Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اساتذہ کے لیۓ ٹیچر ایجوکیشن ڈگری کی اہمیت – بلال حسن بھٹی

by مارچ 30, 2017 بلاگ
اساتذہ کے لیۓ ٹیچر ایجوکیشن ڈگری کی اہمیت – بلال حسن بھٹی
Print Friendly, PDF & Email

جس طرح آپریشن کرنے کے لیۓ ڈاکٹر، کسی عمارت کا پل بنانے کیلیۓ انجینیئر، کسی کاروبار یا کمپنی میں کام کرنے کے لیۓ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری ہونا ضروری ہے، اسی طرح ہمارے مستقبل کے معماروں کو پڑھانے کے لیۓ اپنے مضمون کے ساتھ ساتھ ایک استاد کو ٹیچنگ کے شعبے میں بھی ماہر ہونا لازمی ہے. تا کہ اسے یہ بھی پتا ہو کہ جس مضمون میں وہ مہارت رکھتا ہے اُسے فیلڈ میں جا کر کن کن طریقوں سے پڑھایا جا سکتا ہے یا پڑھانے کے دوران کون کون سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اُن مسائل سے کس طرح ڈیل کیا جا سکتا ہے۔
اس میں کوئ شک نہیں کہ ٹیچر ایجوکیشن کے شعبے میں بہت سی خامیاں ہیں۔ جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کوئی بھی شخص استاد بنے یا بننا چاہتا ہو تو اسکے پاس کم از کم ٹیچر ایجوکیشن کی ڈگری ہونی چاہیے یعنی وہ بی ایڈ ہو یا ایم ایڈ۔ یہاں بہت سی ایسی مثالیں دے کر میری بات کو رد کیا جا سکتا ہے کہ مختلف جگہوں پر بہت سے اساتذہ ٹیچر ایجوکیشن کی ڈگری کے بغیر بھی بہت اچھا پڑھا رہے ہیں۔میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔
لیکن ایجوکیشن کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ استاد کو صرف اپنے کورس پر مکمل مہارت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسکو کس طرح پڑھانا ہے؟ اسکے لیے کون کون سے طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ انکے فوائد اور نقصان کیا ہیں؟ یہ چیزیں بہت زیادہ معنی رکھتی ہیں۔ اپنے کورس میں ماہر ٹیچر بچوں کا سلیبس تو جلدی مکمل کروا دے گا یا بچوں کو رٹا لگوا کر سب کچھ یاد تو کروا دے گا لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس سے بچے نے کس قدر سیکھا ہے۔آج کل ہمارے اردگرد اسکولوں اور اکیڈمیز میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ جس کی بہت بڑی وجہ اساتذہ کا پڑھانے کے طریقے سے آگاہ نہ ہونا ہے۔
استاد کا لفظ اپنے اندر بہت وسیع معنی رکھتا ہے۔ استاد کی ذمہ داری صرف اسکول میں جا کر بچوں کو کتابوں سے دیکھ کر جو سمجھ آیا پڑھا دینا اور باقی وقت کلاس میں سو کر یا گپیں ہانک کر گزارنا نہیں ہے۔ بلکہ ایک استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے پاس کیا ریسورسز ہیں۔ ان کو کس طرح استعمال میں لانا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوۓ، یا دور دراز کے کسی علاقے میں جہاں مشکل سے چاک اور بلیک بورڈ میسرہو، وہاں کس طرح پڑھانا ہے۔ بعض اوقات بہت سے اسکولوں میں تو یہ سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں، تو وہاں کونسا طریقہ سب سے بہتر رہے گا۔ ایک استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پڑھانے کے لۓ جو طریقہ استعمال کر رہا ہے آیا اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں ہوئی؟ یا کوئی ایسا طریقہ تو نہیں ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوۓ وہ بہتر طریقے سے اپنی بات بچوں کو سمجھا سکتا ہو۔ جس سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہوں۔
ایک استاد کو بچوں کی نفسیات کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ بچے کی توجہ سبق کی طرف کس طرح مرکوز کروانی ہے۔ یا کن وجوہات کی بنا پر بچہ سبق میں دلچسپی نہیں لے رہا اور کس طرح وہ اِس پریشانی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک استاد کا گائیڈ اور کونسلر بھی ہونا انتہائی ضروری ہے۔ وہ جانتا ہو کہ کس طرح بچوں میں مثبت اور تعمیری سوچ پیدا کرنے کے لۓ انکی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ استاد کی رہنمائی اور کونسلنگ کی وجہ سے ایک ایسا بچہ جو خود کو نالائق سمجھتا ہو،(چوں کہ ہمارے ہاں استاد سے لے کر ماں باپ تک سب لوگ بچے کی ابتدائی عمر میں ہی اسکے ذہن میں یہ بٹھا دیتے ہیں کہ وہ نالائق ہے )جس کی وجہ سے بہت سے بچے پرائمری اور مڈل میں ہی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں لیکن اگر ایک استاد جو کونسلنگ سے تھوڑی سی واقفیت رکھتا ہو وہ بچے کا اعتماد بحال کر کے اسکی دلچسپی کو بڑھا کر پڑھائی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
ایک استاد کو پیپر بنانے سے لے کر مارکنگ تک کے سسٹم سے آگاہ ہونا چاہیے تا کہ وہ اپنے طلبہ کی کارگردگی کو بہتر طریقے سے جج کر سکے۔ اگر ایک استاد کو یہ ہی معلوم نہ ہو کہ اسکا بنایا ہوا ٹیسٹ بچے کی کونسی قابلیت کا احاطہ کرے گا یا اسکے بناۓ ہوۓ ٹیسٹ میں کیا کیا خامیاں ہیں تو وہ طلبہ کی قابلیت کا بہتر طریقے سے احاطہ کرنے کا اہل نہیں ہو گا۔ یہاں کہا جا سکتا ہے کہ پیپر کی تیاری یا چیکنگ کے لۓ تو علیحدہ ادارہ ہے۔ لیکن سالانہ پیپرز کےعلاوہ بھی روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ اور سہ ماہی ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں جنہیں صرف اور صرف کلاس کے استاد کو بنانا ہوتا ہے اور اس لئے ایک ٹیچر میں اتنی اہلیت ہونی چاہیے کہ وہ ان ٹیسٹ کی بنیاد پر یہ جانچ لے کہ اسکے طالب علموں نے کتنا سیکھا اور مزید کن کن جگہوں پر بہتری کا امکان ہے۔
تعلیمی فلسفے اور تاریخ کا علم ایک استاد کیے لئے اس حوالے سے بہت زیادہ ضروری ہے تا کہ وہ جانتا ہو کہ تعلیمی فلسفے کون کون سے ہیں؟ کن کن فلسفیوں نے اس پر کام کیا ہے اور انکے نظریات کیا ہیں؟ تعلیمی تاریخ سے آگاہی اس لیے ضروری ہے کہ ایک استاد یہ جانتا ہو کہ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک تعلیم کے شعبے میں کیا کیا کام ہوا ہے؟ نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر پڑھانے کے کون کون سے طریقے سب سے بہترین مانے جاتے ہیں اور استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ وہ اہم شعبے ہیں جس میں ایک استاد کا ماہر ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ وہ ادب سائنس یا ریاضی کے مضامین پڑھا تو لے گا لیکن بچوں کو یہ مضامین سمجھ میں آئے بھی ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہو سکتا ہے بچوں کا موڈ پڑھنےکا نہ ہو اور استاد صاحب چیپٹر مکمل کروا کر چلے جائیں یا پڑھاتے ہوۓ صدیوں پرانے طریقے استعمال کر رہے ہوں۔ پیپر تو لیں لیکن یہ نہ جانتے ہوں کہ ان پیپروں سے بچوں کی کونسی قابلیت کا احاطہ کیا ہے؟۔
یہاں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ کونسلنگ، کلاس روم مینجمنٹ اور امتحانات کے لئے علیحدہ علیحدہ شعبے ہوتے ہیں یا ہونے چاہیئں لیکن میرے نزدیک ایک تو ہمارے ملک میں اتنے وسائل نہیں ہیں کہ الگ الگ شعبے بناۓ جائیں دوسرا یہ کہ اگر استاد خود سے پیپرز کی تیاری اور دوسرے کام کرے گا تو وہ اپنے طالب علموں کو بہتر طور سے سمجھ سکے گا اور جہاں کوتاہیاں ہوں انہیں دور کر سکے گا۔
اگرچہ حکومت نے پہلے بھی اساتذہ کے لئے ٹیچنگ ڈگری ہونے پر زور دیا ہے لیکن فل الحال اس پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا گیا جس کے نقصانات ہم اپنے تعلیمی شعبے میں اساتذہ کی سطح پر دیکھ سکتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
476
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آؤ قید ہو جاؤ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: