Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خواہشوں کا برمودہ ٹرائی اینگل

by مئی 31, 2016 بلاگ
خواہشوں کا برمودہ ٹرائی اینگل
Print Friendly, PDF & Email

Humera Baigانسان،خواہش اور اس کے حالات کا تثلیثی نظام روزمرہ زندگی سے مربوط و منضبط ہے.انسان کوئی خواہش کرتا ہے پھر اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے اسے پورا کرنے کی سعی میں لگ جاتا ہے. اس تثلیث کا پہلا نقطہ یعنی انسان فطری طور پر نہایت مختلف ہوتا ہے.انفرادی اختلافات کا مالک—
اس کے ہر عمل اور ردعمل میں ایک دوسرے سے افتراق ہوتا ہے.لہذا اس کا کسی چیز کی خواہش کرنا اور اس کے حصول کے لیے مختلف ذرائع اپنانا بھی مختلف النوع ہوتا ہے.دوسرا نکتہ خواہش ہے —جو کچھ بھی ہو سکتی ہے مثلا کسی پسندیدہ چیز کا حصول،احساسِ برتری یا کسی بھی چیز کو پانے کی خواہش…تیسرا اوراھم نکتہ اس کے حالاتِ.زندگی ،ذرائع معاش اور وہ وسائل ہیں جن کے ذریعے سے وہ خواہش کا حصول کرنے کی کوشش کرتا ہے.ہر خواہش ،ہر انسان اور ہر طرح کے حالات کے مطابق نہیں ہوتی. یوں کہہ لیجئے کہ ہر خواہش ہر انسان کے لئے نہیں ہوتی مگر انسان ہر خواہش کو اپنے لئے ہی سمجھتا ہے.قناعت کے معنی معدوم ہو گئے ہیں.اور صبر نہ جانے فطرتِ انسان سے نکل کر کن ساحلوں پہ گم ہو گیا ہے اور انسان ہر جائزوناجائز طریقے سے اس ٹرائی اینگل کو بھرتا ہی چلا جا رہا ہے یا اس کوشش میں بر سرِپیکار ہے لیکن یہ ٹرائی اینگل بھرنے کا نام ہی نہیں لیتا.خواہشات پوری ہونے کے بعد اس کے اندر ہی کہیں دفن ہو جاتی ہیں حتیٰ کہ ان کا ملبہ تک نہیں ملتا اور انسان خود کو یوں تہی داماں سمجھنے لگتا یے جیسے اس کی کبھی کوئی خواہش پوری ہوئی ہی نہیں.یہ گلہ اکثر صنف نازک کو زیادہ رہتا ہے.لگتا ہے انسان کی ہوس کی میتھین(گیس )اسے کبھی چین سے بیٹھنے ہی نہیں دے گی اور سے اور مانگتی رہے گی اور انسان اور،اور کی طلب کرتا رہے گا.اس ٹرائی اینگل کو بھرنے کے لئے انسان کیا کچھ کرتا ہوا نظر نہیں آتا.دوسروں کی حق تلفی،دوسروں کی برائیاں ،دوسروں کا استحصال یہاں تک کہ دوسروں کا قتل—عجب بے حسی کا پیکر بن چکا ہے.جتنے بھی جرائم ہیں ان کے پیچھے انسان کی خواہش کا ہی جذبہ کارفرما ہے.کسی نہ کسی خواہش کی تکمیل ارتکاب جرم کی وجہ ہے.بکری،بھینس اور مال وزرکی چوری سے لے کر قتل و غارت گری تک انسان کا مقصود کسی نہ کسی خواہش کی تکمیل ہی رہا ہے. اشیاء کے انتخاب میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک چیز کا انتخاب کرنا بعض اوقات ضد،انا،اور ہوس کی تکمیل پر منتج ہوتا ہے.باذوق انتخاب کرنا ایک الگ بات ہے ایک سے بڑھ کر ایک اچھا نظر آنے کی خواہش بھی فطری ہے مگر اس کا انتہا تک پہنچنا اور کسی بھی حالت میں پورا کرنا ایک غیر لچک ذہنی رویہ ہے جس سے کئی خواتین کے گھر متاثر ہوتے ہیں.مقابلہ بازی اور ساتھ والے گھر سے برتری کی دوڑ میں چادر سے ان کے پاؤں نہیں گھٹنے تک باہر نکل آتے ہیں.خواہش فطرت انسان کا ایک شدید محرک ہے جو انسان کو کسی نہ کسی حرکت کی ترغیب دیتا ہے لیکن اگر صبر،قناعت،قسمت اور مقدر جیسی حقیقتوں پہ یقین رکھا جائے تو اس شدید محرک کا ردعمل نارمل ہو سکتا ہے.اگر ہم خواہشوں کے ساحل پہ کھڑے ہو کر تمام سیپیاں یک بار چن لینے کے بجائے اپنے حصے کا موتی چن لیں تو ہمیں خواہشوں کے برمودہ ٹرائی اینگل کو بھرنے کی ہوس نہیں رہے گی اور” برمودہ "جو کہ خود ایک جگہ کا نام ہے کے بجائے خواہش ٹرائی اینگل نام رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی جو ہوس کے لاشوں سے بھرتی چلی جا رہی ہے اور "ملبے ندارد "……..

Views All Time
Views All Time
443
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: