Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہمارا روشن مستقبل

ہمارا روشن مستقبل
Print Friendly, PDF & Email

atif-iqbalاللہ تعالیٰ نے زندگی ہمیں ایک نایاب، قیمتی اور خوبصورت تحفہ عنائیت فرمایا ہے جس کی قدر ہمیں دل اور جان سے کرنی چاہیے اور ہمیں اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے کی بہترین کوشش کرتے ہوئے انسانیت کی بہتری کیلئے کوئی نہ کوئی گول مقررکرنا چاہیے اور ہمیں ان سوالوں کے جوابات کوتلاش کرنےکی اشد ضرورت ہے کہ کیا زندگی کا مقصد صرف سرکاری یا غیرسرکاری اچھی نوکری تلاش کرکے پیسہ کمانا ہے؟ کیا زندگی کا مقصد اپنا کاروبار، مکان یا گاڑی بنانا ہے ؟ ، کیا ہمیں دنیا میں اس مقصد کیلئے بھیجا گیا ہے کہ کاروبار چمکائیں یا سرکاری نوکری چاکری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں اورپھر دنیا سے رخصت ہوجائیں؟
ہمارے اردگرد اللہ کی بنائی بے مثال اور لازوال خوبصورتی ہے، یہ دنیا بہت ہی حسین وجمیل ہے، سرسبزکھیت کھلیان، خوبصورت پہاڑ، جنگلات، جھرنے، دریا،سمندر اور ریتلے صحرا وغیرہ سب ہمیں بہت متاثر کرتے ہیں، جہان جتنا سرسبز ہو گا اُتنا ہی دنیا کا ماحول بہتر اور بہترین ہوتا جائیگا، کسی بھی بچے کو آپ ایک بیج تصور کرسکتے ہیں، اگر اس بیج کی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال کی جائے تو مستقبل میں یہی بیج ایک پھل دار، سایہ دار اور تناور درخت کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے جس سے ہزاروں دیگر لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں، اگر ہم والدین ، اُساتذہ کرام بہترین مٹی اور ماحول اس بیج کو دستیاب کریں تو ننھا بچہ اس ماحول میں خوب پھلے پھولے گا، اُس سے کونپلیں پھوٹیں گی جو کہ بعد میں شاخوں کی صورت اختیار کریں گی اور پھر ایک سایہ دار تناور درخت بن جائےگا، برگد کے درخت کا کبھی بیج دیکھیں وہ رائی کے دانے کے برابر دکھائی دیتا ہے لیکن جب اُسی رائی کے دانے کو بہترین ماحول میسرآتا ہے تو وہ سایہ دار درخت بن کر انسانیت کیلئے کارآمد بن جاتا ہے، اسی بیج کو اگرسازگار ماحول فراہم نہ کیا جائے، اس کو پتھریلی اور سخت زمین پر پھینک دیا جائے، اس کو روشنی اور پانی فراہم نہ کیا جائے تو وہ بیج گل سڑ کر اپنا آپ بھی ختم کرلیتا ہے، ہمیں بطور والدین اور اساتذہ اس بیج کو بہترین ماحول مہیا کرنا ہے۔
درسگاہ ، والدین اور طالبعلم یہ ایک مثلث کی مانند ہیں، تین نقطے جو کہ آپس میں اگر بہترین لائنوں کیساتھ جڑے ہوں تو نئی نسل کے معمار معاشرے کا بہترین جزو بن کر اُبھرتے ہیں، اگر یہ تینوں آپس میں کوآرڈینیشن نہ کریں تو مثلث ٹھیک نہیں بنے گی اورٹیڑھی میڑھی سی شبیہ بن کر رہ جائیگی۔
سکول جانے والے ہمارے بچے، ہم سمجھتے ہیں کہ شائد یہ صرف بچے ہی ہیں، اور یہ کچھ نہیں جانتے جبکہ یہ بچے اپنے اندر ایک پوری شخصیت کے مالک ہوتے ہیں اور ان میں اردگرد کے ماحول کو اپنانے اور سمجھنے میں خداداد صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، گھر میں امی کی حکمرانی ہوگی یا ابو اقتدار پرقابض رہیں گے؟ ان کو سب پتاہوتا ہے کہ آج امی ابو کی کس بات پر بحث ہوئی جو کہ ورلڈ وار بننے لگی تھی کہ دادی اماں نے یونائیٹڈ نیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں کو شکست فاش دے دی !!!
ہم اپنے بچوں کو بہترین سکول، کالج یا یونیورسٹی بھیج کر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ شائد ہم نے اپنا کردار ادا کردیا ، جبکہ بچوں کو مہنگے سکول،کالج اور یونیورسٹی سے زیادہ والدین کے قیمتی وقت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بچوں کی پرسنیلٹی ڈویلپ کرنے میں سب سے اہم جزو ہے، اگر کسی بھی گھر میں ایک وقت کا کھانا اکٹھے نہیں کھایا جارہا تو سمجھ لیں کہ اس گھر میں نااتفاقی اور رویوں میں خشکی ضرور آئے گی، اسلئے ہمیں بطور والدین سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی ایک وقت کا کھانا پوری فیملی اکٹھے ہو کر کھائے اور کھانے سے پیشتر اور بعد میں کچھ وقت ایک دوسرے سے باتیں کریں، دوسرا اہم وقت ہے جب بچے سونے کیلئے بستر میں جائیں، یہ بہترین وقت ہوتا ہے جب والدین کا کردار بہت اہم ہے، چھوٹے بچوں کو اچھی کہانیاں سنانے سے لیکر بڑے بچوں کے ساتھ سونے سے پہلے شفقت سے پیش آیا جائے،اُن کے پورے دن کی کاروائی پر اگر کوئی سوال جواب ہوں تو اُس پر ڈسکشن کی جائے، موبائل، ٹیبلٹس اور ان دیگرسائنسی آلات نے فیملی ممبرز کو ایک دوسرے کے پاس ہوتے ہوئے بھی بہت دور کردیا ہے، بہتر ہے کہ ڈیجیٹل ٹائم کو کٹ آؤٹ کرکے وہ ٹائم بچوں اور گھر والوں کے ساتھ بتایا جائے، دوران سفر نوکری، کاروبار کو بھول کر فون کو بند کیا جائے اور بچوں کے ساتھ گپ شپ کی جائے اور بھی بہت سے طریقہ کار ہیں جس پر عمل درآمد کرکے بچوں کو زیادہ وقت مہیا کیا جاسکتا ہے۔
بچوں کو بتایا جائے کہ دوستی کا رشتہ کیا ہوتا ہے، بچوں کو بتایا جائے کہ شئیرنگ کرنے کی کیا اہمیت ہوتی ہے، دوستوں کی اقسام کے بارے میں بھی بتایا جائے کہ کون جانی دوست ہوتے ہیں اور کون نانی دوست ہوتے ہیں، یہاں نانی دوست سے مُراد روغنی نان کھانے والے نام نہاد دوست ہیں۔ بچوں کو بتایا جائے کہ جھوٹے لوگ کون ہوتے ہیں اور اُن سے کس طرح بچنا ہے، ہرحال میں سچ بولنا ہے اور سچ بولنے والوں کو ہی اپنا دوست بنانا ہے۔ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر اس کے اثرات آئیندہ نسلوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
درسگاہ اور والدین کے درمیان رابطوں کو بڑھایاجائے تاکہ بچوں کو علم ہو کہ یہ مسلسل رابطے میں ہیں، اس سے بچے کی تربیت پر نیچرلی ایک چیک اینڈ بیلنس ہو گا جو کہ اُس کی پرفارمنس کو بڑھائے گا، بچوں کیساتھ شفقت سے پیش آیا جائے اور انہیں بہترین پرسکون ماحول مہیا کیا جائے، بچوں کی صلاحیتوں کا قریبی جائزہ لیا جائے تاکہ اُن کی صلاحیتوں کو بہترین پالش کیا جا سکے۔
میں پورے وثوق سے یہ بات کہتا ہوں کہ جنوبی ایشیا کے طالبعلم دنیا میں ذہین ترین طالبعلم ہیں، مغرب والوں نے محنت اور ایمانداری کے زور پر ترقی ضرور کی ہے، ہمارے یہی طالبعلم ماحول بہترین میسر آنے پر نمبر ون ہوتے ہیں، انشااللہ پاکستان مستقبل قریب میں ذہین ترین قوم کے طور پر اپنا آپ منوانے میں کامیاب ہوجائیگی۔
آخر میں یہی گذارش کرنا چاہوں گا کہ ایک بچے کی اچھی تربیت والدین اور اساتذہ کےلئےدنیا اور آخرت دونوں میں کام آئےگی،یہ بہترین صدقہ جاریہ ہے ، آئیں آج سب ملکر یہ عہد کریں کہ ہم آنے والی نسل کو نیک اور بامقصد بنائیں گے۔ انشاءاللہ

Views All Time
Views All Time
555
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: