ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آج دو ایسے واقعات ایک ساتھ ایسے ہوئے ہیں یوں لگتا ہے کہ آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لمبی لمبی تحریریں لکھی جائیں یا پھر عوام کو جھنجھوڑنے کے لیے آپ نوحے لکھیں۔ اس سب کا وقتی اثر تو ہو سکتا ہے لیکن کسی دیر پا اثر سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کرنے والا جو کام ہے اس میں پہلے تو والدین کو اپنے بچوں کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا۔ خدارا اب اس ڈرامے بازی سے باہر آ جائیں کہ آپ کو ہمیشہ بچوں کو شیر والی آنکھ سے دیکھنا چاہئیے۔ بچے سے ہنس کر بولنا آپ کے لیے گناہ ہو۔

خدارا آپ غور کریں تمیز یہ ہرگز نہیں ہے کہ جب آپ گھر آئیں تو آپ کے بچے بولیں نہیں یا کھیلیں کودیں نہیں بس خاموشی سے کسی کونے میں بیٹھ جائیں۔ بلکہ اب آپ کو بچوں کا دوست بنانا ہو گا۔ آپ کو اپنے بچوں کو سمجھنا ہو گا۔ بچے کے جسمانی اور نفسیانی مسائل کو سمجھنا ہو گا۔ ان کو سننا ہو گا۔ آپ کو ہر ممکن کوشش کرنی ہو گی کہ بچہ آپ پر اور صرف آپ پر ہی اعتماد کرے۔ آپ کو کچھ بتاتے ہوئے ڈرے نہیں ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو۔ آپ کو سیکس ایجوکیشن کی تعلیم اپنے بچوں کو دینی ہو گی۔

کم از کم الفاظ میں انہیں good touch، bad touch سے آگاہ کرنا ہو گا۔ اب آپ کو دونمبر چچا ماموں اور کزنز مطلب کہ دور کے چاچوں ماموں جیسا کہ آپ کا کوئی کزن دوست یا کوئی محلے دار ہے ان سب کے ساتھ اپنے بچوں کو کہیں اکیلا ان کے گھر اسکول یا کسی اور جگہ بھیجنے سے ہر ممکن حد تک اجتناب کریں ۔ آپ کا دیا ہوا اعتماد ہی بچے کو بولنے کے قابل بنائے گا۔ ورنہ آپ کا بچہ یہ سب سہتا ہوا کسی درندے کے ہاتھوں مرا نہ بھی تو نفسیاتی مریض ضرور بن جاۓ گا۔ آپ کو یہ سب دو سال کی عمر میں بتانا شروع کرنا ہو گا تا کہ وہ ابتدائی عمر میں اچھے برے ٹچ سے آگاہ ہو جائے۔

یہ بھی پڑھئے:   گیارہ سالہ حبیب اللہ نے خودکشی کیوں کی؟

یہ سب سے پہلے آپ والدین کا فرض ہے۔ پھر اگر آپ استاد ہیں تو یہ آپ کا بھی فرض ہے کہ بچوں کو اس سب سے آگاہ کریں۔ بچوں کے والدین کیا ری ایکشن دیں گے ڈریں نہیں بلکہ ان کو سمجھائیں اور اس کی ضرورت سے آگاہ کریں۔ وہ کم علم ہوں گے۔ آپ سے کچھ سختی سے بات کریں گے لیکن وہ اتنے بے حس نہیں ہوں گے کہ وہ اپنے بچوں کو مرتا اور نفسیاتی مریض بنتا دیکھیں۔ آپ گوگل سے ویڈیوز ڈاؤنلوڈ کر لیں۔ اب تو حکومت نے آپ سب کو ٹیب دیا ہے اس کا استعمال کر لیں۔ اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ زیادہ تر وہ لوگ اس میں انوالو ہوتے ہیں جن کی اپنی زندگیاں اسی دشت میں گزرتی ہیں۔ اگر آپ نے اب بھی اسٹینڈ نا لیا تو پھر کل کو یہ سب آپ کی دہلیز تک پہنچ جاۓ گا۔ بلکہ رکیے کیا پتہ یہ سب آپ کے بچوں کے ساتھ ہو رہا ہو یا ہو چکا ہو اور آپ اس سے آگاہ ہی نہ ہوں۔

پہلے اپنا فرض ادا کریں پھر حکومت یا کسی ریاستی ادارے سے مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے آواز بلند کریں۔ لیکن خدارا وہاں اپنی سیاست نہ چمکائیں۔ پر امن احتجاج اس احتجاج سے بہتر ہے جس میں گاڑیوں کو یا دیگر املاک کو آگ جلایا جائے یا اپنے فرائض انجام دینے والے پولیس والوں کو مارا جائے۔ معاملہ ٹھیک ہونے کے بجائے بگڑ جاۓ گا۔ یہاں ہم جیسے غریبوں کی نہیں سنی جاتی۔ قانون حکومت اور اشرافیہ سے کچھ امید رکھنے کی بجائے اپنا فرض ادا کریں اپنے بچوں کو پیار دیں ان کو اعتماد دیں کہ وہ آپ سے اپنی باتیں شیئر کر سکیں۔۔۔ ورنہ یہ رونا دھونا ہر روز لگا رہے گا کبھی آپ سوشل میڈیا پر مہم چلائیں گے اور کبھی آپ کو خبر بھی نہ ہو گی۔

Views All Time
Views All Time
351
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: