آسیہ رمضان اور انجیلینا جولی: دو متضاد

Print Friendly, PDF & Email

asia-ramzanآسیہ رمضان کردستان ورکرز پارٹی کے خواتین گوریلا یونٹ کی نوعمر سپاہی تھی۔ وہ اپنی ٹیم کی لیڈر اور گنر تھی۔ عسکری تربیت مکمل کر کے ایک سال قبل وہ گوریلا یونٹ میں شامل ہوئی تھی اور داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پانچ بڑی لڑائیوں میں شامل رہ چکی تھی۔ اس کے چھ چچا اور کزنز بھی اس جنگ میں شہید ہو چکے تھے۔ تیس اگست کو منبیج کے علاقے میں لڑتے ہوئے وہ خود بھی شہید ہوگئی۔ اس کے شہادت کی مغربی ذرائع ابلاغ میں بڑی تشہیر کی گئی۔ اس کی موہنی صورت کی وجہ سے اسے کرد انجیلینا جولی کہا گیا اور اس کی شہادت کی خبر یوں بیان کی گئی کہ "کرد انجیلینا جولی کو داعش نے ہلاک کر دیا”!
کردستان ورکرز پارٹی عراق، شام اور ترکی کے کرد علاقوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ عراقی کردستان میں داعش کے جنگجوؤں کوذلت آمیز شکست دینے کے بعد شام کے علاقوں میں لوگوں کو داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے سفاکانہ چنگل سے آزاد کرانے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی کردستان ورکرز پارٹی طویل عرصے سے اقوام متحدہ، نیٹو اور امریکی سی آئی اے کے نزدیک ایک دہشت گرد تنظیم تھی۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف اس کی شاندار فتوحات نے اس پر لگے دہشت گردی کے امریکی و یورپی لیبل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور امریکہ اسے اپنا اتحادی بنانے پر مجبور ہو گیا۔
کردستان ورکرز پارٹی کے مطابق وہ سوشلسٹ فلسفے کے تحت کردستان کی آزادی کی جنگ لڑرہی ہے جس میں خواتین کا کردار مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ ترکی میں قید اس کے مرکزی رہنما عبداللہ اوکلان کے بقول کردستان کا انقلاب عورت کا انقلاب ہے اور کرد عورتوں کی شمولیت اور آزادی کے بغیر کرد انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کردستان ورکرز پارٹی کے کارکنوں کا عالم یہ ہے کہ ایک ہی گھرانے کی عورتیں اور بالغ لڑکیاں ایک جانب خواتین گوریلا یونٹ میں شامل ہو کر لڑ رہی ہیں اور دوسری جانب ان کے باپ اور بھائی عوامی گوریلا یونٹ میں شامل ہو کر ان کے شانہ بشانہ کردستان کی آزادی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
انجیلینا جولی اور آسیہ رمضان میں کیا مماثلت تھی کہ اسے کرد انجیلینا جولی قرار دیا گیا اور مغربی ذرائع ابلاغ میں اس کی شہادت کی تشہیر کرد انجیلینا جولی کی حیثیت سے کی گئی؟ جواب ہے کوئی نہیں۔ نہ صرف ان میں کوئی مماثلت نہیں بلکہ آسیہ رمضان اداکارہ اور اقوام متحدہ کی سفیر انجیلینا جولی سے کہیں زیادہ عظیم المرتبت ہے۔
انجیلینا جولی ہالی ووڈ کی پروپیگنڈہ فلموں میں خیالی دشمنوں کو جہنم واصل کرنے کی اداکاری کر کے دولت کماتی ہے اور سفیر کی حیثیت سے بین الاقوامی پروٹوکول میں پناہ گزینوں کے حالات کا جائزہ لے کر ان کی صورتحال پر تبصرے کرتی ہے۔ لیکن آسیہ رمضان نے حقیقی زندگی میں درندہ صفت دہشت گردوں سے نبردآزما ہو کر انسانوں کے لیے امن، سلامتی اور عورت کی غلامی کے خلاف شعوری طور پر اپنے سے کئی گنا طاقتور اور سفاک دشمن کے خلاف مسلح لڑائی لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
اقوام متحدہ کی سفیر کی حیثیت انجیلینا جولی کا کردار لیبیا اور شام کے حوالے سے نہایت متنازع رہا ہے۔ ان کے بیانات اور تقریروں نے لیبیا اور شام میں انسانی ہمدردی، امداد اور حقوق کے تحفظ کے نام پر بین الاقوامی مداخلت کو جواز فراہم کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بوسنیا پر نیٹو کے سفاک فوجی حملے کے حوالے سے جانبدرانہ فلم بنا کر انہوں نے نیٹو کی سفاکیت کو جائز ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے عالمی شہریت یافتہ فنکاروں کو استعمال کرنا سامراجی طاقتوں کی حکمتِ عملی کا ایک حصہ ہے۔ اس کے برعکس آسیہ رمضان مشرقِ وسطی میں ان سامراجی قوتوں کے خلاف عظیم انقلابی جذبے کے ساتھ برسرِ پیکار رہی ہے جو انجیلینا جولی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایک سفیر کی حیثیت سے استعمال کرتے آئے ہیں۔
آسیہ رمضان کے رفیقوں نے اسے کرد انجیلینا جولی قرار دیے جانے پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اس عمل کو "جنسیت” سے تعبیر کیا۔
چومان کنانی نے جنہیں کوبانی کی فتح کے بعد اس کی تعمیرِ نو کا انچارج مقرر کیا گیا ہے کہا کہ آسیہ کی شہادت کو مغربی ذرائع ابلاغ نے "سیکس اسٹ” انداز سے پیش کیا ہے۔ کسی نے ان دوسری لڑکیوں کی بات نہیں کی جنہوں نے آسیہ کی طرح دہشت گردوں سے آزادی کے لیے جامِ شہادت نوش کیا۔ "ہم عورتوں کو سماج میں ان کا جائز مقام دینا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کا تعین خود کریں۔ ویان (آسیہ رمضان) نے اس مقصد کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ میڈیا میں کسی نے اس کے ان آدرشوں کاذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس بات کا کہ گزشتہ چار سال میں ویان نے روجاوا کی عورتوں کے لیے کیا حاصل کیا؟”
اگرینا سینا خواتین گوریلا یونٹ کی ایک کمانڈر ہیں جن کی ایک ٹانگ منبیج کے علاقے میں لڑتے ہوئے ضائع ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہونے والے ان کے تمام مرد و خواتین ساتھی فرشتہ صورت تھے۔ "ان کی تصویروں کو دیکھو۔ یہ سب فرشتے ہیں۔ یہ سب خوبصورت ہیں۔ آپ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب صرف اس لیے نہیں کر سکتے کہ اس کی شکل ہالی ووڈ کی کسی اداکارہ انجلینا جولی یا جولیا رابرٹس سے ملتی ہے۔ ان میں کچھ بھی مشترک نہیں۔ انہوں نے دنیا کے سب سے زیادہ عورت مخالف گروہوں کے زیرسایہ رہنے کے بجائے آزادی کے لیے لڑتے ہوئے مرجانے کو ترجیح دی۔”

Views All Time
Views All Time
944
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جیپ اور بالٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: