Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بکرا عید کی تیاری

by ستمبر 13, 2016 بلاگ
بکرا عید کی تیاری
Print Friendly, PDF & Email

faiza-ch-1ایک وقت ہوتا تھاکہ عید الفطر کے ختم ہوتے ہی عید الاضحیٰ کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں۔لوگ بکرے،دنبے یا گائے وغیرہ لے آتے اور عید تک ان کی خوب سیوا کرتے تھے۔بڑے شوق سے قربانی کے جانور کی خاطر داری کی جاتی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے دادا جی چھوٹی سی بکری لیا کرتے تھے،اور اس بکری کے بچوں کو پالتے تھے۔ہم نہ صرف عید الاضحیٰ پہ قربانی کرتے تھے بلکہ عید الفطر پہ بھی بکرا ضرور ذبح کرتے تھے۔میرے دادا جی ان بکروں کی دیکھ بھال بڑے لاڈ پیار سے کرتے تھے۔ان بکروں کو گھاس کے علاوہ فروٹ بھی کھلاتے تھے۔ان کو گرمی اور سردی سے بچانے کے لیے ایک کمرہ بنا رکھا تھا۔اور سردیوں میں انہیں باقاعدہ جرسیاں پہناتے تھے۔خاص طور پر قربانی کے بکرے کی خاطروتواضع بڑے اہتمام سے کی جاتی تھی۔ جب سے داد جی اللہ کو پیارے ہوئے ہیں ،ہر عید پہ ہم دادا جی کو بہت یاد کرتے ہیں ۔ان کا قربانی کے لیے جوش و خروش دل کو اداس کر دیتاہے۔
اس وقت عید کا جوش و خروش، قربانی کا جذبہ، پیارومحبت اور کچھ دکھ اور افسردگی کے ملے جلے تاثرات چہروں پہ سجائے ہم سب بچے قربانی کے بکرے کو کبھی مہندی لگاتے تو کبھی پھولوں سے ایسے سجاتے تھے جیسے دلہن کو شادی کے لیے سجایا جاتا ہے۔اس وقت بچے اور بڑے دونوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ہر انسان کے ذہن میں یہ بات ہوتی تھی کہ قربانی دینا ایک فرض ہے جسے خوش اسلوبی سے ادا کرنا ہے۔یہ فرض حضرت ابراہیم علیہ سلام اور حضرت اسماعیل علیہ سلام کی قربانی کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ادا کیا جاتا ہے۔بچوں کو بھی ان کے والدین یا دادا ،دادی،نانا ،نانی یہی بتاتے تھے۔تاکہ ان کی مذہب سے وابستگی پیدا ہو ۔وہ اپنے دین کے متعلق جانیں اور انہیں علم ہو کہ کیوں عید الاضحیٰ پر قربانی کا اتنا اہتمام کیا جاتا ہے۔
آج کے دور میں وہ سب اہتمام،وہ جوش وخروش،پیار،عقیدت اور محبت نہ جانے کہاں مفقود ہوگئی ہے۔ہرطرف گہماگہمی ہے۔نہ دین کی فکرنہ فرائض کا خیال۔آج کے دور میں بچوں کو بھی صرف اس چیز کا اشتیاق ہوتا کہ ہمارا بکرا ہمارے دوست کے بکرے سے مہنگا ہونا چاہیے۔یا یہ کہ اگر ہمارا فلاں رشتہ دار بکرے کی قربانی کر رہا ہے تو ہم لازمی گائے یا اونٹ کی قربانی کریں گے تاکہ برادری میں ہماری ناک اونچی رہے۔آج کے دور میں صرف دکھاوا یا بھرم رکھنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔
عید سے ایک دو دن پہلے اٹھے،کسی دوست کو ساتھ لیا،اور بکرا پسند کرنے چل پڑے۔گھر سے نکلے تو دیکھا منڈی جانے والے راستوں پر ٹریفک بند پڑی ہے جیسے سب ڈرائیور موبائل فون کی طرح سائلنٹ موڈپر لگے ہوں۔اللہ اللہ کر کے گاڑیاں چیونٹی کی رفتار سے رینگنا شروع کرتی ہیں۔کہیں چارپانچ گھنٹے کی مشقت سے بکرا منڈی کا منہ دیکھنے کو ملتا ہے۔بکرا منڈی میں پہنچے توہر طرف’’ میں میں‘‘کی آوازوں کا شور برپاہوتاجیسے بکروں کو بیچا نہیں ذبح کیا جا رہا ہو۔خدا خدا کر کے کوئی بکرا پسند آتا ہے توبکروں کی قیمتیں سن کے اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہوتا کہ بلڈ پریشر ہائی ہو رہا ہے یا لو۔جیب کو دیکھو تو یوں لگتا کہ شاید اگلے چند سال تک بکرا لینا تو دور بکرے کی تصویر لینا بھی پہنچ میں نہیں ہو سکتا۔اور خواب لے کے نکلے تھے گائے یا اونٹ کا۔دو تین گھنٹے کی خواری کے باوجود مطلوبہ قیمت میں بکرا نہیں ملتاتو منہ لٹکائے گھر واپس آجاتے ہیں۔خالی ہاتھ گھر آئے تو بچوں کے اداس چہرے بیوی کا خفا ہونا اور بھی طبیعت بوجھل ہوکر گیا۔
چاروناچار اگلے دن اِدھر ٰادھرگلی محلے کے لوگوں سے رابطہ کیاکہ کہاں بھینس یا اونٹ کی قربانی کی جارہی ہے اس میں ہی حصہ دار بن جاتے ہیں۔بچے بھی خوش ہو جائیں گے کہ ہمارے دوست نے بکرے کی قربانی کی تو ہم نے گائے کی۔
حضرت ابراہیم علیہ سلام یا حضرت اسماعیل علیہ سلام کی قربانی کی یاد کو تازہ کرنے کی فکر کسی کو نہیں۔قربانی کی اور بکرا فریج میں۔نہ غریبوں کو ان کا حصہ دینے کی پرواہ نہ مسکینوں کو ہی گوشت دیا جاتا۔عید کے دن بھی غرباء اور مساکین قربانی والے گھروں سے گوشت کے انتظار میں بھوکے بیٹھے رہتے ہیں۔اور امیر باربی کیو ،پلاؤ،اچارگوشت تکے ،کباب اور نہ جانے کون کون سی نت نئی دشیں بنا بنا کے کھاتے رہتے ہیں۔
عید سے پہلے ہی یہ منصوبہ بندی کر لی جاتی ہے کہ اس سال بکرا عید پر کون کون سی نئی ڈشیں تیار کرنی ہیں،کس سہیلی کے گھر زیادہ گوشت بھیجنا تاکہ اس کے سامنے میری ناک اونچی رہے،اور کس رشتہ دار کی دعوت کرنی ہے۔بچوں کو گوشت کھانے سے زیادہ اپنی دوستوں کے گھروں میں گوشت بانٹنے میں دلچسپی ہوتی ہے۔
کسی کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ عید آنے سے پہلے ہم اپنے ارد گرد گلی محلے میں نظر دوڑائیں کہ کتنے گھر ایسے ہیں جو قربانی دینے کی استطاعت نہیں رکھتے،اور انہیں خاص طور پر قربانی کا گوشت پہنچایا جائے۔تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں سے اپنا حصہ لیں۔کہیں ایسا نا ہو کہ اللہ کی پکڑ میں آجائیں۔اورہماری دی گئی قربانی صحیح معنوں میں فرض کی قبولیت کا سبب بن سکے۔ورنہ ہم اپنے دکھاوے اور بھرم کے چکروں میں اپنی نیکیاں ضائع کر رہے ہیں۔خدارا اس دنیا کے چکر سے نکل کر اگلی دنیا کا سوچیں تاکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔

Views All Time
Views All Time
1088
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر کیسے قابو پایا جائے | عباس بلوچ
Previous
Next

One commentcomments8

  1. A great overview to the current scenario of Eid ul Azha. Keep it up.

  2. Kash k hm me dikhawa khtm ho. Nice choudhary.

  3. Have a good lesson for Muslim community relevant to Eid ul Azhaa.

  4. Nice buddy. Try to awake sleeping nation.

  5. You are choosing nice topics with great lesson for people. Very nice.

  6. Eid Mubarak choudhary. Good remembered memories and good topic as per Eid

  7. اصل میں حقیقت یہ ہے کہ پہلے قربانی،قربانی ہی ہوا کرتی تھی پر افسوس صد افسوس اب صرف دکھاوا رہ گیا ہے۔۔۔افسوس ہم نے اپنے اقدار بھلا دیئے۔۔۔۔۔اپنی اساس بھلا دی۔۔۔۔۔اب تو صرف جانور مظلوم دکھائی دیتے ہیں۔۔اچھی کاوش ہے امت اور خاص کر اس قوم کو جگانے کی۔۔۔۔۔۔

  8. Good topic, bhot acha he Eid ki tiyari. Energetic.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: