Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

وہ سب ایران سے خوف زدہ کیوں ہیں؟ | ایاز امیر

وہ سب ایران سے خوف زدہ کیوں ہیں؟ | ایاز امیر
حجاز کی مقدس سرزمین سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوستوں، اور خلیج سے ہمارے کچھ دیگر احباب کے لیے داعش ایک مسئلہ تو ہے، لیکن حقیقی دشمن نہیں۔ ان کے نزدیک حقیقی دشمن، اور جس کے نام سے اُنہیں غصہ آ جاتا ہے، ایران ہے۔ وہ ایران کو عراق میں غالب قوت کے طور پر دیکھتے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ایران ہی شام میں بشارالاسد کو سہارا دیے ہوئے ہے، ایران ہی لبنان اور شام میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کے پیچھے کھڑا ہے۔ اور اس تمام صورتِ حال کی وجہ سے ایران کی جو علاقائی پوزیشن بن گئی ہے، وہ ہمارے دوستوں کے لیے بہت بڑی پریشانی کا باعث ہے۔ مزید برآں سعودی بھائیوں کو داعش سے تشویش تو ضرور ہے، لیکن واجبی سی، اصل اور شدید تشویش کا باعث ایران ہے۔ 
سعودی صدر اوباما سے ناخوش تھے کیونکہ اُنہوں نے بشارالاسد کے خلاف سخت اقدامات سے گریز کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ امریکہ شام پر اُسی طرح بمباری کرے جس طرح برطانیہ اور فرانس نے معمر قذافی کے خلاف جنگی طیارے بھیجے، اُن کی فوجی قوت پر بمباری کی اور آخرکار اُن کی ہلاکت کا باعث بنے۔ ہمارے دوست چیک لکھنے میں بہت مہارت رکھتے ہیں، لیکن عقل مندوں کی طرح چاہتے ہیں کہ سخت اور مشکل کام دوسرے سرانجام دیں۔ اور پھر ایران کے ساتھ ہونے والی جوہری ڈیل سے بھی دوست ناخوش تھے۔ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ایران کی عالمی تنہائی اُنہیں بہت اچھی لگتی تھی‘ لیکن اُس معاہدے کے نتیجے میں جب ایران کی تنہائی کے امکانات کم ہونے لگے تو اس سے بھی دوست پریشان نظر آنے لگے۔ 
ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی مہم کے دوران بیانات بھی سعودی بھائیوں کے لیے پریشان کن تھے۔ گزشتہ 70 برسوں سے سعودی عرب اور امریکہ کا سکیورٹی تعلق امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون رہا ہے، لیکن یہاں (مہم کے دوران ) ایک صدارتی امیدوار اس کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ سعودیوں کو اپنی سکیورٹی کے لیے خود ہی مزیدکچھ کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد شاہ سلمان کے صاحبزادے اور مملکت کے ابھرتے ہوئے ستارے، پرنس محمد واشنگٹن گئے اور (جیسا کہ تصاویر سے دکھائی دیتا ہے) اوول آفس میں نئے منتخب شدہ صدر کے ساتھ اُن کی گرم جوشی کے ماحول میں ملاقات ہوئی۔ ریاض کی دعوت اور اسلامی دنیا کے رہنمائوں پر دستِ شفقت رکھنے کا موقع اس کے بعد وقوع پذیر ہوا۔
ریاض اجتماع میں سعودی دوست جو چاہتے تھے، اُنہیں مل گیا۔ ٹرمپ نے گول مول لہجے میں بات کرنے کی بجائے کھل کر، دوٹوک انداز میں ایران کو ہدفِ تنقید بنایا اور کہا: وہ دہشت گردی کی ترویج کرکے خطے میں تباہی اور انتشار پھیلارہا ہے۔ دوستوں کو اس سے زیادہ دلفریب موسیقی سننے کو نہیں مل سکتی تھی۔ دوسری طرف امریکی مفاد بھی پورا ہوا‘ جب 100 بلین ڈالر مالیت سے زائد ہتھیاروں کا معاہدہ طے پایا۔ ظاہر ہے کہ امریکی ہتھیار ساز صنعت کے لیے یہ ڈیل فائدہ مند ثابت ہو گی۔ کچھ عرصہ پہلے تک دونوں ممالک کے تعلقات میں تنائو کا تاثر ملتا تھا، لیکن اب وہ تاثر مٹ چکا ہے اور نئی ڈگر پر تعلقات استوار ہو گئے ہیں۔ 
کیا سعودی دوست اس پر مطمئن ہوں گے یا کچھ مزید چاہیں گے؟ شام اُن کے لیے اور ہمارے کچھ دیگر دوستوں، جیسا کہ قطریوں، کے لیے ایک خبط بن چکا ہے۔ اسد کو وہ منظرِ عام سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن شامی صدر نے اپنے ناقدوں کی توقع سے کہیں زیادہ ا ستقامت اور سخت جانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کی امیدوں پر پانی پھر دیا۔ اب کسی کے پاس کوئی فارمولہ نہیں ہے کہ اسد کو کس طرح منظر سے ہٹایا جا سکے۔ اسد کے پیچھے صرف ایران ہی نہیں روس بھی ہے، اور حزب اللہ کے سخت جان دستے شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ 
یہاں یہ سوال پوچھنا جائز ہو گا کہ اسد سے سعودیوں کا جھگڑا کیا ہے؟ وہ اُس کے خلاف کیوں ہیں؟ کیا ا س کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک علوی شیعہ ہیں اور انہیں ایران کا تعاون حاصل ہے؟ شام اور سعودی عرب کی سرحدیں آپس میں نہیں ملتیں۔ ان دونوں ریاستوں کے درمیان کوئی اور تنازع نہیں ہے۔ لیکن اسد اسرائیل مخالف ہے، وہ امریکہ کا دوست نہیں، اور پھر اُس کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ یہ وجوہ اُسے سعودی نظروں میں معتوب قرار دینے کے لیے کافی ہیں۔ ایک اور سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے: اگر عراق میں ایران کا اثر بڑھ چکا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ صدام حسین ایک سنی، اور ایران کا بدترین مخالف تھا۔ آخر اس نے ایران کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ لڑی تھی‘ لیکن جب امریکیوں نے عراق پر حملہ کیا تو سنی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور ایسے حالات پیدا کر دیے گئے جس میں شیعہ اکثریت ابھر کر طاقتور ہو گئی۔ ایران کو اور کیا چاہیے تھا، اس کے انتہائی اہم مغربی بارڈر پر ایک دشمن حکومت کی جگہ ایک دوستانہ حکومت قائم ہو گئی، ایک ایسی حکومت جو مذہبی عقیدے کے لحاظ سے اُس کی ہم مسلک تھی۔ 
جب امریکی عراق پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، اور تمام دنیا جانتی تھی کہ وہ یہ کر رہے ہیں، تو ہمارے عرب دوستوں، جو اب عراق میں ایرانی موجودگی پر کف افسوس مل رہے ہیں، کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی اور اُنھوں نے رتی بھر بھی احتجاج نہ کیا۔ امریکی حملے سے ایک اور مہلک نتیجہ سامنے آیا، داعش کا وجود میں آنا۔ جس طرح افغان جہاد کے نتیجے میں القاعدہ نے جنم لیا، اسی طرح عراق پر حملے کا ایک نتیجہ داعش کی صورت میں نکلا۔ جب موصل پر قضہ کرنے کے بعد داعش کی طرف سے بغداد کو خطرہ محسوس ہونے لگا تو جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں پاسدارانِ انقلاب کے دستے عراقی دارالحکومت کے دفاع کے لیے نظر آئے۔ خلیجی ریاستوں کا اس تمام صورتِ حال میں کوئی کردار نہ تھا۔
ایران نے یہ حالات پید انہیں کیے تھے، لیکن اس نے حوصلہ اور عزم دکھاتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھایا۔ اسرائیل اور امریکی دشمنی کے ہوتے ہوئے حزب اللہ کے ساتھ کھڑا رہنا یا شام میں بشارالاسد کو گرنے سے بچانا اور عراق میں داعش کی خونیں لہر کو روکنا آسان کام نہ تھے؛ چنانچہ اگر ایرانیوں کا اس خطے میں کوئی اثر بن گیا ہے تو اس کے لیے اُنھوں نے خون پسینے کی قربانی دی ہے۔ مزید یہ کہ اُنھوں نے کسی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ آپ باقی اسلامی دنیا پر نگاہ دوڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ اپنے ملک میں مسائل پیدا کر رہے ہوں لیکن ریاض میں اُنہیں ایسے سراہا گیا جیسے وہ اسلام کے قلعے کے محافظ ہوں۔ 
اُس کانفرنس میں جو کچھ کہا گیا، اُس سے پریشان ہونے کی بجائے ایران کو خوش ہونا چاہیے کہ اُسے اتنی توجہ ملی۔ اگرچہ پریشان، خوفزدہ اور سہمے ہوئے رہنمائوں کی کانفرنس کا بظاہر موضوع دہشت گردی اور انتہا پسندی تھا، لیکن اصل ہدف ایران تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی بغداد اور دمشق میں ہیرو کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس یہ دیکھیں کہ ہمارے سابق آرمی چیف، جنرل راحیل شریف، جنہوں نے پاکستانی طالبان کے خلاف کامیاب جنگ کی قیادت کرکے نام کمایا، اُس فورس کی قیادت کرنے پہنچ چکے ہیں جو ابھی تو صرف کاغذ پر موجود ہے، لیکن اگر یہ واقعتا قائم بھی ہوگئی تو اس کا بنیادی ہدف داعش کو ختم کرنے کی بجائے سعودی عرب کا تحفظ ہو گا۔ 
داعش کے خلاف جنگی محاذ شام سے عراق تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں انتہا پسندی کے خلا ف حقیقی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں امریکہ بھی ایک عامل ہے، اگرچہ اسے معلوم نہیں کہ یہ جنگ کس طرح ختم ہو سکتی ہے اور شام میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ ریاض کانفرنس میں شرکت کرنے والی مسلم ریاستوں کا اس جنگ میںکوئی کردار نہیں۔ وہ ایک طرف کھڑے ہو کر تنقید کر سکتے ہیں اس جنگ میں ایران کے قائدانہ کردار سے پریشان ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جو چپ چاپ عراق کو حملے کا نشانہ بنتے اور تباہ ہوتے دیکھتی رہیں۔ جب لیبیا کو تباہ و برباد کیا گیا، تو بھی انھوں نے انگلی تک نہ ہلائی۔ وہ ایران سے صرف اس لیے نفرت کرتی ہیں کیونکہ اس نے اسد حکومت کو گرنے سے بچایا ہے۔ 

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
2501
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: