طورخم بارڈر پر ٹھاہ ٹھوں ۔۔۔ پسِ پردہ کیا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

Haider Javed Syedطورخم بارڈر پر ہونے والی ٹھوں ٹھیاں کا پسِ منظر سمجھنے اور بھالنے سے قبل دو باتیں عرض کرنا از بس ضروری ہے۔ اولاََ یہ کہ پاک افغان تنازعہ (حالیہ ہو یا پچھلے تنازعات) میں پشتون قوم پرستوں کے ایک حلقہ کا رویہ افسوسناک ہے۔ غیر پنجابی اقوام کے دوسرے بہت سے لوگ جی ایچ کیو، تختِ لاہوراور اسلام آباد کی پالیسیوں کے ناقد ہیں۔ البتہ ناقد ہونے اور دشنام طرازی میں بہت فرق ہے۔ سو ہمارے سیخ پا پشتون دوستوں کو سمجھنا ہو گا کہ افغان پالیسی کے بھیانک نتائج سرحد کے دونوں اور تباہ کن ہی ثابت ہوئے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستانی پشتونوں کے قوم پرست اور مذہبی حلقوں نے وقتاََ فوقتاََ افغان ایشو کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا۔ کبھی پشتون ولی کے نام پر اور کبھی مسلم پشتون ولی کے نام پر۔ اس لئے دوسروں کو منافق اور تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانے سے قبل اپنی اداؤں پر بھی غور کر لیا جانا چاہیے۔ثانیاََ یہ کہ افغانستان کے حکمرانوں (وہ قابضین تھے یامقامی)اورلوگوں کا رویہ انڈس ویلی (موجودہ پاکستانی کی جغرافیائی حدود) اور خود کبھی متحدہ ہندوستان بارے محبت بھرا نہیں رہا بلکہ ایک طبقے نے اسے چراگاہ سمجھا اور دوسرے نے سونے کی چڑیا۔ اپنے اپنے انداز میں دونوں طبقوں خوب لوٹ مار کی۔ جہاں تک پاکستان میں 1979ء کے انقلابِ افغانستان کے بعد افغان مہاجرین کو پناہ دیئے جانے کا تعلق ہے تو ہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنا ہو گا کہ پاکستان کے عوام کا رویہ اور سلوک انصارِ مدینہ والا تھا مگر افغان مہاجرین اپنی قبضہ گیری کی پرانی عادت سے نجاب حاصل نہ کر پائے۔جنرل ضیاء الحق چونکہ مسلکاََ دیوبندی تھااس لئے انہوں نے مخصوص عزائم کے لئے افغان مہاجرین کو ملک بھر میں پھیلنے دیا۔اس پھیلاؤکا نتیجہ انڈس ویلی کے لوگ اب بھگت رہے ہیں۔جو ذمہ دار ہے اس کا جبڑا فیصل مسجدکے احاطے میں دفن ہے۔ اندریں حالات کچھ پشتون دوستوں کا افغانستان مہاجروں کے مسئلہ پر پنجابیوں کی آڑ لے کرباقی اقوام کو گالیاں دینا یا یہ مطالبہ کرنا کہ ہندوستانی مہاجروں(1947ء کے بٹوارے میں آئے ہوئے)کو بھی نکالوبنیادی طور پر غیر منطقی ہے۔ اصل میں یہ مطالبہ اس ریفرینڈم میں ملی شکست کے زخموں کا مرہم ہے جو پاکستان میں شمولیت کے سوال پر متحدہ ہندوستان کے صوبے این ڈبلیو ایف پی (صوبہ سرحد) میں ہوا تھا جواب خیبر پختونخواہ کہلاتا ہے۔ مکرر عرض کردوں کہ پشتون دوستوں کو صبروتحمل کے ساتھ معاملات کا تجزیہ کرنا ہوگا۔اور کیا وہ اپنے ہاں موجود اس فکر سے لاعلم ہیں کہ پشتون مسلمان کے سوا باقی سب نام کے مسلمان ہیں۔ اس سے زیادہ سخت انداز میں غیر پشتون مسلمانوں بارے کہا لکھا اور بولا جاتا ہے۔ دو دن قبل میری ہی ایک پوسٹ پر شہزاد خان نامی ایک پشتون نے لاہور کے مسلمانوں کو بے غیرت تک کہا۔ کیونکہ بقول ان کے کہ وہ ایک بار رمضان المبارک میں دیر سے لاہور گئے تو انہیں لگا کہ وہ ہندوستان آگئے ہیں۔ کیا بہت ادب کے ساتھ عرض نہ کردوں کہ حضور! عادتوں اور عبادات میں فرق ہوتا ہے۔ جو لوگ اس فرق کو سمجھتے ہیں وہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے تزکیۂ نفس پر دھیان دیتے ہیں۔
ہم اصل موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔ سیاسیات اور صحافت کے اس طالبِ علم کی اب بھی یہ رائے ہے کہ ملا منصور کی ہلاکت والا ڈرون حملہ ڈرامہ تھا۔ بدقسمتی سے مسلم لیگ نواز کی حکومت اس ڈرامے میں ایک کردار کے طور پر شریک تھی اور مقصد عسکری قیادت کو دیوار سے لگوانا تھا۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ دنیا کی نمبر ون ایجنسی ہونے کی دعویدار ایجنسی نے کیوں اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا کہ ملا اختر منصور اپریل 2016ء میں عدم آباد روانہ ہو چکے تھے۔ خطے میں تیزی سے بدلتے حالات اور بنتے اتحادوں نے پاکستان کو جس احساسِ تنہائی سے دوچار کیا اسے مزید گہرا کرنے کے لئے ڈرون حملہ اور ڈرامہ رچایا گیا۔ عسکری قیادت امریکی جال میں پھنس چکی۔ طورخم بارڈر پر معاملات نے جو رنگ اختیار کیا یہ منصوبے کا حصہ تھا۔ امریکہ اور بھارت افغانستان کے توسط سے پاکستان کو مزید دباؤ میں لائیں گے۔ دونوں (امریکہ اور بھارت) اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پاک افغان تصادم کی صورت میں پاکستانی پشتونوں کی اکثریت جذباتی، لسانی اورمشترکہ قومی شناخت کی بدولت افغانوں کی ہمدرد ہو گی۔اس سرحدی تنازعہ کی دیگر وجوہات بھی ہیں مگر فی الوقت اس چھیڑ چھاڑ کا مقصد پاکستان سے دو شرائط منوانا ہے۔ اولاََ پاکستان افغان مہاجرین کو واپس بھجوانے کے اپنے اعلان پر نظر ثانی کرے اور ثانیاََ بھارت کو راہداری کی سہولت دے۔یعنی واہگہ سے طور خم بارڈر تک تاکہ بھارت افغانستان کے راستے اپنا مال وسطی ایشائی ریاستوں کی منڈیوں تک پہنچا سکے۔
جہاں تک سرحد کے دونوں طرف آبادشنواری اور دیگر قبائل کے روزمرہ معاملات کا تعلق ہے تو بدلتے ہوئے حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ دونوں ملک ازسرِ نو ایسی مشترکہ دستاویزات کی تیاری اور اجرأ پر رضا مندہوں جن سے سرحد کے دونوں طرف مقیم قبائل استفادہ کرسکیں۔ یہاں ہمیں اس امر کو نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کی منشأ سے ہی پاکستانی طالبان اور دیگر عسکریت پسند دھڑوں کے لوگوں کو افغانستان میں پناہ دی گئی ہے۔ یہ پناہ حقانی نیٹ ورک کا نہیں کوئٹہ شوریٰ کو جواب ہے۔ میرے لئے یہ عرض کرنا کچھ مشکل نہیں کہ اگر ہمارے بااختیار طبقات اپنی برتری کے جنون پر نظر ثانی نہیں کرتے توانہیں پراکسی وار سمیت دیگر امور پر افغانوں کو بے نقط سنانے کی بھی ضرورت نہیں۔اصولی طور پر ہمیں دوسروں کی حکمتِ عملیوں اور طویل المدت منصوبوں پر منہ بسورنے کی بجائے اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہیے۔ کیامانک الٰہی چودھری بننے اور بنے رہنے کے زعم کا شکار پاکستان سول و ملٹری اشرافیہ کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ افغان مہاجرین کے انخلأ کے اعلان اور پالیسی ، افغانستان کے اندر کھیلے جانے والے کھیل کے راستے میں رکاوٹ ہے؟ سمجھ میں آتا تو حکمت عملی وضع کیجئے۔ کیونکہ بات اتنی سادہ نہیں کہ طورخم کے اُس اور(دوسری طرف) شنواری قبائل نے بڑے بڑے مال گودام بنا رکھے ہیں اور افغان ٹریڈ کا سامان پہلے وہاں سٹور کیا جاتا ہے اور پھر چور راستوں سے پاکستانی حدود سے منسلک کارخانو مارکیٹ کے راستے ملک بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ یار وزمرہ آمد ورفت رکھنے والے قبائل کی آڑ میں اسلحہ اور منشیات کے سمگلر آسانی کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ یہ دھندے پچھلے چند ماہ میں تو شروع نہیں ہوئے۔37 یا 38 برسوں کے دوران دونوں طرف کے بہت سارے لوگ (ان میں ریاستی اداروں کے چھوٹے بڑے، جہادی وفسادی مولوی، سیاستدان اوردوسرے بھی شامل ہیں) اس دھندے سے منسلک ہیں۔ طورخم بارڈرہو یا چمن بارڈر یا پھر تفتان بارڈر تینوں مقامات کماؤ پوتوں کے لئے سونے کی چڑیا ہیں۔
مقرر عرض کروں گا کہ افغان پالیسی پر ازسرِ نو غوروفکر کی ضرورت ہے۔ لاریب ہمیں دوستوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر کوئی دشمن بننے پر تُلا ہواہے تو اس کے پاؤں پکڑنے کی بجائے اپنے کج دور کیجئے۔ افغان تنازعہ جذباتی بحثوں اور گالم گلوچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان بنیادی طور پر کثیرالقومی ملک ہے۔ اس کے پالیسی سازوں نے اس حقیقت کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو منہ اٹھا کر بڑھکیں مارتے ہیں افغان کبھی کسی کے تابع نہیں رہے۔ ان سے پوچھ لیجئے امیر تیمور، محمود غزنوی اور بابر کون تھے؟ تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ افغانوں کو ہماری ضرورت نہیں تو ہم کیوں مرے جا رہے ہیں۔ بھارت نے سرحد پر خاردارتاروں کی باڑ لگائی ہم یا دنیا نے کیا بگاڑ لیا؟ آپ بھی غیر قانونی آمدورفت و روکنے کے لئے اپنے ملکی مفاد میں فیصلے کیجیئے۔ لیکن اس سے پہلے قوم کو یہ ضرور بتا دیجیئے کہ انگور اڈا کی چیک پوسٹ واقعتاََ کسی جذنہ سے افغانستان کو دی تھی یا امریکہ بہادر کے حکم پر ؟ بارِ دیگر عرض کروں گا کہ ساڑھے چار کھرب امریکی ڈالر کا معیشت کونقصان پہنچوا کر بھی اگر افغان پالیسی پر نظر ثانی نہیں کرنی تو کب کریں گے۔ لاریب افغانستان کے مہاجرین کے لئے ازسرِ نو قانون سازی کی ضرورت ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرکے شہری علاقوں میں آباد ہونے والوں کی رجسٹریشن بھی ضروری ہے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کون کہاں سے آیا ہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ سول و ملٹری اشرافیہ کو سب سے پہلے اپنے ملک کے مفادات دیکھنا ہوں گے۔امریکی کاسہ لیسی اب بند ہو جانی چاہیے۔جو امریکہ کے ساتھ نہیں رہے دنیا میں وہ بھی زندہ ہیں۔ دروازے بند کر کے نہ بیٹھیں لیکن عزت نفس پرسمجھوتہ نہ کریں۔ ’’ہم نیک وبد حضور کوسمجھائے دیتے ہیں‘‘۔

Views All Time
Views All Time
1732
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   علامہ اقبال دور اندیش و مستقبل شناس شاعرو مفکر | اسامہ عاقل حافظ عصمت اللہ(انڈیا) - قلم کار

One thought on “طورخم بارڈر پر ٹھاہ ٹھوں ۔۔۔ پسِ پردہ کیا ہے؟

  • 16/06/2016 at 8:14 شام
    Permalink

    Good and heart touching commentary…

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: