Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بھاگ بھری ناول

Print Friendly, PDF & Email

ناول کا پہلا حصہ تفصیلی طور پر برصغیر میں پائی جانے والی شدت پسندی کی تاریخ کو عیاں کرتا ہوا نظر آتا ہے۔جہاں آپ ایک طرف غریبوں کا استحصال، بے بسی اور سادگی دیکھتے ہیں تو دوسری طرف امیروں کا غیض و غضب، کینہ اور تکبر دیکھتے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں مرکزی کرداروں کا تعارف کروانا چاہوں گا۔ بھاگ بھری: ناول کی ہیروئن ہے۔ جس کے گرد ساری کہانی بُنی گئی۔ اسے باپ مرنے کے بعد اس کا قرض ادا کرنے کے لیے ایک وڈیرے حیدر شاہ کے ہاں کام کرنا پڑتا ہے۔ جہاں وہ اس کے چھوٹے بھائی جعفر کی ہوس کا نشانہ بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ ساون کے مہینے میں ایک بیٹے کو جنم دیتی ہے۔ جس کا نام ساون رکھتی ہے۔ ساون کے گھر سے بھاگ جانے کے بعد وہ وڈیرے کے ہاں کام کرتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کا بیٹا ساون اسے وڈیرے کی قید سے چھڑوا کر لے جاتا ہے۔ لیکن مدرسے میں اسے بہت مشکل دن دیکھنے پڑتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سیلاب اور خشک سالی کے دونوں حصوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہے۔ بھاگ بھری صحیح معنوں میں ایک زندہ دیہاتی کردار ہے۔ جو مشکل ناموں، مشکل اصطلاحوں کو سمجھنے میں اکتاہٹ محسوس کرتی ہے لیکن انسانیت کا سبق کسی پڑھے لکھے انسان سے بھی بڑھ کر سمجھتی ہے۔ وہ دیہاتی دانش کا مجسم نمونہ ہے۔

ساون: ناول کا ہیرو اور بھاگ بھری کا بیٹا ہے۔ زیدی صاحب نے شدت پسندی کی پوری تصویر ساون کے کردار میں سمو کر رکھ دی ہے۔ ساون ایک بھوکے غریب بچے سے ایک طاقتور خالد خراسانی اور جہاد اسلام کا کمانڈر بننے تک کشمیر، افغانستان اور انڈیا میں کاروائی کرنے کے علاوہ شیعہ کافروں کو قتل کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ ساون کے کردار میں جہادی برین واشنگ کا کردار دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح آخری دم تک ساون یہی سمجھتا رہا کہ انقلاب آ کر رہے گا اور غزوہ ہند ایک حقیت ہے۔ قاری صاحب: قاری صاحب اسی، نوے اور دو ہزار کی دہائی میں تکفیری آئیڈیالوجی رکھنے والے مدارس کے سرکردہ کی حثیت میں ایک ایسا بیک وقت طاقتور اور کمزور کردار ہے۔ جسے ریاستی ادارے کی پشت پناہی حاصل ہوتے ہی وہ کیا اس کے ماتحت کمانڈر بھی اپنے علاقے کے بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں۔ لیکن9/11 کے بعد وہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ملا عمر کی حکومت ختم ہونے کے بعد مدرسے پر اسکی گرفت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور اسے ملا سواتی کنٹرول کر لیتا ہے۔ قاری صاحب اس قدر محب وطن ہیں کہ انہوں نے چاروں صوبوں سے ایک ایک بیوی رکھی ہے جو بقول کرنل صاحب کے ان کی پاکستانی دوستی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

ملا سواتی: ملا سواتی مدارس کے ایک ٹپکل مولوی کی طرح ہے جو غیض و غضب سے بھرا ہوا اورنفرت کی ایک زندہ مثال ہے۔ کینہ اس قدر کے اسلامی تعلیمات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے اور انتقام لینے کے لیے ہر حد پار کر سکتا ہے۔ حیدر شاہ: ایک بہت بڑا سندھی جاگیردار ہے۔ جو لوگوں پر ظالم کرتے ہوئے اُن سے غیر انسانی سلوک کرنے سے بھی نہیں جھجھکتا۔ وہ تب تک جاہ وجلال کی ایک خوفناک مثال بنا رہتا ہے۔ جب تک اس کو خالد خراسانی جیسے ایک طاقتور جہادی سے واسطہ نہیں پڑتا۔

کرنل صاحب: ریاستی ادارے کا ایک ایسا افسر جو ریاستی پالیسی کے مطابق ابتدائی طور پر تو جہاد افغانستان کی پشت پناہی کرتا ہے اور خود بھی کرنل سے برگیڈئیر اور پھر جنرل کے عہدے تک پہنچ جاتے ہے۔ جسے طاقت کا نشہ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو قتل کر کے ایٹم بمب کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن وہ یک دم کہاں غائب ہو جاتے ہے یہ ناول نگار کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا۔ عصمت اللہ معاویہ: معاویہ ایک ایسا کردار جو ناول کے آخری حصے میں سامنے آتا ہے لیکن ایک بھرپور اور مکمل کردار ہے۔ جو ایک پنجاب طالبانوں اور تحریک طالبان پنجاب کے کام اور نفسیات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ تو دوسری طرف ساون کے جہادی دور کے تمام تصورات اور نظریات کو جھٹلاتا ہوا ایک سدھرا ہوا یا اصلاح یافتہ جہادی کردار بن کر سامنے آتا ہے۔

سوامی: سوامی ہندوستان کا ایک ایسا نفرت بھرا کردار ہے جو اپنی سیاست چمکانے کے لیے ہندووں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارتا ہے۔ اس کی شعلہ بیاں تقریر ہندووں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایسے بیج بوتی ہے کہ ہندوو مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن ملا سواتی کی طرح سوامی کا اختتام بھی بمب کے بعد آنے والے سیلاب میں ہی ہوتا ہے۔ سوامی جی بی جے پی اور آر ایس ایس کا نمائندہ کردار بن کر سامنے آتا ہے۔

یہ چند اہم کردار ہیں جن کے اردگرد ناول گھومتا ہے۔ ناول کا دوسرا حصہ ایٹم بمب کے چلنے کے بعد کی صورتحال پر ہے کہ ہر طرف سیلاب آ جاتا ہے اور برصغیر میں تمام ملکی حدود ختم ہو جاتی ہیں۔ لوگ سیلاب میں بہتے ہوئے زندہ اور لاشوں کی صورت ہندوستان سے پاکستان آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ صرف اونچے پہاڑوں پر رہنے والے لوگ ہی سیلاب کی تباہ کاری سے بچ سکتے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں ایک ایک ریڈیو اور کھانے کا کارٹن ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھینکا جاتا ہے۔ جس سے یہ لوگ جان سکتے ہیں کہ ملک کے دوسرے علاقوں میں کیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ابن انشاء کے مضامین

تیسرا حصہ سیلاب کے بعد ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی پر مبنی ہے۔ جس میں بہت سے گروہ ڈاکو بن جاتے ہیں اور مل کر لوگوں سے اناج لوٹتے ہیں۔ پانی اور خوراک پر ان گروہوں کا قبضہ ہے۔ وہ امیروں کو لوٹتے ہیں اور ان کے لوٹے ہوئے مال غنیمت سے کئی غاریں نوٹوں اور سونے سے بھری ہوئی ہیں۔ سیلاب کی تباہی سے بچ جانے والے لوگ دوبارہ غاروں میں رہنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ غاریں باہر کی گرمی اور سورج کی تپش سے بچا کر ماحول کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔ ناول کا اختتام ساون معاویہ اور بھاگ بھری کا ننکانہ صاحب کی طرف جاتے ہوئےایک سکھ خاندان سے شیخوپورہ کے علاقے میں ملاقات کے بعد ہوتا ہے۔ جہاں ساون کو پتا چلتا ہے کہ ساری زندگی غزوہ ہند کا خواب دیکھنا اور لال قلعے پر اسلامی جھنڈے لہرانے ایک سیراب کے علاوہ کچھ نہ تھا اور کس طرح وہ لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہو کر ہزاروں لوگوں کو قتل کرتا رہا یے۔ میرے خیال میں ناول کے بظاہر دو بڑے تھیم ہیں۔ ایک شدت پسندی اور دوسرا ماحولیاتی آلودگی۔ ناول کا پہلا حصہ شدت پسندی کے عروج اور باقی دو حصے اس شدت پسندی کے نتائج پر فوکس کرتے ہیں۔ جو ماحولیاتی آلودگی جیسا کے سیلاب خشک سالی وغیرہ کی صورت میں ہمارے حصے میں آتے ہیں۔

زیدی صاحب نے شدت پسندی کے تھیم کو بہت خوبصورتی سے کرافٹ کیا ہے۔ آپ شدت پسندی کے تقریبا تمام عناصر کو جا بجا ناول میں اپنا کردار ادا کرتا ہوا دیکھیں گے۔ ہمارے ہاں اس شدت پسندی یا تکفیری دیوبندی آئیڈیالوجی کے نتیجے میں ہونے والی شیعہ ٹارگٹ کلنگ پر ہر سطح اور طبقے کے لوگوں نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن زیدی صاحب نے اس پہلو کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ جس میں وہ کامیاب ہوتے نظر آئے ہیں۔ نوے کی دہائی میں اہل تشیع کے جید علما اور اعلی سطح پر کام کرنے والی کریم کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا۔ اس کی مثال ناول میں ساون کے ہاتھوں کراچی کے ڈاکٹر یا پارہ چنار اور گلگت بلتستان میں رہنے والے اہل تشیع کا قتل ہے۔ دوسری طرف یہ شدت پسندی ہندوستان میں بھی واضح نظر آتی ہے جہاں سوامی جیسے لوگ اپنی شدت پسندانہ تقریر سے ہندووں کو مسلمانوں پر تشدد اور ان کے خاتمے پر اکساتے ہیں۔ ناول میں برصغیر کے حالات کی اتنی عمدہ اور حقیقت پسندانہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ سوامی جی کی خواہش کہ تاج محل کی جگہ مندر ہو گا۔ آج کل انڈیا میں موضوع بحث ہے اور کل ہی ایک خبر کے مطابق کچھ لوگوں نے وہاں جا کر پوجا بھی کی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف ہمیشہ نفرت پھیلا کر اپنے پیٹوں کا رزق جمع کرتے یہ ملا اور پنڈت برصغیر کے سادہ لوح لوگوں کو مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر اکساتے ہیں۔ جس نے ہماری تہذیب و تمدن اور شخصیت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

دونوں ملکوں کی جانب سے ایٹم بم کے استعمال سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی ناول کے باقی دو حصوں پر چھائی نظر آتی ہے۔ جہاں ایک طرف سیلاب سے تمام سرحدوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ایک علاقے کا دوسرے علاقے سے رابطہ منقطع ہو جاتے ہے۔ لوگوں کی لاشیں جا بجا پانی پر تیرتی سرحدیں عبور کرتی نظر آتی ہیں۔ سیلاب سے بچ جانے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو عجیب قسم کی بیماریاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ان کی فصلوں اور اورپھلوں کی شکلیں تبدیل و جاتی ہیں۔ نئے پیدا ہونے والے بچوں کی شکلیں عجیب و غریب ہوتی ہیں۔ جن کی خوراک انسانوں یا حیوانوں کا خون ہے۔ پانی اس قدر آلودہ ہو جاتا ہے کہ جو شخص پانی پیتا ہے وہ کچھ عرصے بعد خون تھوکتے ہوئے مر جاتا ہے۔ خون تھوکنا موت کی علامت بن جاتی ہے جس کا شکار آخر پر ساون بنتا ہے۔

زیدی صاحب اپنے ناول میں ایک طرف برصغیر کے سادہ لوگوں کو مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کے مکروہ چہرے دکھاتے ہیں۔ جنہوں نے ہماری پچھلوں دو نسلوں کی تباہی میں اپنے پیٹوں کا رزق تلاش کیا ہے تو دوسری طرف ریاستی اداروں کی سرپرستی میں چلنے والے جہاد کے نقصانات کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ تنبیہہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہماری شدت پسندی میں کمی نہ آئی تو یہ خطہ ایک دن ایٹم بمب مارنے والی دھمکیوں کی حقیقت بھی دیکھ لے گا۔ جس کے بعد ان کے پاس واپسی جانے کے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔ آپ کو بہت سے نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے۔۔ بہت سی باتیں آپ کے مروجہ عقائد سے متصادم ہوں گی۔ آپ کو تھوڑی بہت پروف کی غلطیاں یا ایک دو کردار نامکمل نظر آئیں گے۔ لیکن مجموعی طور پر اگر ناول کو بطور ایک ادبی فن پارے کے طور پر انجوائے کرنے کے لیے پڑھیں گے تو یقیناً آپ کو لطف آئے گا۔۔۔

ناول میں اٹھائے گئے سوالوں پر اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ہر سوال بذات خود ایک لمبی تفصیل کا متقاضی ہے۔ بلکہ یہ موضوع تو تھیسز کا ٹاپک بھی بن سکتے ہیں۔ ان میں سے چند سوالات درج ذیل ہیں۔ کیا مذہب کا کلچر پر غالب آ جانا ہندوستان کی تباہی کا سبب ہے؟ اتنی ترقی یافتہ تہذیب کا زوال اس قدر پستی کا شکار کیوں ہوئی؟؟ جمیلہ سوال کرتی ہے کہ جب ساون نے مزہب تبدیل کیا تو اس کا نام کیوں تبدیل کیا گیا؟ لفظ ساون کا بظاہر اسلامی تہزیب سے کوئی ٹکراو تو نظر نہیں آتا۔ کیا غربت اور انتہا پسندی میں کوئی رشتہ ہے؟ جہادیوں میں ایک بڑی تعداد یونیورسٹی فارغ التحصیل لوگوں کی ہے تو کیا یہ اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ جہالت انسان کو انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہے؟

یہ بھی پڑھئے:   کنور آفتاب احمد - شاکر حسین شاکرؔ

کیا انتہا پسندی کا تعلق اسلام سے ہے کیا سمینٹک مذہب کے علاوہ باقی مذاہب بھی انتہا پسندی کا شکار ہوتے ہیں؟ ناول میں موجود چند ون لائنر ایسے ہیں کہ جو ایک طرف برصغیر میں رہنے والے غریبوں لوگوں کی بے بسی، مظلومیت، سادگی اور امیر طبقے کی منافقت کو عیاں کرتے ہیں۔ دوسری مذہبی شدت پسندی کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات کی خوبصورت تصویرکشی کرتے ہیں۔ یوں تو وہ اچھوت تھی اور اسے چھونا منع تھا لیکن کچھ دیر کے لیے ہی سہی وہ اچھوت نہ رہی۔ چاہے کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی لیکن اس کی ذات وڈیرے کی ذات کے برابر آ ہی گئی۔ تم لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ادھر ادھر منہ کالا کرتی ہو اور الزام ہم شریف زادوں پر لگاتی ہو۔ جعفر شاہ نے اپنی مونچھوں کو بل دیتے ہوئے کہا۔ بھاگ بھری کا آدمی روز اسے گھر آ کر مارتا تھا۔ وہ اس کی مار کو خاموشی سے سہہ لیتی تھی۔ اس کی ماں نے اسے سکھایا تھا کہ آدمی عورت کے لیے بھگوان سمان ہوتا ہے۔ ہم غریبوں کو بھگوان جتنا کم دیتا ہے ہمیں اتنی ہی زیادہ بھوک لگتی ہے۔ دور کر دو اس حرام ذادے کو میری نظروں سے اور اسے مویشیوں کے باڑے میں جانوروں کے ساتھ باندھ دو۔ اس خبیث کو تین دن تک کھانے پینے کے بغیر باندھے رکھنا تا کہ اس کے کان کھل جائیں اور حکم عدولی اس کے خون سے نکل جائے۔ جب قاری صاحب ساون سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا تم مسلمان بنو گے تو ساون کہتا ہے۔۔ ”کیا مسلمان بننے سے کھانا ملے گا؟“۔ ساون کے سوال پر کہ کیا وہ بندوق کو چھو سکتا ہے قاری صاحب فرماتے ہیں ”اسلحہ مسلمان مرد کا زیور ہے“۔۔

ظالموں کا ایک ہی علاج
جہاد الجہاد
انقلاب انقلاب۔۔اسلامی انقلاب
کراچی تا خیبر۔۔ ملا عمیر رہبر
کابل کی آزادی تک جنگ جاری رہے گی۔
ایران کی بربادی تک جنگ جاری رہے گی۔
کراچی تا کابل طالبان طالبان

جیسے قاری صاحب ایک آیت کا ترجمہ کرتے ہیں کہ ”اللہ تعالی نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت دی ہے اور ان سے اجر عظی کا وعدہ کیا“ـ اسلام میں امیر المومنین کا رتبہ اللہ اور رسول کے بعد سب سے بڑا ہوتا ہے۔

پتا نہیں کون ارسطو بقراط جیسے لادینیوں کی تعلیمات ہمارے بچوں میں پھیلا رہے ہیں۔ وہ امام غزالی۔ اللہ ان پر رحمت نازل کرے ان کے بدلے زندیق ابن رشد کا پرچار کر رہا ہے۔۔ بیٹا تم داستان ایمان فروشوں کی پڑھنا۔۔ اس کو پڑھنے سی تمہاری رگوں میں دوڑتا خون اور تیز ہو جائے گا۔ ساون کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کوئی کتاب کسی کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ اس کی ماں کہتی تھی کہ کتاب کو ہمیشہ سر سے لگانا کیونکہ کتاب سرسوتی کا روپ ہوتی ہے۔ سنپولیا بڑا ہو کر سانپ ہی نکلتا ہے۔ یہ بھی بڑا ہو کر اپنے نانے کی طرح نکلے گا لیکن ہم یہاں کسی شیعہ کو جینے نہیں دیں گے۔ ہماری خفیہ سرکار نے افغانستا میں سٹریٹجک گہرائی تو حاصل کر لی پر اس گہرائی کو برقرار رکھنے میں نا جانے کتنی نسلیں برباد ہوں گی۔ اپنے امیر کا حکم بجا لانے میں دنیا کی بھی خیر اور آخرت میں بھی خیر ہے اور اگر امیر کا حکم غلط بھی ہو تو اس کا حکم بجا لانا فرض یے۔ ہندو کا ہے ہندوستان۔۔ باقی جائیں پاکستان۔۔ تاج بنے گا۔۔ شیو مندر۔۔ تاج بنے گا۔۔ شیو مندر۔ تم اللہ کے نام پر بھیک کیوں نہیں مانگتی۔۔ بیٹا ہم غریبوں کا کیا ہے جس کے نام پر زیادہ بھیک ملے اس کے نام پر مانگ لیتے ہیں۔

بیٹا ساری دنیا میں ایک قوم بستی ہے جن کا نا کوئی مذہب ہوتا ہے نا کوئی قومیت۔۔ اس قوم کا مذہب صرف پیسہ ہوتا ہے جسے سمگلر کہتے ہیں۔ یہ انڈین سمگلر کتنے غریب ہوتے ہیں کہ ان کے پاس دس کلو ہیروئین نہ ہو گی لیکن اس کے امیر ٹرک بھر بھر کر افغانستان پاکستان میں بھیجتے تھے۔ کیا اللہ کا بھی کوئی دشمن ہو سکتا ہے؟ اللہ نا ہو گیا کسی گاوں کا وڈیرہ ہو گیا جس کے دشمن ہوتے تھے اور وہ اپنے بندوں کے ہاتھوں اس کا قتل کرواتا تھا۔ میں تو اپنے بیٹے کے لیے جان بھی دے سکتی ہوں۔۔۔دیکھو بیٹا میں مسلمان تو ہو جاوں گی لیکن اپنا دھرم نہیں چھوڑوں گی۔ اگر اللہ کو ساری دنیا کومسلمان ہی بنانا تھا تو پھر باقی دین دھرم کیوں پیدا کیے؟؟

Views All Time
Views All Time
98
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: