Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اگست، احتجاج اور دھرنا سیاست

اگست، احتجاج اور دھرنا سیاست
Print Friendly, PDF & Email

rizwan a awanپھر اگست آگیا اور احتجاج ،دھرنا کی سیاست کا آغاز ہو گیا ۔ پاکستان کی سیاست یوں تو احتجاجوں اور دھرنوں سے بھری پڑی ہے مگر پچھلے کچھ عرصے سے اس میں جو تیزی آئی ہے اُس پر 21ویں صدی کی دنیا حیران ہے۔ذار غور کیجیے میں نہ مانوں کی سیاست کرنے والے کبھی خود سے بھی خوش نہیں ہوئے اور ازدواجی زندگی میں کامیابیوں سے محروم ہی ہیں مگر نہ جانے اُنہیں کون یہ یقین دلادیتا ہے کہ تم کامیاب ہوسکتے ہو۔
پاکستان کی آزادی کے مہینے میں پھر سے احتجاج اور دھرنوں نے ہمیں تقسیم ہند کی یاد دلادی ہے کہ جب ہجرت کے وقت دنگا فساد اور مار پیٹ کی تربیت دی جا رہی تھی جو کہ آج ان کے اسٹیج سے صدائیں آتی ہیں کہ "مارو،مرجاؤ، جلادو،اُٹھا کر باہر پھینک دو، وغیرہ وغیرہ
موصوف جنھیں ہر بار کچھ عناصر کی جانب سے یہ یقین دلادیا جاتا ہے کہ بس اب کے تمھاری باری آئی ،کہ بس اب تم ہی ہو،بس اب تبدیلی آئی، مگر جو صاحب خواب خرگوش سے اُٹھنے کے بعد اپنی الہامی پیشن گوئیوں سے یہ یقین دلاتے ہیں وہ تو خود کہیں کے نہ رہے ۔
مگر سمجھ نہیں آتی کہ موصوف بہت ہی ڈھٹائی کے ساتھ ہر روز نمودار ہوجاتے ہیں اور عجیب عجیب باتوں سے لوگوں کے دلوں کو محظوظ کرتے ہیں ۔ مگر شاید اُن کا یہ اندازدھرنے والوں کو بھی بھاگیا ہے اور اُنہیں پل بھر کے لیے جدا کرنا بھی گوارا نہیں کرتے جو اپنے حلقے میں نہ نکل سکتے ہوں وہ ان کے دلوں میں بس جاتے ہیں مگر کیا کیجیے صاحب ان نادان دوستوں کو کون سمجھائے کہ اس طرح کی سیاست سے اُنہیں بس نقصان ہو رہا ہے اور جشن آزادی کے موقعے پر ہماری سادہ لوح عوام کو معلوم نہیں کس کے ایجنڈے پر لگا کر دنیا بھر کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جیسے ہم تقسیم قوم ہیں۔
اس دھرنا سیاست میں ایک اور کردار کا بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ کردار بھی لاشوں کی سیاست کو آگے بڑھا کر اپنی ضبط ہونے والی ضمانتوں میں کچھ ووٹوں کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں مگر کوئی اُن سے پوچھے کہ جناب وہ کفن،وہ غسل ،وہ قسمیں، وہ وعدے، وہ باتیں جن سے آپ مکر گئے ،آپ پھر گئے اُن پر دوبارہ کوئی کیسے یقین کرلے؟
مگر پھر وہی بات آتی ہے کہ کچھ پڑھے لکھے مرید اُن کے گرویدہ ہیں جو کہ نعوذباﷲاُنہیں چندہ دے کر اﷲ کے رسولﷺ کی مدد کرتے ہیں۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان جیسے بھی سیاست میںآگئے ہیں جو اسلام کو بیچ کر اپنا پیٹ بھر تے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمرانی پانے والے وہاں تو عوام کو ریلیف نہ دے سکے اور اُس کی ناکامیوں اور اپنی پارٹی کے اختلافات پر پردہ ڈالنے کے لیے پانامہ کا شور مچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ احتساب کی آوازیں دینے والوں کے اندر سے احتساب کی باتیں ہو رہی ہیں مگر کیاکریں اس اعلیٰ درجے کی منافقت کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ پختونخواہ میں کیا کچھ نہیں ہو رہا ہے ۔کاش کہ جو دودھ اور شہد کی نہریں وہاں بہا دی گئی ہیں اُن سے ہما را منہ بھی میٹھا ہو جائے تو ہم بھی پھر اُن کی اُس عینک سے دیکھیں۔
سُنا ہے کہ اب وہ بھی احتجاج کرنے کے لئے اُٹھنے لگے ہیں کہ جن کے پاس تو نام بھی مانگا ہواہے اور اپنے دور اقتدار میں وہ اعلیٰ درجے کے ریکارڈ قائم کئے ہیں کرپشن میں جنھیں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ بھی خود سے اُوپر سمجھتی ہے۔ یہ تو ایسے ہوا جیسے کہا جاتا ہے "چور مچائے شور”۔
مجھے تو بس یہ اعتراض ہے کہ گزشتہ احتجاج کی طرح پھر سے ہماری جشن آزادی کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ خوشیوں کے لئے ترسی ہوئی قوم کے قومی تہوار کو پھر سے سیاست کی نذر کر کے ملک و قوم کو بدنام کیا جائے گا۔پھر سے وہی ڈھول بجے گاساتھ میں اسلامی ڈرم بھی ہوگا،رقص بھی ہوگا،دھمال بھی ہوگی،جھنڈوں کی اور آئین کی بے حرمتی اور دھجیاں اُڑائی جائیں گی۔ ملک کے مثبت ہوتے ہوئے اعشاریوں کو روکا جائے گا۔ چینی سرمایہ کاری پر سوال اُٹھائے جائیں گے اور ڈر ہے کہ یہ عظیم منصوبہ کہیں ان کی اقتدار کی ہوس میں ملک سے چلا ہی نہ جائے، دہشت گردی کے خلاف دی ہوئی ہمارے نوجوانوں کی قربانیوں کو ضائع ہی کیوں نہ کردیا جائے۔
مگر انہیں تو ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنا ہے چاہے وہ ملکی ترقی روک کر،سفارتکاروں،میڈیا کی گاڑیوں پر پتھر مار کر، املاک کو آگ لگا کے۔ جوپُر امن احتجاج کیا جائے گااور کہا جائے گا کہ ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا۔
مجھے غرض نہیں کہ ملک پر کس کی حکومت ہے مگر آج میں دل پر ہاتھ رکھ کر 2013اور 2016 میں فرق محسوس کر رہا ہوں۔
پانامہ پر تحقیقات ہونی چاہئیے مگر ٹی او آرز کا معاملہ آتا ہے تو اپوزیشن اپنی کہی ہوئی باتوں سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔اپوزیشن کو پانامہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے احتجاج کا اصل مقصد اتنا ہے کہ کراچی سندھ میں دہشت گردی کے خلاف ہونے والا آپریشن روکا جائے یا اُس کا دباؤ کم کیا جائے۔
سوچا تو گیا تھا کہ اس آپریشن کے لئے ہاں کر کے عوام کے سامنے اچھے بن جاؤ مگر گردن پر ہاتھ پڑتے ہی چیخیں نکل گئی۔دوسرے موصوف جو کہ وزارت عظمیٰ کے لئے خود کو اہل سجھتے ہیں چاہے اُنہیں عوام کی بڑی تعداس نے مسترد کردیا ہے۔ اُنہیں بس یہ ڈر ہے کہ کہیں حکومت کے لگائے گئے بجلی کے منصوبے ،موٹروے،میٹرو بس،ہسپتال،سڑکیں وغیرہ کہیں بن نہ جائیں اور ان کی اُمیدوں پر پانی نہ پھر جائے۔
اسلام کو بیچنے والے کینیڈوی موصوف کو بس ایک اور بریف کیس چاہیے ہرے پتوں کے ساتھ تا کہ وہ پھر سے علاج کے لئے ایک سال سے زیادہ عرصے تک باہر چلے جائیں اور کفن دفن، غسل کو پھر سے انتظار کروائیں۔
یہ سب بس اقتدار کی لالچ میں وہ قدم اُٹھا رہے ہیں کہ جس سے نقصان بس اس سادہ لوح عوام کا ہونا ہے جسے وہ خواب دکھائے جا رہے ہیں جو کہ آٹھ سال کی انتھک محنت سے نہ سندھ میں پورے ہوئے نہ 3سالوں میں وہ میٹھا دودھ اور شہد پختونخواہ میں مل سکا۔
پنجاب میں بھی سب ٹھیک نہیں ہے مگر ان سے قدرے حال تو بہتر ہے مگر جہاں کام کیا جا رہا ہے اُن پر ہی تنقید کے تیر چلائے جا رہے ہیں۔
زمین و آسمان کو ملانے والے لکھاری شام کو عجیب عجیب خبریں اور منطق پیش کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتامگر کہتے ہیں نہ کہ "شرم مگر تم کو نہیں آتی”۔ وہ بس ان لوگوں کے اسکرپٹڈ ڈرامہ نگاروں کو خوش کرنے کے لئے تمام حدیں پھلانگ لیتے ہیں تا کہ کچھ بغض و عناد اُن کے دلوں سے نکل جائے اور وہ خود کو اپنے ہی لفظوں سے تسلی دے کر پکنے والی کھچڑی میں حصہ ڈال سکیں۔مگر انتہاء ہے کہ اُنہیں اپنی
جشن آزادی کا بھی خیال نہ رہااور بغض و عناد اور اقتدار نہ ملنے ، عوام کے مسلسل مسترد کرنے کے خوف نے انہیں منفی سیاست میں اتنا اندھا کردیا ہے کہ ملک کے اس عظیم تہوار کا بھی خیال نہ رہا۔
قائد کی روح آج ان کی اس منافقت کو دیکھتے ہوئے کانگریس کو بھی بھول چکی ہوگی اور پچھتاوے کا شکار ہوگی کہ ان کی وجہ سے ملک کی ایک قوم کا خواب جو میں نے دیکھا تھا وہ ٹوٹ رہا ہے۔
اﷲکرے انہیں ہدایت ملے اور عوام کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں کو پورا کر کے 2018کے میدان میں آئیں اور منفی سیاست جس کا جواب حال ہی میں آزاد کشمیر کے عوام نے انہیں دیا ہے اُس سے باز رہ کر کاکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگیں تاکہ سُر خرو ہو سکیں وگر نہ کہیں ان کا رہا سہا وجود ہی ختم ہوجائے۔

Views All Time
Views All Time
293
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   امریکی امدادکامتبادل
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: