Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آسیہ بی بی کیس اور موجودہ حکومت

Print Friendly, PDF & Email

آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں رہائی کے بعد جہاں مذہبی حلقوں کا سڑکوں پر طوفان برپا ہے وہاں سوشل میڈیا پر بھی چنگھاڑ اور چیخم کٹی کا سا ماحول بن چکا ہے۔ دیسی لبرل حضرات جہاں اس رہائی کو سیکولرسماج کی وکٹری گمان کر فتح کے شادیانے بجارہے ہیں ، وہاں ایک مخصوص مذہبی حلقہ آقا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے کر جذباتیت کے سیلاب میں عام مسلمانوں کو غرق کرنے میں جتا ہوا ہے۔ فیصلے کے سماجی، مذہبی پہلووں سے قطع نظر اس کا سیاسی پہلو کوئی نہ سمجھ میں آنے والی گتھی ہرگز نہیں ہے۔

توہین رسالت قانون میں معمولی سی ترمیم کا بہانہ کرکے ختم نبوت کے تقدس کی کامیاب مہم چلانے والی تحریک انصاف آج کٹر لبرل کیسے بن گئی ہے۔ سمجھنا آسان ہے کہ حکمرانی کا تقاضا اول ہے کہ ہر معاملے سے فائدہ کشید کیا جائے۔ جو حاکم وقت اپنے وفاقی وزیر کی فرمائش پر زبانی ایک آئی جی کو ہٹا کر بے گناہ غریبوں کو گرفتار کرواکر جیل بھجوا دے۔ وہ حاکم ، آسیہ بی بی کے کیس میں سب کچھ عدلیہ پر چھوڑ کر بیٹھ گیا ہوگا۔ ناممکنات میں سے ہے۔ عمران خان ہیں تو طالبانی ذہنیت کے حامل مگر ایک خوش شکل سیاستدان، لیکن اس وقت ان کو مقصود عالمی برادری کو خوش کرنا ہے اور جانتے ہیں کہ آسیہ بی بی کی پھانسی مشکلات میں گھری حکومت کے لئے باہر کتنی پریشانیاں کھڑی کرسکتی ہے سو انہوں نے وہی فیصلہ کروایا جس سے باہر والے راضی ہوجائیں۔ اگر اس کی جگہ مذہبی حلقوں کو خوش کرنا مقصود ہوتا توآسیہ بی بی کو آن کی آن میں لٹکا دیا جاتا ،جیسے کہ شدھ سیکولر ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم، مذہبی حلقوں کو راضی کرنے کے شوق میں احمدیوں کو اقلیت قرار دے گئے تھے۔ میں بھٹو صاحب کے اس فیصلے کا چند وجوہات کی بنا پر کٹر حامی ہوں مگر پیپلز پارٹی کا دیسی لبرل حلقہ آج بھی نجی محافل میں اسے بھٹو مرحوم کی سب سے بڑی سیاسی غلطی گردانتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   تبدیلی نعروں سے نہیں آتی

سو دوستو ریاست بے رحم ہوتی ہے اور حاکم سنگدل ہوتا ہے۔ وہ وہی فیصلے کرتا ہے جوحالات و وقت کی مناسبت سے اسے سوٹ کرتے ہیں۔ نواز شریف کو ممتاز قادری کو پھانسی دے کر عالمی برادری میں اپنا امیج بہتربنانا تھا، انہوں نے بنایا۔ عمران خان کو آسیہ بی بی کو رہا کرکے اپنا سر برطانیہ و امریکہ میں اپنے سوشل سرکل کے آگے اونچا کرنا تھا، انہوں نے کرلیا۔ بونس میں آنے والے ایک ماہ کے لئے میڈیا، سوشل میڈیا اور سڑکوں پر ایک ایسی جنگ اور بحث کا آغاز ہونے جارہا ہے جو نومولود حکومت کے سارے بلنڈرز اور ناکامیوں کو ڈھانپ لے گا۔

رہی بات ہم جیسوں کی تو ہم عوام ہیں۔ نیچے دی گئی تصویر ملاحظہ کریں۔ اس میں ایک محترم مولانا صاحب ہیں۔ میں نہیں جانتا یہ تصویر فوٹو شاپ بھی ہوسکتی ہے مگر اس میں لکھا پیغام بہت مزے کا ہے کہ جس میں موصوف اپنے جنازے خود پڑھنے کی ترغیب دے رہے ہیں، جو کہ ناممکن ہے کہ مردے اپنا جنازہ پڑھنے سے قاصر ہیں۔ ہم اور آپ لبرل ہوں یا مذہب پسند، سب اپنے اپنے دائرے میں اپنا جنازہ خود پڑھنے کی سعی میں ہیں۔ جس کا حاصل وصول کچھ نہیں ہے۔ آسیہ بی بی کا معاملہ عدالت وقت سے جیسا بھی صادر ہوگیا، ہوچکا، اب اس فیصلے کو پیٹنے کے بجائے، خود منصف بننے کے بجائے روزمحشر کا انتظار کریں جب ممتاز قادری اور آسیہ بی بی اور سلمان تاثیر تینوں اللہ کی عدالت میں ہونگے۔ تب تک کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں تو سیرت النبی ص کی خوب سی کتاب کا مطالعہ کریں اور اس میں آقا ص کی کسی بھی اچھی سی سنت کو من و عن اختیار کرنے کی کوشش فرمائیں۔ رب سوہنا ہم سب کے دلوں کو نرم کرے اور اسے رحم سے بھر دے۔ آمین

یہ بھی پڑھئے:   تجدید ایمان کی گھڑی - تسنیم عابدی

Views All Time
Views All Time
731
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: