Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بابا وی لوو یو

by جون 20, 2016 کالم
بابا وی لوو یو
Print Friendly, PDF & Email

sana batoolدنیا کا سب سے بے لوث،قابل بھروسہ ،تناور سائبان جو وقت کی دھوپ،آندھی زمانے کے گرم و سرد تھپیڑوں سے اولاد کو بچائے رکھتا ہے باپ کا رشتہ ہے۔ایسی دنیا جو مطلب اور خودغرضی کی دھند میں لپٹی ہے جہاں عملی مدد تو درکنار ہمدردی کے دو بول بھی بنا مطلب نیہں بولے جاتے ۔وہاں صرف ایک ہی رشتہ ایسا ہے جو کسی بھی طرح کی توقع کیے بغیر خاموشی سے نہ صرف اولاد کی پرورش کرتا بلکہ کبھی انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہونے دیتا کہ بظاہر خاموش ،محبت کے جذبے سے نابلد وہ عظیم انسان اپنے دل میں محبت اور رحمت کا کتنا بڑا خزانہ لیے پھرتا ہے۔
کہنے کو تو ہمارے پدر سری معاشرے میں مرد ہی خاندانی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے اور یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو طے شدہ ہے اس لیے کبھی یہ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ اس ذمہ داری کا بار بغیر چوں چراں کیے اٹھانے والا بظاہر مضبوط اور حوصلہ مند انسان بھی مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہو سکتا ہے اور اسے بھی والہانہ محبت اور پیار کی ضرورت شدت سے ہوتی ہے جو زندہ رہنے اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔یقین جانیےمحبت ہی وہ واحد جزبہ ہے جو انسان میں دنیا کی ہر بدصورتی کا سامنا کرنے اور سہنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے الفاظ کی صورت اپنے باپ سے محبت کا اظہار کیا ہو گا؟ یا جو ان تمام تر مہربانیوں اور رحمتوں کے بدلے اپنے بابا کے شکر گزار ہوئے ہوں گے؟شائد بہت کم لوگ ہی ایسا کر پائے ہو گے۔ کیونکہ ہم نفرت کے اظہار میں بے تحاشہ واضح انداز اختیار کرتے ہیں لیکن محبت کے اظہار میں کسی نادیدہ خوف کا شکار ہو کے ایک ایسی ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں جو ہماری زبان کو گنگ کر دیتی ہے۔تو اس صورت میں ہم اس ہستی سے بھی پیار کے اظہار کی جرات نہیں کر پاتے جو ہمارے لیے جان سے بھی پیاری ہوتی ہے۔
اولاد کی تربیت میں ماں کا بہت فعال کردار ہوتا ہے کیونکہ اسے وہ وقت اور فرصت میسر ہوتی ہے جو اولاد کی سوچ کی بنیاد رکھ سکے وہ چاہے تو اولاد کو مجسم پیار بنا دے چاہے تو ان کے ذہنوں میں نفرتوں کے بیج بو دے کیونکہ فطری طور پے ہی اولاد ماں سے بے تحاشا قریب ہوتی ہے۔لیکن اس تربیت کو متوازن اور مثبت بنانے میں باپ کا کردار کلیدی ہوتا ہے کیونکہ اس کی سوچ،سپورٹ اور حوصلہ ہی معاشرے کا سامنا کرنے اور زندگی گزارنے کا حوصلہ دیتی ہے اور یہی سوچ خاندان کی بنیاد رکھتی ہے ۔کیونکہ خاندان کی بنیادی سوچ کے پیچھے جو محرک کارفرماہوتا ہے وه باپ کا طرز فکر ہے اسی پہ اولاد کی سوچ پروان چڑھتی ہے.
اس سب سے پیارے اور بے لوث رشتے کےکو خراج تحسین پیش کرنا ممکن نہیں لیکن انسان جس تجربے سے گزرتا ہے وه چیزوں کو اسی حوالے سےدیکھنے کا عادی ہوتا ہے .بچپن گزارتے ,ہوش سنبھالتے میں نے چیزوں کو جیسی ہیں جہاں ہیں کی بنیاد پر قبول کرنا نہیں سیکھا.سوال اٹھایا لیکن مجھے اس سختی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو ہمارے معاشرے کا خاصا ہے سوال کا جواب دیا گیا اور کہیں خاموشی اختیار کی گئی کہ وقت اور کوشش سے خود جواب ڈھونڈا جائے لیکن کبھی سختی نہیں کی گئی.بات عام استعمال کی اشیاء چننے کی ہو یا زندگی اپنے ڈھنگ سے گزارنے کا فیصلہ کرنے کی، جس ہستی نے خنده پیشانی سے میری بات کو سنا اور مسکرا کے ساتھ دیا وه میرے ابو ہیں وه چاہے تعلیم کے دوران مضامین بدلنے کی ہو یا کیریئر بدلنے کی، ان لوگوں سے دوستیاں رکھنے کی جن سے ازلی مخالفت ہو یا ایسے سماجی اجتماع میں جانے کی کہ جو رسم و رواج سے میل نہ کھاتاہومجھے مسکراتےہوئے اجازت ملی کبھی کبھار پریشانی کے ساتھ لیکن کبھی کوئی فیصلہ میرے خلاف نہیں گیا. بات شخصی آزادی کی تھی جو دیر میں سمجھ آئی وه جسے لاڈ سمجھا گیا دراصل وه آزادی تھی جس نےمجھے میری حدود سمجھنے میں مدد دی .اگر کسی فرد کو یہ آزادی حاصل نہیں تو وه اس قابل نہیں ہو سکتا کہ اعتماد سے جی سکے یا یہ جان سکے کہ آزادی کو کیونکر استعمال کرنا ہے.اس لیے ضروری ہے کہ یہ آزادی ہر فرد کو حاصل ہو.
ایک بات جو تربیت کا حصہ ہونا لازم ہے وه ہے رواداری اور برداشت ،دوسروں کو سپیس دینا ان کی رائے کا احترام کرنا. مردوں کہ اس معاشرے میں باپ ہی بہتر انداز سے یہ بات سکھا سکتا ہے کیونکہ ماں کی نسبت اس کا سوسائٹی سے واسطہ زیاده رہتا ہے.یہ وقت کی ضرورت ہے تاکہ ایک بہتر معاشره نمو پا سکے
وه میرے لیے شجر سایہ دار ہیں ایک ایسی ڈھال ہیں جو ہر وار خود پر سہتی ہے لیکن مجھ تک آنچ نہیں پہنچنے دیتی۔ مجھے ان پہ فخر ہے..لیکن ایک راز کی بات بتاوں کہ آج تک میں انہیں نہیں بتا سکی کہ مجھے ان سے کتنی محبت ہے کیونکہ میں بھی جذبات کے اظہار میں گونگی ہوں لیکن وه میری فکر اور میرے انداز سے یقیناََ جانتے ہیں کہ وه میرے لیے کتنے پیارے ہیں.کہنے کو یہ دن انگریزوں کی ایجاد ہے لیکن میں شکر گزارہوں کہ ایک دن کسی رشتے کے نا م کرنا اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا قابل ستائش ہے کم از کم اس دن محبت کے اظہار کا موقع ملتا ہے جسے ہم طے شده لیتے ہیں.اور بھول جاتے ہیں کہ رشتوں کی اہمیت کیا ہے اور محبت کا اظہار کس قدر ضروری ہے.تو یہ دن ایک موقع ہے بتانے کا اور جتانے کا کہ "بابا وی لوو یو…..”

Views All Time
Views All Time
671
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سبطِ مصطفیٰﷺ حسین ؑ ابنِ علی علیہ السلام - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: