بابو جی

Print Friendly, PDF & Email

hafiz hayatمون سون کی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اور ایک نوجوان ہر شے سے بے پرواہ ہو کر چھت پہ سو رہاتھا ۔آج اتوار کا دن تھا اور دلاور کو چھٹی تھی اس کو گھر والوں نے جگانے کے کافی جتن کیے مگر سب بے سود۔۔۔۔۔۔اچانک تیز بارش نے دلاور کو بھاگ کر نیچے آنے پر مجبور کر دیا اُسے بارش میں بھیگا دیکھ کر گھر کے سبھی لوگ مسکرا رہے تھے ۔دلاور جو کہ اپنے گھر کا اکلوتا چشم وچراغ تھا اس نے اپنے گھر والوں کا نام پورے شہر ہی نہیں بلکہ پورے صوبے میں روشن کیا تھا اُس نے میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں بورڈ میں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد بی اے کے امتحان میں صوبہ بھر میں اوّل پوزیشن حاصل کی تھی۔وہ اپنے والدین کا اطاعت گزار بیٹا تھا اور اور سارے خاندان کے لوگ اس کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔دلاور ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا ان کے پاس نہ تو رشوت کے لیے پیسے تھا اور نہ کسی سیاست دان کی سفارش تھی۔
دلاور کے والد اپنے چودھری صاحب کے منشی تھے اور پورا گاؤں ان کی دیانت داری کا معترف تھا ۔چودھری صاحب جو کہ خود تو ان پڑھ تھے مگر سارے پڑھے لکھے افسران پر اُن ہی کا حکم چلتا تھا ۔آخر کا رچودھری صاحب نے منشی کے بار بار اصرار پر سفارش کر ہی دی اور اُس کے بیٹے کو سکول میں نوکری مل گئی۔دلاور کو گاؤں کے لوگ بابو جی اور ماسٹر جی کے نام سے یاد کرتے تھے۔بابو جی نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ بھیج دیا اور کچھ عرصہ بعد اُس نے ایم اے کا امتحان بھی امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کر لیا اِدھر حکومت بدلی اور چودھری صاحب کی پارٹی حکومت میں آئی اور بابو جی کو سکول کا ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک رات طوفان آیا جس سے بہت تباہی ہوئی اور بابو جی کے سکول کی ایک دیوار بھی گر گئی۔دراصل یہ دیوار سکول کی نہیں بلکہ دلاور کے اونچے مقدر کی گری تھی جس پر اُسے فخر تھا ۔اگلے دن صبح بابو جی چند اور ٹیچرز کے ہمراہ اُس دیوار کا معا ئنہ کیا تا کہ دوبارہ تعمیر کے لیے تخمینہ لگایا جا سکے۔جہاں سے دیوار گری تھی وہی ایک کنواں تھا جہاں سے گاؤں کے لوگ پانی بھرتے تھے وہاں ایک لڑکی نے بابو جی کو دیکھا اور بابوجی اُس کی آنکھوں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو کر گر گئے ۔ہوش میں آنے کے بعد اسے چین نہیں آیا۔بہت سی ادویات بھی اس کی طبعیت کو قرار نہ بخش سکیں۔دو دن کے بعد بابوجی سکول گئے اور بےقرار طبعیت کے ساتھ سکول میں تعمیرات کا جائزہ لینے گئے۔اسی لڑکی کو دیکھتے ہی بابو جی کی طبعیت میں.کچھ قرار آگیا اور وہ روزانہ اسی لڑکی کا انتظار کرتے ۔کچھ دن یوں گزرے تو اب بابو جی کے دل میں اس لڑکی سے بات کرنے کی لگن پیدا ہوئی۔اب لڑکی کو متوجہ کرنے کے لیے املی کی گھٹلی اس لڑکی کی طرف پھینکی لڑکی بچ گئی اُس نے وہی گھٹلی اٹھائی اور بابو جی کی طرف بڑھنے لگی وہ جُوں جُوں قریب آرہی تھی بابو جی کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی اُس لڑکی نے بابو جی کے ہاتھ پہ وہی گھٹلی رکھی اور کہا’’ جے لگ جاندی تے‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی کی زبان سے یہ الفاظ سن کر وہ دنیا و مافیہا سے دُور ہوگیا اُس کو اپنی ساری تعلیم،ڈگریاں ،پوزیشنز،عہدے،اور ذمے داریاں سبھی کچھ بھول گیا اگر کچھ یاد رہ گیا تو وہ دو بول جو لڑکی نے کہے تھے’’ جے لگ جاندی تے‘‘۔وہ اسی کاہر وقت ورد کرتا رہتا وہ دیوانہ بن کر گلیوں ،بازاروں،چوکوں اور چوراہوں میں پھرتا رہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گھر بار،نوکری،جائیداد سب کچھ ہی چھوڑ دیا اگر کچھ اپنے پاس رکھا تو محبوب کے وہ بول جو اس نے اس سے کہے تھے۔تھوڑے ہی عرصے بعد اُسی لڑکی کی شادی ہو گئی اور وہ بابو جی کے انجام سے بالکل بے خبر تھی۔اِدھر بابو جی کے لیے اس کے دو بول کل کائنات اور سرمایہ تھے۔۔۔۔۔لڑکی کچھ عرصہ بعد جب اپنے ماں باپ کے گھر آئی تو دیکھتی ہے کہ ایک چوراہے میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور ایک دیوانے کو پتھر مار رہے ہیں جب اس نے بابو جی کو پہچانا تووہ بھی اس مجمع کے پاس پہنچی۔
اور وہ دیوانہ بجائے چیخ وپُکار کرنے کے بس زبان سے ایک ہی جملہ کہتا تھا’’ جے لگ جاندی تے‘‘۔۔۔’’ جے لگ جاندی تے‘‘۔۔۔
اس لڑکی نے جب یہ الفاظ سنے تو اسے اپنے دھرائے ہوئے الفاظ یاد آئے اور اس نے بچوں کو آگے سے ہٹاتے ہوئے بابو جی سے پوچھا ،آپ نے یہ اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے۔؟ ۔اب وہ لمحہ وصل تھا جو بہت ہی کم عاشقوں کو نصیب ہوا بابو جی نے آج پہلی بار اس لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈال کر کہا ’’ جے لگ جاندی تے‘‘۔ لڑکی نے کہا ’’آج لگ گئی ہے‘‘ وہ لڑکی بابو جی کی آنکھوں کی تاب
نہ لا سکی اور گر گئی ۔۔۔اس کے گرنے کی دیر تھی کہ بابو جی کی روح پرواز گئی اور یوں عشق کی ایک داستان ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔

Views All Time
Views All Time
472
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اندھا قانون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: