Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سرمایہ دارانہ نظام کے اثاثے

Print Friendly, PDF & Email

سرمایہ دارانہ اور اشرافیہ طبقاتی ریاست کو ہمیشہ ایسے اثاثوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے ستونوں کو عوام کے کاندھوں پر گاڑھے رکھیں اور عوام کبھی اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل نہ کر سکے. مال کمانے والا  مذہبی طبقہ ہو، یا حب الوطنی کا چورن بیچ کر مراعات حاصل کرنے والے کارندے ہوں، یہ سب اس ریاست کے اثاثے ہوتے ہیں. ان کا خاتمہ اشرافیہ کے محلات کی بنیادیں ڈھانے کے مترادف ہے. اشرافیہ عوام کا خون چوسنے کے لئے یہی اثاثے استعمال کرتے ہیں. سوال اٹھانے اور حقوق مانگنے والوں کے سامنے یہی ان کی ڈھال ہوتی ہے.

باچا خان کو غدار اور کافر قرار دینا تھا مذہب کے بیوپار استعمال کیے گئے. غنی خان بابا کی باتیں شعر و شاعری کے ذریعے انسانوں کو بیدار کرنے لگیں تو ان ہی ٹھیکیداروں کے ذریعے ملحد و مرتد قرار دیا گیا. وزیرستان کے شعر و ادب، تاریخ و فلسفہ اور انسان دوستی پر یقین رکھنے والے، طالبان نامی اثاثوں کے ذریعے مرتد قرار دے کر ذبح کیے گئے. پشتون قوم میں جو کتاب و قلم سے عشق رکھتے تھے تو خنجر کو قلم اور ان کا خون سیاہی بنا کر مرضی کی تاریخ لکھ دی. بلوچستان کے اختر جان مینگل اور دیگر اہل علم و دانش کی آواز بند کرنی ہو تو رمضان مینگل جیسی جنگلی جھاڑیاں کاشت کی جاتی ہیں. کراچی میں پروفیسرز اور دیگر بولنے والوں کی ویرانوں سے لاشیں برآمد ہوتی ہیں اور لدھیانوی و اورنگزیب جیسوں کے پیچھے لشکر نکلتے ہیں. اسی طرح باقی بہت سے صاحبان علم و دانش کا بھی بندوبست کیا گیا. جو بھی اس ریاست کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوئے کتاب و قلم اٹھاتے ہیں نئے رستے تلاش کر کے ان پر علم کی شمع روشن کر کے دوسروں کو منزل کا نشاں دیتے ہیں وہ غدار ہوتے ہیں ان سے اس سرمایہ دارانہ اور اشرافیہ ریاست کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہتا ہے.

یہ بھی پڑھئے:   کاش کوئی مظلوم کی آہ کو سنے۔

اب جب کبھی ان کارندوں اور ٹھیکیداروں کے جہنم نما پیٹ خالی ہوتے ہیں وہ اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے پیٹ کی آگ سے باہر کی دنیا جلانا شروع کر دیتے ہیں اور ہم عوام یہ توقع رکھ کر جی بہلاتے ہیں کہ اب کی بار ان اثاثوں کی خیر نہیں لیکن ہمیں کیا پتا کہ یہ اثاثے ختم ہوئے تو سرمایہ دار اور اشرافیہ کی بالادستی قائم نہیں رہ سکتی. عوام حقوق مانگنا شروع کریں گے صدائیں بلند ہوں گی اور یہ چیزیں کسی بھی سرمایہ داری نظامِ ریاست کے لئے بہتر نہیں ہوتیں. ایسے میں اشرافیہ کی ذمے داری بنتی ہے کہ ان صداؤں کو شور میں دبائیں نئی صدائیں پیدا کریں رستے کی نشانی مٹائیں اور عوام کی مہار واپس کالی کوٹھری کی طرف موڑیں.

اگر ریاست کسی ایک اثاثہ کو ختم کر بھی دے تو اس کی جگہ نئے اثاثہ کی کاشت پہلے سے کی چکی ہو گی اور ریاست محل کے کسی کونے کو ستون کے سہارے کے بغیر کبھی نہیں چھوڑتی. ستر سال سے یہی کچھ کاشت ہوتا رہا ہے کاٹا جا رہا ہے اور لگتا نہیں کہ یہ فصلِ خار دار کبھی ختم ہو جائے گی. ہاں مگر عوام پوری قوت سے اٹھ کر چاہے تو. لیکن عوام اور فقط عوام، نہ کہ ہجوم.

یہ بھی پڑھئے:   پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریاں

تاریخ کے اوراق پر سے گرد اڑا کر دیکھنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا دین و مذہب کی آڑ لے کر کیسے کیسے انسان رستوں سے ہٹائے گئے ہیں کتنے تاریک زنداں نظر آئیں گے جس میں انسان سسکتے بلکتے ملیں گے اور وحشت ان کے سامنے اژدہا کی صورت پھن پھیلائے کھڑی ہو گی ان کے جسم میں موجود علم کی روشنی کتنی اذیت سے نکالی جا رہی ہے . کئی لوگ کہتے ہیں ماضی سے کیا لینا دینا، بھولنا چاہیے. ارے بھئی، ماضی بہت کچھ سکھا دیتا ہے تاریخ میں بہت سے رستے ملیں گے اور ان رستوں پر سوچنے سمجھنے کی کوشش کریں جب بہت سی نشانیاں ایک دوسرے سے متصل ہوتی ہیں تو سوچنا چاہیے کہ اس گمنام دشتِ وحشت میں کئی نشانیاں بے سبب تو نہیں.

Views All Time
Views All Time
152
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: