Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

امریکی صدارتی مباحثہ اور پاکستانی سیاست – عاطف اقبال چوہدری

امریکی صدارتی مباحثہ اور پاکستانی سیاست – عاطف اقبال چوہدری
Print Friendly, PDF & Email

atif-iqbalامریکہ میں صدارتی چناؤ کا پہلا مباحثہ رپیبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو بونا بنا گیا جب ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن آمنے سامنے کی بحث میں سوا سیر ثابت ہوئیں۔ دنیا میں اپنی زبان درازی کیلئے مشہورٹرمپ کی زبان صدارتی مباحثہ میں قینچی کی طرح نہ چل سکی۔جہاں تول مول کر بولنا تھا، جہاں ایک ایک لفظ کی پکڑ ہوتی ہے، ایک ایک جملے کو پرکھا جاتا ہے، ایسی بحث میں ٹرمپ ہیلری کے سامنے چاروں خانے چت ہو گئے۔جہاں ذرا سنبھل کر بولنے کی ضرورت تھی وہاں پر ٹرمپ کا پول کھل گیا۔ بے تکی اور لفاظی جنگ میں ٹرمپ کو مہارت حاصل ہے مگر جب ادب کے دائرے میں رہ کر بات کرنے کی باری آئی تو ٹرمپ کی بولتی بند ہو گئی۔دنیا بھر سے ایک ارب سے زائد افراد نے یہ صدارتی مباحثہ دیکھا اور 64 فی صد عوام نے ہیلری کو مباحثہ میں زیادہ نمبر دیتے ہوئے اُس کی حمائیت کا اعلان کیا۔ہیلری کے خاتون اول اور سیکرٹری آف اسٹیٹ کا تجربہ یہاں کام کرگیا۔اس وقت وہ مقبولیت میں ٹرمپ کو بہت پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ ماضی میں امریکی عوام پہلی مرتبہ سیاہ فام صدر منتخب کرنے کے بعد اب پہلی خاتون صدر کو منتخب کرنے جا رہے ہیں۔ 90 منٹ کے آمنے سامنے مباحثہ کو دنیا نے دیکھا اور سمجھا کہ ہیلری اہلیت اور خوبیوں کے معاملے میں سواسیر ہیں۔فرق اتنا واضح تھا کہ ٹرمپ نے مباحثہ کے دوران ہی ہتھیارڈال دئیے۔ ایک بات یہاں قابل ذکر ہے کہ امریکا میں صدارتی چناؤ کے نتائج آنے تک کچھ بھی کہنا مشکل ہوتا ہے اس لئے ٹرمپ نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا ہو گا ۔وہ جانتے ہیں کہ 12 سال قبل جارج بش کی ہارطے تھی مگر جب القاعدہ کے اسامہ بن لادن کا وڈیو جاری ہوا تو بش کے مخالف بھی ان کے ساتھ ہو گئے تھے۔ دراصل دہشت گرد اور جنگجو تنظیمیں ٹرمپ کی جیت چاہتی ہیں کیونکہ ٹرمپ کا جارحاجہ انداز اور مزاج نئے جہادیوں کی بھرتی میں مددگارثابت ہو گا۔
صدارتی مباحثہ نے امریکی عوام پر سیاسی بخار چڑھا رکھا ہے۔بحث کے دوران ہیلری نے ٹرمپ سے کہا کہ آپ کا رویہ نسل پرستانہ ہے اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ میں امریکا کو عظیم تربنانا چاہتاہوں ۔امریکا کو دوبارہ اس کی عظمت دلانا چاہتا ہوں،ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور دیگر ممالک سے لوگوں کا سیلاب امڈ رہا ہے۔ہیلری نے کہا کہ آپ نے خواتین کو رسوا کیا۔ کسی کو جانور کہا تو کسی کو مس ہاوس کیپنگ کیونکہ وہ لاطینی امریکی تھی۔ٹرمپ کے پاس اس بات کا کوئی مناسب جواب نہ تھا۔ ہیلری نے ٹرمپ کو باور کروایا کہ آپ ٹوئیٹر یا سوشل میڈیا پر ایک ریمارک پر مشتعل ہو جاتے ہیں اس صورت میں آپ کی انگلی نیوکلیائی ہتھیاروں کے قریب نہیں ہونی چاہئیں ۔ اس پر بھی ٹرمپ بوکھلا گئے۔ٹرمپ کے پاس واضح طور پر حاضر جوابی کی کمی نظر آئی ۔اس بات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہیلری میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اس ملک کی صدر بن سکیں۔ ایک موقعہ تو مباحثہ میں ایسا آیا کہ ٹرمپ نے ہیلری پر طنزیہ طور پر ذاتی حملہ کردیا اور اُس کا اشارہ بل کلنٹن اورمونیکا لیونسکی سکینڈل کیطرف ہو گیا۔ جس پر سامعین نے بہت ناگوار انداز میں ٹرمپ کے ہیلری کی ذاتیات پربات کرنے پر احتجاج کیا۔ ٹرمپ گھٹیا طریقے استعمال کرکے پوائنٹ سکورنگ کرنا چاہتا تھا جس کو سامعین نے رد کردیا۔
صدارتی مباحثہ سے قبل دونوں اطراف سے بھرپور تیاری کی گئی تھی اور عوام کو براہ راست یہ مباحثہ دکھایا گیا۔ اس تمام مباحثے کے بعد میرے ذہن میں چند سوالات ابھر رہے تھے کہ کیا وطن عزیز میں ایسا مباحثہ مستقبل قریب میں ممکن ہو سکے گا یا پھر ماضی کی طرح نمایاں پاکستانی سیاستدان نوازشریف، عمران خان اور بلاول زرداری اپنے اپنے جلسوں میں اپنی من پسند عوام کو سامنے کھڑا کرکےبلند بانگ دعوے ہی کرتے رہیں گے؟ کیا پاکستانی عوام سیاسی طور پراتنی سنجیدہ، پختہ اور باشعور ہو چکی ہے کہ یہاں اس طرح کے مباحثے منعقد کروائے جانے کی روایت ڈالی جا سکے؟ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان ان مباحثوں کے انعقاد کو یقینی بنائے؟ کیا پاکستانی عوام ذات برادری، شخصیت پرستی، نالیاں اورگلیاں پکی کروانے، روغنی نان اور کھابے کھانے سے آگے سوچ کر نظریات کو ووٹ دینے کیطرف چل پڑی ہے؟ کیا عوام اس سوچ سے آگے نکل چکی ہے کہ حکمران پچاس روپے میں سے پچیس روپے جائزکرپشن ہی تو کھاتے ہیں باقی پچیس روپے تو عوام پر ہی لگاتے ہیں؟ کیا عوام ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح بلند باگ بڑھکیں لگانے والوں سے پوچھے گی کہ چھ ماہ میں آپ نے لوڈ شیڈنگ ختم کرنی تھی، آپ نے کراچی سے پشاورتک بُلٹ ٹرین چلانی تھی، آپ نے کرپشن کے بے تاج بادشاہ کو سڑکوں پر گھسیٹنا تھا؟ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے والے نے کہا تھا کہ میں اپنا نام بدل لوں گا، میں انہیں مفت تجویز دیتا ہوں کہ وہ آج سے اپنا نام ‘ٹرمپ شریف’ رکھ لیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنرل الیکشن 2013 سے قبل ماہ اپریل میں عمران خان پاکستان میں وہ واحد سیاست دان تھے جنہوں نے میاں محمد نوازشریف کو امریکی مباحثے کی طرز پرلائیومناظرے کا چیلنج دیا تھا جس پر نوازشریف اور اُن کے حواریوں نے راہ فرار اختیار کیا تھا۔

Views All Time
Views All Time
274
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: