Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

وادیِء کشمیر سے ادب کی بینظیر ۔۔۔عظمیٰ شاہ

by جون 10, 2016 ادب
وادیِء کشمیر سے ادب کی بینظیر ۔۔۔عظمیٰ شاہ
Print Friendly, PDF & Email

fazalانسان کی طبیعت پر موسم اور ماحول کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ اسی اثر کے زیر سایہ انسانی جسم میں جو احساس کی چبھن محسوس ہوتی ہے اسی چبھن پہ عقلِ انسانی فکری تخلیقات کے مواد کی ترتیب و تدوین شروع کردیتی ہے۔ جس طرح کرب افلاس کی کوکھ سے نکلتا ہے ۔ اسی طرح لفظ بھی فکر کی کوکھ سے نمودار ہوتے ہیں۔ احساس کی لُو پہ انسانی جسم کے اندر حرفوں کا جب چولہا گرم ہوتا ہے تو دہکتے ہوئے انسانی پنجرے کی ہانڈی میں لفظ اُبلنا شروع ہو جاتے ہیں تو دستِ تخلیقی لفظ کی لفظ سے چونچ ملاکر مصرعے بنانے کا عمل سر انجام دیتے ہیں۔
جس طرح پودے کو شجر بنانے تک بہت محنت درکار ہوتی ہے اسی طرح نئے فنکار، سخن ور اور شاعر کی بڑھوتری کے لیے بھی تحریری اور تقریری طور پر اس کی حوصلہ افزائی شعوری طور پر ضروری ہے۔ جب انسان زندگی کے دشت میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہے تو وہ بیٹھے بیٹھے کبھی اپنے سر کے بال نوچتا ہے اور کبھی جان لیوا نشہ آور ادویات شروع کردیتا ہے۔ کبھی ہیروئن جیسی لعنت کو گلے لگا لیتا ہے یا کبھی خود کشی کرکے جان چھڑا لیتا ہے۔ ان تمام امراض سے بچتے ہوئے اس کرب کا مریض اپنی اندرونی صلاحیتوں کو قلم کے ذریعے بروئے کار لاتے ہوئے خود کو جینے کی تسلی بخش سکتا ہے۔
تمہید کے طویل ہونے پر معذرت کے ساتھ آج میرا موضوع ہیں ’’وادی کشمیر میں ادب کی بینظیر‘‘ شاعرہ سیدہ عظمی گردیزی جو نوجوان نسل کی مہان شاعرہ معلوم ہوتی ہیں جس کی شاعری اور شخصیت پر روزنامہ کشمیر ایکسپریس میں جناب یعقوت کھوکھر صاحب نے پر مغزگفتگو کی ہے۔ عظمی شاہ جدت پسند معروف شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ اصلاح پسند بھی دکھائی دیتی ہیں۔ درد و اَلم میں پھنسی انسانیت کو وہ اپنے زخموں پہ مرہم لگانے اور اس جال غربت سے نکلنے کے لیے بیداری کا درس خوب دیتی ہیں۔ ظلم و جبر کی غارت گری پر فقط نوحہ گر نہیں عملی طور پر میدان عمل میں برسر پیکار بھی ہیں۔ uzmaانسانیت کی بقا، شرم وحیا ہو، انسانی بیداری کی عملی تحریک، تحریک کربلا ہی ہے جس کے سپہ سالار، رہبر و رہنما اور امام حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں۔ جنہوں نے عملی طور پر اپنے گھر بار کی قربانی دیکر فلاحِ انسانی کا بیڑا اٹھایا۔ اسی ڈگر پر چلنے کے لیے ہر شعوری انسان کو پہلے درِ آلِ عباء کا بوسہ لےکر ہی عَلم انسانیت ہاتھوں میں لینا پڑتا ہے۔ اسی حوالہ سے سیدہ عظمی شاہ نے اس شعر میں اپنے علمی سفر کی تصویر پیش کی ہے۔ شعر دیکھیے
؂ میں کہ ڈرتی نہیں یزیدوں سے
میرے پیچھے ہیں کربلا والے
عظمی شاہ ایک شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماں کی ممتا کی بھی امین ہے۔ بچہ جب ماں کے سینے سے اپنی خوراک کے تدارک میں ہمکتا ہے تو ماں کی ممتائی کائنات جھوم جاتی ہے اور جب تھوڑا چلنا سیکھ لے تو دو چار قدم ماں سے دور کھڑا ہو تو ماں کے پکارنے پر بچہ دوڑتا گرتا سنبھلتا ہوا ماں کی گود میں آگرتا ہے۔ اسی منظر کو عظمی شاہ نے اپنے شعر میں خوبصورتی سے مقید کیا ہے ۔ شعر دیکھیے
بس ایک بار بلاؤں تو دوڑ آتا ہے
اسے پسند ہے آواز اس قدر میری
انسانی زندگی مختلف کیفیات سے گزرتی ہے۔ کبھی ہجر کبھی وصال، کبھی گھر کا بستا آنگن اور ک بھی اجاڑ پن، کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی متصل، کبھی دوری یہ شعر مجھے ربط کے ٹوٹنے پر چیختا عکس معلوم ہوتا ہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے۔
رہا ہی کردیا ہے میں نے آج وہ پنچھی
جو میرے دل کے محل کو قفس سمجھتا تھا
ملاپ انسانی اسلامی ازدواجی زندگی سے شروع ہوتا ہے مگر نکاحِ مسنونہ کے بعد بھی دلہا اور دلہن کے درمیان ایک قوی شرط حائل ہوتی ہے جس کو اگر پورا نہ کیا جائے تو ملاپ ازدواجی میں شک کا احتمال موجود رہتا ہے۔ حق مہر وہ حق ہے جو دلہا دلہن کو دینے کا پابند ہے اور دلہن کی رضا بھی ضروری ہے۔ اپنے حق مہر کے حوالہ سے حق مہر کو دلہن اپنی مرضی سے جس طرح چاہے استعمال کرسکتی ہے۔
شاعرہ نے نسوانیت کے لطیف جذبے کی تکمیل کے لیے اپنے شعر میں جو شرط عائد کی ہے اس شرط کی بناء پر اس نے پروقار سلیقہ سے اپنے محبوب کو اپنا محب بنالیا ہے جسے وہ جس طرح چاہے استعمال کرے۔ کیا ہی خوبصورت انداز سے حق مہر بذریعہ شعر مانگاہے۔
اگر چل سکتے ہو میرے ساتھ تو اسی شرط پر آؤ ۔ شعر دیکھیے۔
نکاحِ عشق چلو آؤ آج ہم کرلیں
تم اپنے آپ کو رکھنا میرا حق مہر
عظمیٰ شاہ کی شاعری میں وادیِ کشمیر کے حسین مناظر، سبزہ شادابی اور قدرتی مناظر کی خوب عکس بندی ملتی ہے۔ اب ہم عظمیٰ شاہ کی غزل دیکھتے ہیں۔
بخش دے زیست مجھے پیکرِ تصویر میں آ
آ میں دیکھوں تجھے میرے درِ جاگیر میں آ
تو میری آنکھ میں آتا ہے جو خوابوں کی طرح
ایک دن خود بھی اسی خواب کی تعبیر میں آ
دلِ عیار میرا اتنا خفا ہے مجھ سے
خود بخود بیٹھ گیا زلفِ گرہ گیر میں آ
خواب میں تو میرے دن رات پھرا کرتا ہے
بیٹھ کر دیکھ کبھی خانہءِ تقدیر میں آ
شب کے پر خوف اندھیروں سے مجھے کیا نسبت
اے حسنِ نظر آنکھ کی تنویر میں آ
ہائے اس عشقِ بد انجام کی حدت عظمیٰؔ
خود بخود پاؤں پڑا حلقہء زنجیر میں آ

Views All Time
Views All Time
960
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   پتاور میں ایک شام
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: