Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر جاری مظالم – عاطف اقبال چوہدری

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر جاری مظالم – عاطف اقبال چوہدری
Print Friendly, PDF & Email

atif-iqbalبنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین پرناجائز مقدمات چلانے اورانہیں سزائے موت دینے کیلئے کافی بدنام ہو چکی ہے۔ بنگلہ دیش میں اس وقت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے عالمی ریکارڈ قائم کئے جا رہے ہیں۔ حسینہ واجد حکومت کے آمرانہ طور طریقے حد سے تجاوز کرتے جا رہے ہیں۔ جنوری2016 سے لیکراب تک جعلی پولیس مقابلوں میں79سیاسی مخالفین کوماورائےعدالت قتل کیا جا چکا ہے ،جس میں بڑی تعداد جماعت اسلامی کے ورکرز کی ہے۔ ابھی حالیہ 24 اکتوبر کوایک واقعہ میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے دو نوجوان ورکرز25 سالہ شاہد المحمود اور 26سالہ انیس الرحٰمن کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر قانونی احکامات دیتے ہوئے سیاسی مخالفین کو معذور کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد شروع کروا رکھا ہے۔ سرکاری احکامات پرسکیورٹی فورسزکی جانب سے گزشتہ چار ماہ کے دوران جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے تین سو سے زائد کارکنوں اور رہنماوؤں کو گھٹنوں پر گولیاں مار کر ہمیشہ کیلئے معذور کیا جا چکا ہے۔آسٹریلوی حکومت نے بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کی جانب سے اسلام پسند رہنماؤں اور حکومت مخالفین کو تشدد کے ذریعے معذوربنانے کی کاروائی کی شدید مذمت کی ہے اور اعلان کردیا ہے کہ آسٹریلیا ،انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بنگلہ دیشی حکومت پر دباو ڈالنے کے لئے ایک سفارتی مہم کا آغاز بھی کریگا اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروا کر انہیں بھی مہم کا حصہ بنایا جائے گا۔
ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ حسینہ واجد حکومت کے احکامات پر بنائی جانے والی پالیسی میں بنگلہ دیش پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین کو واضح احکامات دیئے گئے ہیں کہ حکومت مخالف جماعتوں کے رہنماوؤں اور کارکنان کو گرفتاری کے وقت اس طرح گولی ماری جائے کہ اُن کا گھٹنا ناکارہ ہو جائے اور گھٹنے کی پلیٹ نما ہڈی ٹوٹ جائے۔
آرتھوپیڈک سرجنز کیمطابق ایسے کسی حادثے کا شکار انسان علاج کے بعد بھی عام افراد کی طرح چل پھر نہیں سکتا اور دائمی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نوجوان کارکن اخباری رپورٹر محبوب الکبیر کی تصویر سرورق پر شائع کی ہے، جن کو بنگلہ دیشی پولیس کے خصوصی اسکواڈ نے دفتر جاتے ہوئے سڑک پر روکا اور سرعام سفاکانہ انداز میں ان کی ٹانگوں میں گولیاں ماریں جس سے محبوب الکبیرشدید زخمی ہوگئےاور اب انہیں دائمی معذوری کا سامنا کرنا پڑیگا۔
ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے بھی ایک مذمتی رپورٹ پیش کی ہے جس میں حسینہ واجد حکومت کی جانب سے ماورائے عدالت قتلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ اسکے علاوہ جرمن ریڈیو کی ایک رپورٹ میں‌بتایا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ ایشیاء نے پنتالیس صفحات پر مشتمل وہ رپورٹ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو بھجوائی ہیں جن میں ثبوت بھی موجود ہیں کہ کس طرح حسینہ واجد کی حکومت سیاسی مخالفین کو جسمانی طور پر معذور کررہی ہے۔
نہایت ہی افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں اوردیگرسیاستدانوں نے آدھی زبان کے ساتھ بھی انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر بنگلہ دیشی حکومت کیخلاف لب کشائی تک کرنا گوارا نہیں کیا۔ ہم سے اچھے تو آسڑیلین، جرمن اور یورپئین رہے جو غلط کو غلط کہنے کی نہ صرف ہمت رکھتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بنگلہ دیشی ظلم اور زیادتیوں‌ کو بے نقاب بھی کررہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
264
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: