Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بچوں کی حفاظت کے لیے تدبیری ہدایات

by جنوری 12, 2018 کالم
بچوں کی حفاظت کے لیے تدبیری ہدایات
Print Friendly, PDF & Email

سیکس ایجوکیشن کا اگر ذکر کیا جائے تو کچھ احباب برا مان جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیکس ایجوکیشن سے مراد بچوں کو مباشرت تک کے معاملات سے آگاہی دینا ہوتا ہے۔ یا کچھ احباب یہ فرماتے ہیں کہ بچوں کو ایسی باتوں کے بارے میں بتا کر کیوں انجانے خوف میں مبتلا کیا جائے جس سے ان کی نفسیات پر اثر پڑے گا۔ چند احباب یورپین ممالک میں ہونے والے واقعات کے اعداد و شمار کے ذریعے یہ جتلانا چاہتے ہیں کہ تعلیم کی بجائے قوانین کو بہتر کرنا ضروری ہے۔ اگر ایک طرف سیکس ایجوکیشن کے باوجود وہاں ایسے کیسز بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں تو دوسری طرف وہاں چائلڈ ابیوز کی سزائیں بھی بہت سخت ہیں۔ تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا کہ ایسے سخت قوانین کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہے۔

میرے نزدیک قوانین کو سخت کرنا اور بچوں کو آگہی و شعور دینا دونوں نہایت ضروری ہیں۔ اول تو یہ کہنا چاہوں گا کہ چھوٹے بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم بچوں کو مباشرت کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں بلکہ سیکس ایجوکیشن سے مراد بچوں کو ان ابتدائی معلومات سے آگاہی دینا ہے جس سے ان کا روز مرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو جس قدر بچوں کے ساتھ ریپ یا زبردستی ہوتی ہے اس سے زیادہ بچے خاص کر چھوٹے لڑکے ابتدائی عمر میں اپنے ہم عمروں کے ساتھ اس غلطی کا شکار ہوتے ہیں۔ جب تک آپ ابتدائی عمر میں اس کے خطرات اور ضروری اقدامات کے بارے میں آگاہی نہیں دیں گے۔ وہ اس سب سے لاعلم رہ کر اپنی دنیا میں مگن رہیں گے۔ جہاں انہیں اس سب سے ایسی لذت حاصل ہوتی ہے جس کے اچھے یا برے ہونے کے بارے میں وہ مکمل آگاہ نہیں ہوتے۔ ہم چاہے والدین ہیں یا اساتذہ ہیں یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو ابتدائی باتوں سے آگاہ کرنا ہو گا۔ جن باتوں کو ہمیں بتانا ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں۔

1ـ سب سے پہلے بچے کو بتائیں کہ آپ کے جسم پر صرف آپ کا حق ہے۔ کسی اور شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی طرح آپ کے جسم کو ہاتھ لگائے۔

2- آپ بچوں کو ان کے پرائیویٹ پارٹس سے آگاہ کریں۔ آپ مختلف طریقوں میں سے جو بھی آپ کو مناسب لگے اپناتے ہوئے یہ بتائیں کہ جسم کے کن کن حصوں پر والدین کے علاوہ کسی اور کو چھونے کا حق نہیں ہے۔ یہاں آپ کو یہ مینشن کرنا ہو گا کہ جسم کے ان پرائیویٹ حصوں پر بہن بھائی یا قریبی دوستوں کو بھی چھونے کا حق نہیں ہے۔ اور مناسب لگے تو یہ بھی ضرور بتائیں کے بلاوجہ بچے خود بھی اپنے پرائیویٹ حصوں کو نہ چھوئیں حتی کہ زیادہ دیر تک ان حصوں کو دیکھیں بھی نہیں۔ اس سے بھی بچے کو بہت سی چیزوں سے روکنے میں مدد ملے گی۔ بعض کیسز میں بچے تنہائی میں اکیلے اپنے پرائیویٹ حصوں کو چھوتے ہیں۔ جس سے بچے کی اس میں دلچسپی بڑھتی ہے۔ لہذا احتیاط لازم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   زینب کا خط اپنے باپ امین کے نام

3۔ بچوں کو بتانا ہو گا کہ وہ کسی بھی انجان شخص سے گفٹ کی شکل میں کوئی بھی چیز نہیں لیں گے۔ اکثر لوگ بچوں کو پیسے یا کوئی میٹھی چیز دے کر چند منٹ اپنی گود میں بٹھا لیتے ہیں۔ آپ بچوں کو بتائیں کہ نہ صرف آپ نے کسی انجان شخص سے کوئی چیز نہیں لینی بلکہ اگر کوئی جاننے والا شخص بھی پیسے دے یا کوئی چیز لے کر دے تو انہیں ہر صورت گھر آ کر امی کو بتانا چاہئیے۔
4۔ بہت سے لوگ بچوں کو گلے لگاتے ہیں یا ان کی گالوں کو چومتے ہیں۔ بچوں کو بتانا ہے کہ وہ قریبی لوگ جو آپ کو اچھے لگتے ہیں اگر گلے لگاتے یا چومتے ہیں تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر گلے لگانے یا چومنے سے آپ کو ڈر محسوس ہو، آپ پریشان ہو جائیں اور آپ کو اچھا نہ لگے تو آپ گھر آ کر اپنی امی کو بتائیں اور آئندہ اس شخص کے پاس نہیں جائیں گے۔ بچے کو بتائیں کہ اگر آپ کوئی چھونے کے بعد کسی کو بتانے سے منع کرے تو اس کی بات ہرگز نہ مانیں۔ بغیر کسی خوف کے اپنے والدین کو بتائیں۔ یہاں والدین کا امتحان ہے کہ بچہ ان پر کتنا اعتبار کرتا ہے۔

5۔ بچے کو بتائیں کہ اگر اسے کوئی پرائیویٹ جگہ کو چھوئے اور اس کو اچھا نہ لگے وہ خوف محسوس کرے تو شور مچا دے۔ جلد از جلد قریبی جگہ پر پہنچ جائے یا کسی بڑے کے پاس بھاگ جائے۔ بچے کو اس کی پریکٹس کروائیں کہ اگر اس کو کسی کا چھونا خوفزدہ کر رہا ہے تو کس طرح چلانا ہے یا آس پاس لوگوں کو بلانا ہے۔

6۔ زیادہ تر دیکھنے میں آیا ہے کی بچے سہم جاتے ہیں۔ ڈر جاتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ کچھ بھی نہیں بتاتے اور کئی سال تک اس سب کا شکار رہتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ آپ کو بچوں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا انہیں یقین دلانا ہو گا کہ اگر وہ ہر بات بتائیں گے تو ان کو کوئی بھی شخص دوبارہ نقصان نہیں پہنچا سکے گا یا خود والدین اسے کچھ نہیں کہیں گے۔ بچوں کو بتائیں کہ اگر آپ کا کوئی قریبی بڑا آپ کی بات نہیں سن رہا یا یقین نہیں کر رہا تو اپنی امی کو بتائیں۔اگر امی آپ کا یقین نہیں کر رہیں یا بات نہیں سن رہیں تو ابو کو بتائیں یا اپنے استاد اور گھر میں کسی بڑے کو بتائیں۔

یہ بھی پڑھئے:   پھرے ہے پیرہنِ سوگوار میں قاتل

7۔ آخر میں اگر بچہ آپ کے پاس آئے تو آپ کو غصہ میں اسے ڈانٹنا یا مارنا نہیں بلکہ بچے کو ہر دفعہ یہ یقین دلانا ہو گا کہ کسی کا آپ کے پرائیویٹ حصوں کو چھونا یا باڈی رولز کو توڑنا آپ کی غلطی نہیں ہے بلکہ یہ چھونے والے شخص کی غلطی ہے۔ اور آپ سب کچھ ٹھیک کر لیں گے۔ یہ چند ایسی احتیاطی تدابیر ہیں جو والدین کو چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کو ضرور بتائیں۔ اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری اور اہم بچے کا آپ پر یقین اور اعتماد کا ہونا ہے۔ ورنہ اگر بچہ آپ سے ہی خوفزدہ رہے گا تو وہ کبھی بھی آپ کو کچھ بھی نہیں بتائے گا اور سالوں تک ایسے ظلم کا شکار ہوتا رہے گا۔ بچوں خاص طور پر لڑکوں کو تنہائی میں یا اکیلے کمرے میں کھیلنے کی بجائے انہیں اپنے سامنے کھیلنے کا کہیں یا پھر گاہے بگاہے دس پندرہ منٹ بعد کمرے میں جا کر ضرور دیکھ لیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں والی اقدار اور روایات اب ختم ہو گئی ہیں۔ اپنے بچوں کی حفاظت کرنا آپ کا فرض ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اوپر لکھی تدابیر میں معیوب ہیں۔ کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ شعور و آگاہی کے لیے آواز اٹھائیں اس سے پہلے کے آپ کی زینب یا آپ کا فیضان اٹھا لیا جائے۔

Views All Time
Views All Time
316
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: