkar leaders like Hafiz Saeed and Zakiur Rehman Lakhvi enjoyed the status of heroes at that time۔جنرل پرویز مشرف بارے میں لکھا تھا کہ ہندوستان ٹائمز میں6 مارچ 2017 میں چھپا ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس آرٹیکل کا عنوان تھا Durrani says Mumbai attacks carried out by Pakistan group۔

جس میں انہوں نے پاکستانی آرمی کے اعلی عہدیدار جناب محمد علی درانی کو کوٹ کرتے ہوئے کچھ اس طرح لکھا ہوا تھا۔ Pakistan’s former top security official Mahmud Ali Durrani said on Monday that the 2008 Mumbai attack was a “classic example” of cross-border terrorism carried out by a Pakistan-based group, prompting a quick reaction from India that said there was nothing new in the claim. حالانکہ بعد میں درانی صاحب نے کچھ اس طرح بھی فرمایا تھا Addressing the 19th Asian Security Conference held at the Institute of Defence Studies and Analyses, Durrani, however, maintained that his government had no role in the terror strike that claimed the lives of 166 people, including many foreigners. Later talking to reporters, he said: “I know (this) for definite. I have very good information that the government of Pakistan or the ISI (Pakistan’s spy agency) was not involved in 26/11 (terror attack). I am 110% sure.”
لیکن اس کو وضاحت ہی سمجھا گیا۔ پھر Financial Times نے درانی صاحب کے بیان پر کچھ اس طرح شہ سرخی جمائی تھی۔ Pakistan’s biggest terror admission: Ex-NSA MA Durrani admits role in 26/11 Mumbai attacks۔

یہ بھی پڑھئے:   محبت فلرٹ اور عزتوں کی بربادی - افضال احمد

اسی دوران فروری 2009 میں الجزیرہ جیسے دو نمبر چینل پر رحمن ملک صاحب کے بارے میں ایک بیان پڑھا جس کی شہ سرخی تھی pakistan admits bomby attack اور خبر کا آغاز اس طرح تھا۔ Malik said that police had traced to Pakistan a boat engine used by the attackers, and infiltrated two hideouts of the suspected attackers in the country.یہ سب دیکھتے اور پڑھتے ہوئے مجھے تو سمجھ آتی ہے کہ کس کو غدار کہا جائے۔ اپنے ہاں غداری کا سرٹیفکیٹ دینے والے لوگوں کی بھر مار ہے۔ میں نہیں کہتا کہ آپ باقی لوگوں کو غدار کہیں لیکن اگر اپنی نفرت، تعصب اور نظریاتی اختلاف کو ایک جانب رکھ کر ان سب بیانات کو دیکھیں تو کم از کم آپ نواز شریف یا آئندہ اس مسئلے پر بیانات دینے والے کو غدار نہیں کہیں گے۔

Views All Time
Views All Time
790
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: