یہ دستورِ زباں بندی

Print Friendly, PDF & Email

farha
انسانی تہذیب کی تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے پہل کے انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھ کر خود کو اسکے مطابق ڈھالا۔ ذرا توانا ہوا تو ماحول کو اپنے مطابق ڈھالنے کی خواہش کا اسیر ہوگیا۔قدرت بھی ایک حد تک مہربان ہواکرتی ہے سو اسکی خواہش کی راہ میں اس جیسے ہی دوسرے انسان کاوجود ایک روکاوٹ کی طرح حائل ہوگیا۔
آدم زاد ہوکرآدم زاد کو ہی زیر کرنا،نظام قدرت پر گرفت مضبوط کرنے سے بڑھ کر دشوار تھا۔ تسخیر کی خواہش اپنی جگہ مگر انسان کو انسان کی ضرورت تو ھمیشہ سے تھی اور ھمیشہ سے رہے گی سو ضرورتوں کے اس بندھن نے فرد کو خاندان ،خاندان کو گروہوں اور گروہوں کو قبیلوں کی ارتقائی منازل سے گزارا۔جوں جوں ضرورتیں متصادم ہوتی گئیں تسخیر کی خواہش اور پکڑتی چلی گئی لہذا ایک جانب جبکہ گروہی نظام زندگی کی آبیاری کی جارہی تھی تو دوسری جانب ہوس اقتدار کی آکاس بیل پروان چڑھ رہی تھی۔ ادھرجب فرد کے حقوق اور فرائض کے خطوط کھینچ کر معاشرتی زندگی کے خدوخال واضح کئے جارہے تھے تو سوال اٹھا کہ "فرد کے لئے اظہار رائے کی کیا اہمیت ہے؟ ” جواب کی تلاش میں انفرادی اظہار رائے کا استحقاق اور اسکے تقاضے غورطلب ٹھہرے ۔ معاشرے کے کرتادھرتا معاملے کی تہہ تک جاپہنچے اور نتیجتاََ یہ فطری آزادی گروہوں اورقبیلوں کے طے کردہ اصول و قوانین کی پابندیوں کی جکڑ میں آ گئی۔صاحبان اقتدار بااختیار ہوتے چلے گئےجبکہ فرد کو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے یا کسی ناانصافی کے خلاف لب کشائی کرنے کی قیمت ،سرزنش، جرمانے اور قید کی صورت ادا کرنی پڑتی تھی۔ اور جو پھر بھی جرات اظہار سے باز نہ آتا تو اسکی زبان ہی کاٹ دی جاتی۔اس سے اگلا مرحلہ گردن زدنی کا تھا۔
گزرتےوقت کے ساتھ زباں بندی کی یہ روایات اشرافیہ سے ہوتی ہوئی حکمرانوں اور ایوانوں تک پہنچیں اور برس ہا برس کے تجربات کے نچوڑ کے طور پر پابندی کے نئے سے نئے ریاستی قوانین متعارف کرائے گئے۔ان قوانین کے دائرے کا قطر ہرنئے آنےوالے حکمران کے ظرف کی کشادگی کے مطابق طے پایا کرتا تھا ۔
انھی دنوں کے کسی ( گئے) گزرے بادشاہ کی کہانی یاد آگئی جس نے زبان بندی کی روایت میں ایسی جدت پیدا کی جسکی مثال نہیں ملتی اور اس تاریخی حکمت عملی کا فیض رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن بادشاہ کی کابینہ کےایک "down towards earth” قسم کے وزیر نے تلوے چاٹنے کی مشق کے دوران بادشاہ کی توجہ چند گستاخ زبان درازوں کی جانب مبذول کراوائی ۔ معاملہ ذاتی نوعیت کی سنجیدگی لئے ہوئے تھا چنانچہ کمیٹی بنانے کی بجائے فوری غور و غوض شروع کر دیا گیا۔ ایک پرجوش وزیر نے زبان جڑ سے اکھیڑ دینے کی رسم کو پھر سے تازہ کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں ۔ایک قابل وزیر نےجو کہ ھمیشہ دور ،دور کی کوڑی مہنگے داموں لایا کرتا تھا دبی زبان سے مشورہ دیا کہ سب زبان درازوں کی زبان کاٹنے کی کیا ضرورت ہے۔ان زبانوں کو لگام بھی تو ڈالی جا سکتی ہے۔ جنکی زبانیں بے لگام گھوڑوں کی طرح حکومت وقت کی بنیادیں روند رہی ہیں انہیں "چارہ” ڈال دیا جائے اور جو زہر اگل رہی ہیں انھیں دودھ پلا دیا جائے۔ تجویز اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ وزیر نے سرکاری وظیفے اور اختیارات میں اضافے کے ساتھ فوری عملدرآمد شروع کر دیا۔ ملک بھر میں منادی کر وا دی گئی کہ رعایا کی فلاح و بہبود کے لئے نئے منصوبوں کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔ عوام سے افرادی قوت کی صورت میں تعاون کی درخواست ہے۔ بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے لوگ جوق در جوق اپنی خدمات پیش کرنے لگے ۔ ایک جانب چراگاہوں کی توسیع کا آغاز ہوا
تو دوسری جانب دودھ کی نہر کھو دی جانے لگی۔ رعایا کی دن رات کی انتھک محنت کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے دونوں منصوبے پایہ ء تکمیل کو جا پہنچے ۔وزیر با تدبیر نے زبان درازوں کی فہرست کے مطابق چارے اور دودھ کی پیداوار سے لگام کا کام لینا شروع کر دیا۔
بادشاہ سلامت نےمسئلے کے پرامن حل سے خوش ہو کر نئے منصوبوں کا اعلان کر دیا۔ایک تھا رعایا کو تمام سرکاری سبز باغات کے مالکانہ حقوق کی منتقلی اور دوسرا، زہر آلود جوئے شیر تک صبح شام رسائی کی سہولت۔ رعایا نے بادشاہ کی دریا دلی کو خوب سراہا اور بادشاہ سلامت کی درازی ء عمر کی دعائیں مانگی جانیں لگیں ۔یوں چند سر پھروں کے علاوہ سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔
کہتےہیں کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں نہ ان سے حاصل ہونے والے سبق ۔ انکے کردار و واقعات فرضی ہو سکتے ہیں مگر سننے اور پڑھنے والے پر اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ بچپن سے سنتے آئے تھے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر آج اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہانیاں بھی اپنے آپ کو دہراتی ہیں۔

Views All Time
Views All Time
1340
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خلائی تعزیت کی دنیا؟ - وسعت اللہ خان

3 thoughts on “یہ دستورِ زباں بندی

  • 12/05/2016 at 5:34 شام
    Permalink

    Very nice but the correct word is dala and dalna but not dhala and dhalna

    Reply
  • 03/06/2016 at 9:14 صبح
    Permalink

    BEHTAREEN TEHREER

    Reply
    • 19/08/2016 at 9:48 شام
      Permalink

      سقراط ہو عیسی ہو علی ہو ابوذر ہو حسین ہو حق بینی و حق گوئی کے قافلے کے سفر کا پڑاؤ کربلا کے صحرا میں ہی ہوتا چلا آرہا ہے سر اور نوک سناں حق پرستی اور فراز دار کا رشتہ بہت پرانا ہے دستور زباں بندی کی روایت کے معتبر راویوں میں ابوذر میثم تمار اور حجر بن عدی جیسے شجاع لوگوں کے تذکرے ملتے ہیں یا فرزدق و سکیت رشید ہجری و دعبل خزاعی جیسے قلمکاروں کی لہو سے تر داستانیں ہیں
      ہر دور میں کربلا کی پروردہ فکر نے دستور زباں بندی کی روایت دیرینہ کو شجاعت و دلیری سے للکارا ہے اور عہد بے ضمیری میں اپنی زندہ ضمیری کا ثبوت یہ کہتے ہوئے پیش کیا ہے کہ :
      زندگی اتنی بھی غنیمت تو نہیں جس کے لئے
      عہد کم ظرف کی ہر بات گوارا کر لیں
      فاضل کالم نگار نے بہت خوبصورتی سے قلم فروشی و ضمیر فروشی کی عصر حاضر میں پنپتی ہوئی غلیظ اور کریہہ سوچ کا احاطہ کیا ہے

      Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: