Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ریمنڈ ڈیوس کہانی کا عدالتی منظر| ترجمہ بلال حسن بھٹی

by جولائی 9, 2017 تراجم
ریمنڈ ڈیوس کہانی کا عدالتی منظر| ترجمہ بلال حسن بھٹی
Print Friendly, PDF & Email

رپورٹروں کو کورٹ روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی لیکن الفاظ پھر بھی تیزی سے باہر پہنچ رہے تھے۔ وہ آرٹیکل لکھنے میں جلدی کر رہے تھے کہ کس طرح میں پھانسی سے ایک قدم دور رہ گیا ہوں۔ لیکن وہ جو اپنا مضمون لکھ چکے تھے زیادہ جلدی میں تھے کیونکہ کہانی ابھی تک واضح نہیں ہوئی تھی۔ مجھ پر بھی یہ اس وقت واضح ہوا جب جج نے تمام غیر متعلقہ لوگوں کو کورٹ روم سے نکال دیا ۔
جن لوگوں کو رکنے دیا گیا ان لوگوں میں جنرل پاشا تھا۔ جو لگاتار میسجز کے ذریعے سفیر مینٹر کو کورٹ روم کی کاروائی سے آگاہ کر رہا تھا۔ تب اس کا نام میرے ذہن میں تو تھا لیکن مجھے یاد نہیں آ رہا تھا۔ جیسے ہی یہ آدمی کورٹ روم میں داخل ہوا کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کوئی ایک لفظ بھی نہ بولا۔ اکر کسی موبائل کی گھنٹی بجتی تو وہ اپنی سیٹ سے اُٹھ کر سائیڈ پر جاتا اور جواب دیتا۔ وہاں صرف پنکھے کے چلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس کے آنے سے لوگوں کا رویہ عجیب لیکن پرانا جانا پہچانا سا ہو گیا تھا۔
کارمیلا اور میری اٹارنی کی ٹیم جنگلے کے بالکل سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے آگے جھک کر پال کی توجہ حاصل کی اور سوٹ والے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے؟۔ وہ؟ وہ آئی ایس آئی کا کلونیل ہے۔ کیوں؟۔ میں نے سر ہلایا "ہاں مجھے بھی ایسا لگا تھا۔ اس نے واقعے کے روز کینٹ اسٹیشن پر مجھ سے سوالات پوچھے تھے۔ مجھے تبھی ایسا لگا کہ وہ آئی ایس آئی کا بندہ ہے”۔ وہ یہاں کیوں آیا ہے؟۔ یہ فکسر ہے۔ اس کا کیا مطلب؟۔ "مجھے کہنے دو اس کا یہاں ہونا بہت اچھا ہے”۔ ٹھنڈی سانس لیتے پال نے کہا یا "پھر بہت برا”۔ ہو سکتا ہے اس وقت میرے تجربات نے میری سوچ کو آغوش میں لے لیا تھا یا میں تب بھی کافی کے ان دو مگوں کے نشے میں ہوں جو میں نے پہلے پیئے تھے۔ جو بھی وجوہات تھیں لیکن میں اپنی حالت کو نارمل کرنے کے لیے مسکرا نہ سکا۔ "ٹھیک” میں نے دانت پیستے ہوئے پال سے کہا کہ "آپشن نمبر ایک پر امید رکھتے ہیں”۔
پاکستان میں قتل کے ٹرائل کا ملزم ہونا کیسا لگتا ہے؟ یہ مجھے وہ وقت یاد دلاتا ہے جب میں نے پہلی بار جہاز سے چھلانگ لگائی تھی۔ دونوں تجربات بہت خوفزدہ کر دینے والے تھے۔ لیکن اس وقت میرا خوف بڑھتا جا رہا تھا۔
جیسے ہی وکیل نے آہستہ آواز اور اردو میں کیس پر بات کرنا شروع کی تو مجھے اپنے رویے پر حیرانی ہوئی۔ عام حالات میں انہیں روکتا اور انگلش میں اونچا بولنے کے لئے کہتا لیکن اس بار میں خاموش رہا۔ اب میرے پاس وکیلوں کی ایک ٹیم تھی اور یہ اُن کا کام تھا۔ اس وقت بھی جب پال وکیلوں کے گروپ کو دھکیلتا اور دوڑتا ہوا مجھ تک تازہ ترین خبرپہنچا رہا تھا تو میں خوش تھا۔ "پلان بدل دیا گیا ہے”۔ اس نے اپنی سانس بحال کرتے ہوئے بتایا۔ "جج نے کیس کو شریعت کورٹ میں بھیج دیا ہے”۔
پہلے جھٹکے پر قابو پاتے ہوئے میرے ذہن میں بہت سی تصویریں چلنا شروع ہو گئی تھیں جن میں کوئی بھی اچھی نہ تھی۔ کوڑے مارنا، قطع و برد ( جسمانی اعضا کاٹنا) کرنا، پتھر مار کر قتل کرنا، گردن کاٹنا، سولی پر چڑھانا، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ میں شریعت کورٹ سے غیر متعصب فیصلہ حاصل کر سکتا۔ یہ نا انصافی سے بھی بڑھ کر تھا۔ میں غصے میں تھا لیکن خوف زدہ بھی تھا۔اس سے پہلے کہ کچھ کہتا پال واپس وکیلوں کی طرف بھاگ گیا۔
تب کارمیلا جو کہ پورے کیس کے دوران میرے ساتھ ہی رہی تھی۔ اس نے بتایا "ارے۔ یہ قصاص ہے۔ شریعت لاء  دیت کی بھی اجازت دیتا ہے۔ جو مقتولوں کے خاندان قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں”۔ میں ان کے منہ سے نکلتے الفاظ سن رہا تھا۔
قصاص؟۔ دیت؟
"قصاص کا مطلب ہے آنکھ کے بدلے آنکھ، سزا بھی جرم کے مطابق ہوتی ہے۔ وہ جو قتل کا مجرم ہے قتل کیا جاتا ہے”۔ مجھے لگا یہی میری قسمت ہے۔ ایک امریکی جاسوس ہوتے ہوئے میں اچھے کی توقع کیسے کر سکتا ہوں؟۔ جو مذہبی شدت پسند گلیوں میں احتجاج کر رہے تھے وہ مجھے مردہ دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ آنکھ کے بدلے آنکھ چاہتے تھے۔ وہ قصاص کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے تھے۔
کارمیلا نے میری آنکھوں میں خوف دیکھتے ہی تیزی سے آگے بتانا شروع کیا۔ ” وہاں دیت بھی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ خون کی قیمت ادا کر دی جائے۔ اس کیس میں بھی مقتولین کے خاندانوں کو پیسے دیئے جائیں گے اور تم رہا ہو جاؤ گے۔ ارے تم رہا ہونے جا رہے ہو”۔
مجھے یہ سننے کی توقع نہ تھی ۔ میں رہا ہونے جا رہا ہوں! میں رہا ہونے جا رہا ہوں؟۔ ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ امریکی باشندہ ہونے کی وجہ سے مجھے کئی بار امید دلائی گئی تھی لیکن میں اب بھی چوکنا تھا۔ جب تک میرے قدم امریکی زمین پر نہیں پڑتے میں جشن منانا نہیں چاہتا تھا۔ جیسا کہ کارمیلا بتا رہی تھی۔ مجھے لگا کہ میری رہائی خریدی جا رہی ہے اور مجھے یہ سب اچھا نہیں لگا۔
"ہمیں رہائی کے لیے پیسے نہیں دینے چاہییں۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا”۔
"نہیں، ارے، تم سمجھ نہیں رہے۔ بس اسی طریقے سے ہم تمہیں یہاں سے باہر نکال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی طریقے سے بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ہم تمام ممکنہ حل دیکھ کر آخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ یہ سب سے بہترین ڈیل ہے جو تم حاصل کرنے جا رہے ہو۔ تمہیں اسے قبول کرنا ہو گا۔ ہمیں یہ قبول کرنا ہو گا”۔
اگر یہ بات کوئی اور کہتا تو میں اسکے ساتھ بحث ضرور کرتا لیکن میں کارمیلا پر اعتماد کرتا تھا۔ اگر وہ کہہ رہی تھی کہ ہمیں یہ ڈیل قبول کرنی ہے۔ تو پھر میں ایسا ہی کرنے جا رہا تھا۔ ” ٹھیک ہے، میں تمام حق تمہیں دیتا ہوں، جاؤ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے جو کرنا چاہتی ہو کرو”
میں نے کچھ سکون محسوس کیا۔ لیکن زیادہ نہیں کیونکہ میں اس سب کاروائی سے نا آشنا تھا۔ یہ سلسلہ تب ٹوٹا جب جج نے باہر بیٹھے مقتولوں کے ورثا کو اندر بلایا۔ جو چند لوگ کورٹ روم میں تھے۔ انہوں نے اپنے سر موڑ کر سرگوشیاں شروع کر دیں۔ جیسے ہی کورٹ روم کا دروازہ کھلا تو جن دو لڑکوں کو میں نے قتل کیا تھا۔ ان کے اٹھارہ رشتہ دار ایک ایک کر کے اندر داخل ہونے لگے اور قطار بنا کر دیوار کے قریب کھڑے ہو گئے۔ سپاہیوں کی ایک قطار جنگلے کے سامنے تھی جس وجہ سے نہ میں اُنہیں اور نہ ہی ورثا مجھے دیکھ سکتے تھے۔
میں نے کارمیلا کی طرف دیکھتے یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔ اپنے ہونٹ دانتوں میں دبائے وہ پریشان کھڑی تھی۔
"کارمیلا کیا ہوا”؟۔
"ہمیں ان سب کو اس معاہدے کے لئے راضی کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی ایک بھی انکار کر دے تو تمام معاملات ناکام ہو جائیں گے”۔ اس نے ان دو خاندانوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ "عورتیں خوش نظر نہیں آ رہیں”۔
جب دیت جیسی چیرٹی کا قصاص سے تقابل کیا جائے تو اس میں بہت تضاد نظر آتا ہے۔ اکثر یہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ بنیاد پرست مسلمان یہ مانتے ہیں کہ گھریلو عزت کو داؤ پر لگانے والے کا قتل اور خصوصاً وہ عورت جس کا کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلق ہو اس کا قتل گھر کی عزت کو بحال کرتا ہے۔ اس طرح ہر سال ہزار سے زیادہ عورتیں پاکستان میں قتل ہوتی ہیں۔
اپنی رہائی کے لئے ایسے قانون پر اعتماد کرنا میری پہلی ترجیح نہیں تھی۔ ایک ایسے شخص کے لئے جس کی روایات میں ریاست اور چرچ جدا ہیں۔ شریعہ لاء اس روایات سے بالکل مختلف تھا۔ کارمیلا نے واضح کر دیا تھا کہ مجھے اس معاملے میں کچھ بھی نہیں کہنا۔
بعد میں مجھے پتا چلا کہ یہ سارا منصوبہ کئی ہفتوں پہلے بنا تھا۔ کچھ رپورٹس اس کو چار ہفتے قبل جان کیری کی امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے ساتھ ملاقات سے جوڑتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جنرل پاشا اور منٹر کی ملاقات پر طے ہوا تھا۔ افواہیں یہ بھی ہیں کہ پاکستانی فوج کا بھی اس میں ہاتھ تھا۔ اسی طرح صدر زرداری اور نواز شریف کا بھی ذکر ہوتا ہے۔جیسے ہی پیٹر ٹریسر کو میرا قانونی کونسل منتحب کیا اس نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ بخاری کا بھی نام آتا ہے۔ لیکن آخر میں کسی ایک شخص کو اس منصوبے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک گروپ کی کوشش تھی۔ اس منصوبے میں شامل تمام لوگ یہ جانتے تھے کہ سفارتی بحران سے بچنے کے لئے یہ منصوبہ سب سے بہترین ہے۔ میرے علاوہ سب اس سے آگاہ تھے۔مجھے آخری لمحے تک اس سب سے بے خبر رکھا گیا۔
جب منصوبہ بن گیا تو اب اس پر عمل کروانا آئی ایس آئی کا کام تھا۔ لیکن ایک آفیسر مجھے گھر تک پہنچانے کے لئے سب سے زیادہ خوش اور تیز تھا۔ اسی وقت پاشا نے یقین دہانی کروائی کہ معاہدہ کامیاب ہو گیا ہے۔ وہ اٹھارہ مارچ کو ریٹائر ہونے والا تھا، اِسے وہ سب دیا گیا جو اُس نے مانگا اُسے ایک سال کی توسیع مل گئی۔ وہی وکیل منظور بٹ کو تبدیل کرنے کا ذمہ دار تھا۔ کیونکہ اس کا نظریاتی تعلق بنیاد پرست اسلامی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی سے تھا، اس کے مقابلے میں راجہ ارشاد کسی مذہبی گروپ سے زیادہ آئی ایس آئی کا مرہون منت تھا۔
منصوبے پر عمل کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے دونوں خاندان کے اٹھارہ افراد پر ہر ممکن طریقے سے دباؤ ڈالا کہ وہ دیت قبول کر لیں۔ وکیل اعجاز بٹ کی مدد سے ان میں سے کچھ لوگوں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان میں سے ایک محمد فہیم کا بھائی وسیم تھا۔ اسلامی سیاست دانوں نے اُس کے گھر آ کر دیت کی بجائے انصاف لینے کے لئے ابھارا جس کی وجہ سے وہ کئی ہفتے دیت لینے پر راضی نہ ہوا۔
دوسرا شخص جس نے اختلاف کیا وہ مشہود الرحمان تھا۔ جس کے بھائی نے لندن سے قانون کی ڈگری لی تھی اور مجھے بچانے کے لئے آنے والی سیکیورٹی کی کار سےٹکرانے کی وجہ سے مرا تھا۔
"میں سیدھے سیدھے رقم نہیں لوں گا”۔ اس نے ٹرائل کے دِنوں میں کہا "یہ میرے خاندان کی عزت کا سوال ہے۔ پہلے ہمیں انصاف ملنا چاہیے”
دونوں خاندانوں کو ریڈیکل اسلامسٹوں سے دور کرنے اور اسلامسٹ ایجنڈے پر چلنے والے وکیل کی سرگوشیوں سے بچانے کے لئے آئی ایس آئی نے موثر کاروائی کی اور 14 مارچ کو مداخلت کرتے ہوئے تمام اٹھارہ افراد کو الگ الگ حراست میں لے لیا۔ کاروائی کے دو دن پہلے 16 مارچ جو کہ میری قسمت کے فیصلے کا دن تھا۔ اس موقع پر ان سے فون پر رابطہ بھی نا ممکن بنا دیا اور ان کے ہمسائے کہہ رہے تھے کہ وہ غائب ہو گئے۔
16 مارچ سے ایک رات قبل آئی ایس آئی ایجنٹ نے تمام لوگوں کو کوٹ لکھپت لے جا کر ڈیل قبول کرنے پر مجبور کیا۔ اگر وہ مجھے معاف کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو انکو خطیر رقم دی جائے گی۔ اگر وہ متفق نہ ہوئے تو پھر ان کو نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے ، جو کہ اگلی صبح ان کو کورٹ روم سے باہر گھنٹوں گن پوائنٹ پر رکھ کر بتایا گیا اور تنبیہہ کی گئی کہ میڈیا کے سامنے ایک لفظ بھی نہ بولا جائے۔ اس صبح جب بٹ جیل میں پہنچا تو اسکے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا۔ بعد میں اس نے بی بی سی کو بتایا کہ "مجھے کیس کی پروسیڈنگ نہیں کرنے دی گئی تھی اور نہ ہی اپنے کلائنٹ تک رسائی دی گئی تھی۔ مجھے اور میری اسسٹنٹ کو چار گھنٹے حراست میں رکھا گیا”۔
ان میں سے بہت سے معاف کرنے کے لئے تیار نہیں تھے جو کہ 16 مارچ کے دن ان کے چہروں سے ظاہر ہو رہا تھا، جیسا کہ کارمیلا نے کہا تھا عورتوں کو راضی کرنا سب سے مشکل تھا۔ کچھ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور کچھ سسکیاں لے کر رو رہی تھیں۔ ان کے وکیل ارشاد نے جج کے سامنے دستخط شدہ دستاویزات پیش کر دیں جس کے مطابق کاغذات پر محمد فہیم اور فیضان حیدر کے خاندانوں کے تمام افراد مجھے معاف کرنے اور دیت قبول کرنے پر رضا مند ہو گئے تھے۔ جج نے تمام رشتہ داروں کو اپنی شناخت کے لئے کاغذات جمع کروانے کو کہا اور پھر سب کو ایک ایک کر کے 130000$ انفرادی اور مجموعی طور پر 2340000$ دیئے جو پاکستان میں اب تک کی سب سے زیادہ دی جانے والی دیت تھی۔
جیسا کہ کورٹ کی ساری کاروائی اردو میں ہوئی تھی اس لئے مجھے بیش تر باتیں سمجھ میں نہیں آئیں کہ کیا ہو رہا تھا۔ خوش قسمتی سے کارمیلا وہاں موجود تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ ” سب نے دیت قبول کر لی ہے، تم اب یہاں سے نکلنے والے ہو”۔
واقعی؟ کب؟۔
"جیسے ہی یہاں معاملہ ختم ہوتا ہے تو باہر گاڑی کھڑی تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ ڈیل ائیرپورٹ تک تمہارے ساتھ جا رہا ہے۔ پہلے تمہارا میڈیکل چیک اپ ہو گا۔ پھر تم جہاز میں بیٹھ کر گھر چلے جاؤ گے”۔
لیکن جس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میں واقعی رہا ہو رہا ہوں اور یہ کوئی ظالمانہ مذاق نہیں ہے۔ تب میں نے جھک کر اپنے تمام خوشی،غم، دکھ اور ڈر سے ملے جلے جذبات کو بہہ جانے دیا۔ چوں کہ میں اپنے پیشے اور جسمانی طور پر مضبوط شخص نظر آتا تھا لیکن اپنی زندگی کے پریشان کن اور زخم خوردہ لمحے میں وہ سب کچھ بھول گیا، اب میں ایک ایسا خاوند اور والد تھا جو گھر جانے کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا تھا اور پھر میں رویا اور بچوں کی طرح روتا رہا۔

Views All Time
Views All Time
672
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سادہ لوح ماں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: