Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

خودشناسی کی اہمیت

Print Friendly, PDF & Email

ایک دن بزرگ کے پاس جانا ہوا تو میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے لمحہ بھر کے لیے رُکے اور بولے بیٹا یہ جو خود شناسی ہے نا جسے تم لوگ انگلش میں self awareness کہتے ہو اس کے اثرات تین طرح کے اثرات ہوتے ہیں۔ پہلا وہ کہ جب آپ خود کو مکمل طور پر سمجھ جاتے ہو تو پھر آپ اُس مرد دانا کی طرح بول اٹھتے ہو جو آج سے کئی صدیاں پہلے کہہ گیا تھا کہ ”میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔“

پھر دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو خود شناسی کی ابتدائی سطح پر ہی سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے جو جان لیا ہے بس وہی سچ ہے۔ ایسے ہی لوگ تمہارے اردگرد تمہیں یہ کہتے نظر آئیں گے کہ میں اپنے قلم سے آگ لگا کر رکھ دوں گا۔ یا میں تو اس قلم سے فلاں فلاں کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔ یا پھر وہ ہر دوسری سوچ خیال یا نظریے کو رد کر دیں گے۔

تیسری اور آخری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خود شناسی پر توجہ دینے کی زحمت کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ یہ لوگ بس یہی سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ ہمیشہ ٹھیک ہیں۔ جس سمت میں وہ کھڑے ہوں وہی حق سچ کی سمت ہے۔ آپ ان سے مکالمہ نہیں کر سکتے۔ یہ اس قدر کتابوں سے بھرے ہوئے، فہم و فراست سے دور اور تخلیقی صلاحیتوں سے عاری ہوتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے۔ ان کا کاپی شدہ علم ہی ان کو معاشرے میں اعلی مقام دلائے گا۔ تم دیکھو گے یہ لوگ صرف مشہور ہونے کے لیے ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ پہلے سے بھی زیادہ پستی میں گھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک دن وہ سب کے سامنے ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔۔یہ لوگ خود شناسی جیسی باتوں کو فضول سمجھتے ہوئے تمہیں سگریٹ کے دھواں میں بھاری بھرکم اصطلاحوں اور ادیبوں کے نام بتاتے رہیں گے۔ یا بعض لوگ تم کو اپنے ہی قول پراسرار قسم کے ادیبوں کے نام منڈھتے ملیں گے۔۔

یہ بھی پڑھئے:   عمران خان کو ایک یوٹرن لینا ہوگا

تو بیٹا جب تک تم خود کو پہلے والی دونوں کیفیات سے بچا کر اپنا فوکس پہلی قسم کے لوگوں کی طرح بننے میں لگاو گے تو تم ایک ایسے انسان بن سکو گے جس کے علم سے دوسروں کو فائدہ ہو یا جو دوسروں کو سیکھنے کا موقع کبھی بھی اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔ ورنہ پھر تم یہ جو ہر وقت شکایت کرتے ہو کہ بابا یہ صاحب علم لوگ اس قدر مغرور، بدزبان کیوں ہوتے ہیں یا خود پسند کیوں ہوتے ہیں تو تم بھی پھر انہی کی راہ پر چلنا شروع کر دو گے۔ جب تک تم کو یہ لگتا ہے کہ تمہارا علم نامکمل ہے تب تک بے فکر ہو کر علم کی جستجو میں لگے رہنا اور جب تمہیں ذرا سا بھی شک ہو کہ تم کو سب سمجھ آتا ہے تو ایک دفعہ سقراط کو یاد کر لینا یا ان لوگوں کو یاد کر لینا جن کے رویوں پر تم تعجب کا اظہار کرتے ہرتے ہو۔

Views All Time
Views All Time
82
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: