ریاستی بیانیوں کا دیو الیہ پن اور مذہبی انتشار

Print Friendly, PDF & Email

aimal khatakاپنی امتیازی اور تنگ نظر مذہبی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ ایک مخصوص مذہبی سوچ اور لسانی تشخص اختیار کر رہی ہے۔ جس میں دیگر فرقوں اور مسلکوں کیلئے سپیس محدود اور ان کی زندگیاں اجیرن بنائی جارہی ہیں۔
ملک کو اس موڑ پر پہنچانے میں ان گھسے پٹے ریاستی بیانیوں کا اہم رول رہا ہے۔ جس کو ریاستی اداروں اور اس کے پروردہ دانشور طبقے نے پھیلا کر اس سے نہ صرف عام جنتا کے ذہن اور مذہبی اور سماجی خیالات کو آلودہ کرنے کی کوشش کی بلکہ ناعاقبت اندیش ریاستی پالیسیوں کی دفاع کے ساتھ ساتھ اس کی مہم جوئیوں کیلئے سازگار ماحول بھی فراہم کیا ہے۔
بیرونی قوتوں کی ایماء اور اندرونی نظریاتی ایجنڈا کی تکمیل کیلئے مذہبی کارڈ کے بھرپور اور بہونڈے استعمال سے معاشرے میں مذہبی خلفشار، کج روی، فرقہ واریت اور مذہبی متشدد رحجانات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں بعض عرب ممالک کا کردار بڑا منفی اور تباہ کن رہا ہے۔ ریاستی اداروں کی فرقہ پرست ، انتہاپسند اور متشدد غیر ریاستی عناصر کے ساتھ قریبی تعلق کی وجہ سے فرقہ وارایت اور انتہاپسندی کے جراثیم ریاست کے رگ رگ میں پھیل چکے ہیں ۔ بعض ریاستی عناصر اپنا غیر جانبدارانہ کردار چھوڑ کر فرقہ وارانہ اور مسلکی امور میں باقاعدہ فریق بن چکے ہیں ۔ اہم سرکاری عہدوں پر فائز ایسے افراد کی کمی نہیں جو مخالف یا دیگر فرقوں اور مسالک کو مذہب سے خارج اور کافر سمجھتے ہیں۔ اور ان کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔
اس نظریاتی گومگو کی حالت یا کنفیوژن کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح نے جو پاکستان بنایا تھا اور پیچھے چھوڑا تھا اسکو نہ صرف یہ کہ متحد نہیں رکھا جا سکا بلکہ کسی قوم کی یکجہتی اور استحکام کیلئے جس قسم کی قومی سوچ اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ملک میں یا تو ناپید ہے یا کمزور ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی ریاست اور مفادی حلقوں نے ابتدا ہی سے اپنے سیاسی اور تنگ نظر مفادات کے حصول اور فروغ کیلئے مذہب کا بے دریغ اور غلط استعمال کیا۔ پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں کی مقامی ثقافتی تنوع کو نظر انداز کرکے مصنوعی طریقے یعنی اوپر سے ریاستی طاقت اور وسائل کے بل بوتے پر ایک نئی ثقافتی یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کی گی ۔ اور اس کیلئے مذہب اور مذہبی بیانیوں کا سہارا لیا گیا ۔ مذہب کی لاٹھی سے سب کو ہانکنے لگے۔ جب مقامی لوگوں نے مزاحمت شروع کی۔ مقامی لوگوں کی حقوق کیلئے اٹھنی والی ہر آواز چاہے سیاسی حقوق کیلئے تھی یا ثقافتی پہچان اور تشخص کیلئے اور یا مذہبی عقائد کی آزادی کیلئے اسے بزور دبایا گیا۔ اس کو بزور دبانے کے ساتھ ساتھ مذہب اور غداری کے کارڈ کا استعمال شروع ہوا۔ کفر کے فتوؤں اور غداری کے تمغوں کو بانٹنے کا رواج عام کر دیا گیا۔ اگرچہ برے اور غلط استعمال کی وجہ سے یہ دونوں کارڈز یعنی مذہبی اور غداری کا اپنی وقعت اور اہمیت کھو چکے ہیں مگر اس کے باوجود یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔ جہاں دلیل اور منطق فیل ہوجائے جہاں غلط پالیسیوں اور مہم جوہیوں کو صحیح اور جائز ثابت کرنا محال ہو جہاں مخالفین کو نیچا اور کمتر ثابت کرنا ہو جہاں بنیادی حقوق کی حصولی اور تحفظ کیلئے آواز دبانا مقصود ہو تو وہاں کفر اور غداری کے آزمودہ نسخوں سے کام لیا جاتا ہے۔
تحریک پاکستان یا پاکستان کی ترقی اور استحکام میں تمام مذاہب ، فرقوں اور قومیتوں کا رول رہا ہے مگر آہستہ آہستہ اس بالادست تنگ نظر اور مخصوص مذہبی ریاستی سوچ کی وجہ سے دیگر مذاہب، فرقوں اور قومیتوں کے رول کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں آئی جے پی میٹرو اسٹیشن پر تمام قومی مشاہیر کی تصاویر موجود ہیں ماسوائے سر آغا خان اور سر ظفر اللہ خان کے۔ اس طرح دو نوبل انعام یافتہ شخصیات عبدالسلام خان اور ملالہ یوسفزئی ملک کے اندر احترام اور عزت افزائی ہمارے سامنے ہے۔ گزشتہ روز ایک سندھی دانشور نے گلہ کیا کہ چودہ اگست کے نشریات میں کئی چینلز نے قومی مشاہیر میں صبغت اللہ راشدی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
پاکستانی ریاست کا ایک المیہ یہ ہے کہ یہ مذہبی بنیاد پر بنا۔ ہماری مذہب سے عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ پر مگر مذہب کو ریاست کی بنیاد قرار دینے کے اپنے بہت سے نقصانات اور مسائل ہے۔ پاکستانیوں سے زیادہ کون ان مسائل اور نقصانات سے زیادہ واقف ہونگے کیونکہ قیام پاکستان کے انسٹھ سالوں کی تاریخ مذہبی منافرت اور خلفشار سے بھری پڑی ہے۔ جب ریاست مذہبی معاملات میں فریق بن جاتی ہے تو پھر لا محالہ معاشرے کے کچھ حصوں کے حقوق اور شہری آزادیوں پر زد پڑتی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی دیگر مذاہب، فرقوں اور مسلکوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اکثریتی مذہب، فرقہ یا مسلک معتبر اور دیگر کمتر ٹہروتے ہیں۔
مذہبی ریاستوں کی نسبت سیکولر ریاستوں میں مذہبی شناخت کم اہم ہوتی ہے مگر مذہبی ریاستوں میں یہ شناخت بنیادی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ سیکولرازم کو لادینیت تصور کیا جاتا ہےاور اسے کفر کے مترادف سمجھا جاتا ہے حالانکہ سیکولر ازم ریاست اور مذہب کے درمیان حد کھینچتا ہے نہ کہ مذہب کی نفی۔ سیکولر ازم کے تحت مذہب یا عقیدہ ہر انسان کا ذاتی فعل ہوتا ہے اور ریاست کا شہریوں کے مذہبی عقائد اور نظریات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ ریاست تمام انسانوں کی مذہبی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔ سیکولر ازم کے حوالے سے پاکستان میں پائے جانے والا یہ ابہام سرد جنگ کے دور میں ایک سوچے سمجےذ منصوبے کے تحت پھیلایا گیا تھا۔ سرد جنگ میں کمیونزم کو مات دینے کیلئے مغربی قوتوں نے مذہبی کارڈ کا بھرپور استعمال کیا ۔ اور خود سیکولرہوتے ہوئے بھی پاکستان جیسے طفیلی ریاستوں میں سیکولرازم کی مخالفت اور اس کو لادینیت سے تشبیہ دینے والے رحجانات کی حوصلہ افزائی کی۔
عملی طور پر دیکھا جائے تو بعض سیکولر معاشروں میں بھی مذہبی تعصب کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے مگر اتنی خوفناک شکل میں نہیں جتنا مذہبی ریاستوں میں پایا جاتا ہے۔ سیکولر ازم کے حوالے سے ہمارے ہاں اکثر انڈیا کی مثال دی جاتی ہے۔ وہاں سیکولر اقدار کی کمزوری اور مذہبی انتہاپسندی کو سمجھنے کیلئے برصغیر پاک و ہند کے تاریخی پس منظر اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان مخاصمت کی لمبی تاریخ اور تعلقات کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی ریاست نے کہنے کو تو دو قومی نظریے اور قرارداد مقاصد کی شکل میں اپنی نظریاتی رخ یا تشخص کا تعین کیا مگر اس عمل سے عملاََ ملک کو نظریاتی کنفیوژن اور مذہبی خلفشار کے سوا کچھ نہ ملا ۔ مذہب کے نام پر بننے والے ملک میں سب کچھ ہے مگر مذہبی رواداری اور ہم آہنگی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ابھی تک بانئ پاکستان کے نظریاتی تشخص کا تعین تک نہ ہوسکا کہ آیا وہ سیکولر تےد یا کٹر مذہبی۔ ہر مکتبہ فکر کے پاس اپنی بات ثابت کرنے کیلئے ان کے بیانات اور تقریروں کے حوالے موجود ہے۔ لیکن قانون ساز اسمبلی میں ان کی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کا پالیسی خطاب اہم ہے ۔ کیونکہ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں پر پالیسی بیانات کی اہمیت کہیں زیادہ ہوتی ہے اور خاص کر جب نئے وجود میں آنے والے ملک کی آئندہ پالیسی کے بنیادی خدوخال بیان کرنا مقصود ہو۔ پالیسی خطاب میں انھوں نے پاکستان کے مستقبل کی نظریاتی بنیادوں کا تعین کیا تھا اور مذہبی آزادی ، برداشت ، روشن خیالی اور میانہ روی پر مبنی منزل کی نشاندہی کی تھی ۔ اس اہم خطاب کو اکثر یا تو فراموش کیا جاتا ہے یا اسکی اہمیت کم کی جاتی ہے۔ اس خطاب میں مذہبی آزادی اور شہریوں کی ذاتی اور روزمرہ معاملات میں ریاست کی کم سے کم مداخلت کی بات کی گئی تھی جو ایک سیکولر ریاست کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ شہریوں کا جو بھی مذہب یا عقیدہ ہوگا ریاست کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا اور تمام شہری آزاد ہونگے۔
بدقسمتی سے پاکستانی ریاست کے مذہب کے معاملے میں فریق بننےکے نتیجے میں مذہب کے نام پر کشت و خون کے رحجان کو فروغ ملا ۔ اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ عام شہری چاہے اکثریت سے تعلق ہو یا اقلیت سے کھلے عام بلا خوف و خطر اپنی عبادت نہیں کرسکتا اور گھر سے لے کر قبرستان تک مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد سے کوئی مذہبی شخصیت ، مذہبی جلوس اور عبادت گاہ محفوظ نہیں ۔ اس کے علاوہ مذہبی اقلیتوں کو مختلف امتیازی رویوں اور قدغنوں کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر وفاقی دارلخلافہ اسلام آباد میں دو مندر موجود ہیں مگر وہاں کے ہندو باسیوں کو اس میں عبادت کی اجازت نہیں۔
بنگلہ دیش بننے کے بعد بنیادی بیانیہ جو دو قومی نظرئیے کی شکل میں دیا گیا تھا اس نے اپنی اہمیت اور وقعت کو کھو دیا ہے۔ حالانکہ اس بیانیے کو قیام پاکستان کے فورا بعد زلزلے کے جھٹکے لگنے شروع ھوگئے تےی۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں شامل ہونے والے علاقوں سے آنے ہونے والی قیادت نے نئے معرض الوجودمیں آنے والے ملک میں مقامی سیاسی حقائق ، زبانوں اور ثقافت کا پاس نہ کیا اور اپنی زبان اور ثقافت کو بزور نافذ کرنے کی کوشش شروع کی۔ قیام پاکستان کے ایک ہفتے کے اندر اندر صوبہ سرحد کی منتخب حکومت توڑ دی گئی۔ بارہ اگست 1948 کو بابڑہ ، چارسدہ میں نہتے خدائی خدمتگاروں پر اور اکیس فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں بنگلہ زبان کی حق میں طلبہ کے پرامن مظاہرے پر فائرنگ کی گئی۔ چونکہ نئے ملک میں برسر اقتدار آنے والی سیاسی اشرافیہ کی اکثریت کی یہاں پر سیاسی جڑیں یا حلقے نہیں تےا اور نہ ہی ان کو مقامی زبانوں اور ثقافتوں کی شد بد تھی۔ اس وجہ سے نہ تو انکو جمہوریت راس آئی اور نہ ہی انہوں نے مقامی ثقافتوں کو اپنانے یا اس سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اور اپنے آپ کو مہاجر کہلاتے ہوئےابھی تک جداگانہ تشخص برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ ثقافتی اور لسانی یکسانیت کی وجہ سے مشرقی سے مغربی پنجاب ہجرت کرنے والے آسانی سے مقامی آبادی کے ساتھ گھل مل گئے۔
مذہبی دہشت گردی اب ریاست کی اولین دشمن بن چکی ہے۔ اندرونی دشمن بیرونی سے زیادہ خطرناک اور زہریلا بن چکا ہے۔ اگرچہ ریاست نے اندرونی دشمن کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے اور کسی حد تک اس جنگ میں کامیابیاں بھی حاصل کر رہی ہے ۔ مگر یہ جنگ کئی وجوہات کی وجہ سے سست روی اور نیم دلی کا شکار ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ جنگ ہمہ پہلو نہیں ہے ۔ مطلب صرف طاقت کے استعمال سے دہشت گردی کا سنگین اور پیچیدہ مسلہ حل نہیں ہوسکتا۔ آپریشن اس کے صرف ایک پہلو یعنی عسکریت پسندی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جبکہ دہشت گردی، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کو جنم دینے والی ماں یعنی مذہبی انتہاپسندی کے سدباب اور روک تھام کیلئے کوئی جامع منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسرا ریاست میں پرانے مائینڈ سیٹ کی حامل بعض قوتیں جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں نیم دلی یا لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ اور تو اور وزیر داخلہ سے لیکر آرمی چیف تک قومی منصوبہ عمل پر مکمل عملدرامد نہ ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔ تیسرا عسکریت پسندوں سے مکمل قطع تعلق یا لا تعلقی نہیں کی گئی ہے۔ ان میں اچھے اور برے کی تمیز کسی نہ کسی شکل میں اب بھی موجود ہے۔ جس سے عسکریت پسندی کے جن کو بوتل میں مکمل طور پر بند کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ ریاستی اداروں کو یہ عام سی منطق سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ اچھاعسکریت پسند کسی بھی وقت برا عسکریت پسند بن سکتا ہے۔ سٹرٹیجک سوچ اور عمل میں اس کنفیوژن اور دوہری حکمت عملی کا عکس ہمیں بعض ریاستی بیانیوں میں بھی ملتا ہے جو یا تو اپنی غلط پالیسیوں اور مہم جوئیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اور اپنے تنگ نظر مفادات کیلئے اب بھی اندرونی سے زیادہ بیرونی قوتوں کو صورتحال کی خرابی کا ذمہ دار ٹہرماتی ہیں۔ بیرونی قوتوں کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اپنی کوتاہیوں اور غلط پالیسیوں کیلئے بھی ان کو ذمہ دار ٹھہرانا اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا اور اس سے اپنے آپ کو مبرا قرار دینے کی ناکام کوشش ہے۔
قومی قیادت بشمول عسکری قیادت نے مشرقی پاکستان کے سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پائیدار جمہوریت جو ملک میں موجود سیاسی، مذہبی ، لسانی اور علاقائی تنازعات کے حل کیلئے ایک بہترین میکنزم ہو سکتا تھا نہ پنپ سکا اور ملک میں جمہوریت کے نام پر ہر قسم کے ڈرامے تو رچائے گئے مگر جمہوری اقدار، روایات اور اداروں کو مستحکم اور مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں کیا گیا۔ اور ملک جمہوری کی بجائے عملا ایک نیم تھیوکریکا جمہوری ریاست بن گیا۔
مذہبی دہشت گردی اور فرقہ وارایت کا ایک موثر علاج ریاست کو مذہبی معاملات سے الگ کرنے میں ہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ریاست کو مذہب سے علیحدہ کیا جائے ورنہ ان معاملات میں فریق بنے رہنے سے انتہاپسندی ، فرقہ واریت اور دہشت گردی کسی نہ کسی شکل میں موجود رہےگی اور ریاست کے بعض حصوں اور اداروں میں ان کیلئے ہمدردی اور حتیٰ کہ سرپرستی بدستور موجود رہے گی۔بقول شخصے مذہب کو ریاست سے الگ کرنے کی مختصر تشریح یہ ہے کہ ریاست سب کی ہوگی اور مذہب ہر شہری کا جدا جدا۔ پاکستان کی اندرونی سلامتی اور استحکام کیلئے ایک بنیادی شرط ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں بھی ہے۔ اچھی ہمسائیگی کے تعلقات سے علاقے میں نہ صرف علاقائی تعاون اور تجارت کو فروغ بلکہ امن و استحکام کو تقویت بھی ملے گی۔ دو قومی نظریئے کی ناکامی کے بعد پاکستانی ریاست ملک کی معروضی حقائق اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کوئی نیا جامع بیانیہ تخلیق نہ کرسکی جبکہ فرقہ وارانہ اور متشدد مذہبی بیانیوں نے ملک کی سلامتی کو سنگین خطرات اور چیلنجزز سے دو چار کیا۔ اب رواداری ، برداشت اور امن پسندی پر مبنی بیانیوں کی ضرورت ہے جو ملک میں پھیلی انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کا مکمل سدباب کر سکے۔

Views All Time
Views All Time
405
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قلم کار -- خواب سے حقیقت تک کا سفر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: