راکھ زدہ

Print Friendly, PDF & Email

rakh zadaمجھے اپنی بات کہاں سے شروع کرنی چاہئے ۔بس یہی الجھن ہے جو میرے آڑے آ رہی ہے۔مجھے نہیں معلوم کب میں نے خواب گری کا پیشہ اختیار کیا تھا۔بس اتنا یاد ہے کہ پہلے پہل ایک بارش تھی جو دھند کی طرح میرے دماغ پر برسنے لگی تھی۔یہ بارش صرف پانی کی پھوار نہیں تھی بلکہ اس میں رنگ بھی ہوتے تھے۔مجھے خواب گری میں نیلے ،پیلے اور سیاہ رنگ تو کبھی پسند ہی نہیں آئے تھے۔مجھے کیا پتہ تھا کہ کبھی یہی رنگ میری قسمت کا لکھا بن جائیں گے ۔اور میں نیلے،پیلے اور سیاہ خوابوں کے دائروں سے باہر نہیں آ سکوں گی۔
میرے والد ایک کالج میں پرنسپل تھے۔والدہ ایک گھریلو عورت تھیں۔مڈل کلاس گھرانہ تھا ہمارا ۔ہم نے بچپن کے دن بڑے خوش و خرم انداز میں گزارے تھے۔میں تعلیم کے دنوں میں پھولوں،تتلیوں اور شوخ رنگوں سے خوب خوب لگاؤ رکھتی تھی۔میرے خوابوں میں اداسی کا کوئی رنگ نہیں تھا۔میں نے ہمیشہ زندگی کو سرخ رنگ میں،کبھی آسمانی رنگ میں،کبھی شربتی رنگ میں اور کبھی دھنک رنگ میں دیکھا تھا۔میں خوشی کے انہی رنگوں میں کھیلتی کودتی رہتی تھی۔میرا بچپن،لڑکپن انہی رنگوں میں خوش ہوتے گزرا تھا۔
پھر یوں ہوا کہ کالج کہ زمانے میں میرے ایک کزن میرے ساتھ تعلیم حاصل کرنے لگے۔خالد تھا ان کا نام۔وہ مجھے میرے نام زینرہ احمد کہہ کر جب پکارتا تو مجھے اپنے دل کے سارے تار ہلتے محسوس ہوتے۔مجھے اپنے دل و دماغ کی دنیا بدلی بدلی لگنے لگتی تھی۔میرے ذہن کی کیمسٹری تبدیل سی ہونے لگی تھی۔اب بھی سارے رنگ خوشی اور مستی کے میرے ساتھ تھے لیکن اب ساتھ ساتھ مجھے ایک عجب سا سرور بھی آنے لگا تھا۔یہ سب کیا تھا میں اس کو کوئی نام دینے سے قاصر تھی۔بس محسوس کرتی تھی۔لیکن کبھی کھیل کو کہنے کی ہمت نہیں پڑی تھی۔ایک دن خالد اور میں نے کالج بنک کیا اور ہم دونوں لارنس چلے گئے۔یہ باغ ایک جنت ہے زمین پر ۔یہ کہنا کوئی غلط نہیں تھا۔ہم نے ایک اونچی پہاڑی کے ایک ویران گوشے کو بیٹھنے کے لئے منتخب کیا۔اس دن خالد کی آنکھوں میں مجھے عجب سا سحر نظر آ رہا تھا۔میرے رگ و پے میں عجب سی سنسناہٹ تھی۔میں عجب سی مستی میں تھی۔خالد نے اچانک میرا ہاتھ تھاما اور کہا کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔اور برسوں سے یہ کہنا چاہتا ہے لیکن کہہ نہیں پاتا تھا۔آج اسے نجانے کہاں سے یہ ہمت ہو گئی کہ مجھے یہ سب کہہ رہا ہے۔میں اس کے یہ سب کہنے پر حیران نہیں ہوئی۔مجھے تو یہ سب ایسے لگا جیسے میں کہہ رہی ہوں۔میں نے اس کو جواب میں صرف یہ کہا کہ میں بھی کچھ ایسا ہی کہنا چاہتی تھی۔لیکن شرم اور حیا آڑے آتی رہی۔کہہ نہیں پائی۔مگر میں نے خالد پر واضح کیا کہ ہم اب اس سلسلے کو تب آگے بڑھائیں گے جب وہ اپنے گھر والوں کو کہہ کر میرے گھر والوں سے میرا ہاتھ مانگے گا۔خالد یہ سن کر خوش ہو گیا ۔پھر ایک دن اس کے گھر والے میرے گھر آئے۔اور دونوں طرف سے کیا باتیں ہوئیں مجھے معلوم نہیں تھا۔مگر ایک ہفتے بعد میری اور خالد کی منگنی ہو گئی۔میں بہت خوش تھی۔خالد سے میری محبت اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ میں دن رات اس کے اور اپنے ملن کی دعا مانگتی تھی۔
پھر یہ آرزو بھی پوری ہو گئی۔ماسٹرز کے بعد خالد کی جاب لگی تو ہم دونوں کو رشتہ ازواج میں باندھ دیا گیا۔حجلہ عروسی کی رات جو سب جوان دلوں کے خوابوں کا مرکز و محور ہوتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا میرے خوشی کے سارے رنگ اڑا کر رکھ دے گی۔مجھے اپنی خواب گری کی سخت سزا دے گی۔رات کے دو بجے تھے۔میں تمام تر تھکن کے باوجود پیا رنگ رنگنا چاہتی تھی۔اس رات کو وصل کی رت میں بدلنے کی آرزومند تھی۔وہ دیار خواب میں دبے پاؤں آئے خواہش تھی میری۔مگر یہ کیا کہ وہ آیا تو نشہ میں دھت تھا۔آتے ہی مجھ سے درشتی سے بولا !تم جانتی ہو زنیرہ احمد !تم میری محبت،میرا مقصود نہیں تھیں۔میں نے کبھی تم سے محبت نہیں کی۔میں نے کوئی دیپ آنکھوں میں تمہاری رہ تکتے نہیں جلائے تھے۔تم تو میری ضد تھیں۔تمہیں پانے پر شرط بندھی تھی میں نے۔سو آج جیت لی ہے۔تمھیں مغرور کہا جاتا تھا۔تمہارا کوئی بوائے فرینڈ نہیں تھا۔مجھے بس تمہیں جیتنا تھا سو جیت لیا۔
میں اس سے آگے سننے کی متحمل نہ تھیں۔مجھے لگا میں کوئی قانونی جسم فروش ہوں جو اس کمرے میں ایک کاغذ پر دستخط کر کے بند کر دی گئیں ہوں۔مگر اس دل کا کیا کرتی جو ستمگر سجنا کی آمد پر اس کی سارے ستم کے با وجود اس کو خوش آمدید کہنے کو تیار تھا۔میں نے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر سب قبول کر لیا۔اس کے ساتھ دن گزرتے ہوئے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ میرا سجن جھوٹا بدن لئے پھرتا ہے۔یہ وہ بدن ہے جو نجانے کہاں کہاں جھوٹا ہوا پھرتا ہے۔میں سب برداشت کرتی رہی۔اسی دوارن میرے ہاں ایک کلی کھلی ۔جس کا نام میں نے طاہرہ رکھا۔اب تو خالد مجھے مارنے پیٹنے پر اتر آیا تھا۔میں سب برداشت کرتی رہی۔کبھی بھولے سے بھی میں نے نہ تو ماں کو بتایا ۔اور مجھ نصیبوں جلی کی کوئی بہن تو تھی ہی نہیں جس سے میں اپنے دکھ بانٹ لیتی۔۔اس دور میں پہلے پہلے میں نے اپنے ہاتھوں کو خواب میں نیلے دیکھا اور مجھے خواب میں بڑھتے بڑھتے اپنے سارا جسم نیلا نظر آنے لگا۔عجب سا زہر میرے بدن میں سرایت کرتا خواب میں مجھے دکھائی دینے لگا تھا۔خوشی کے رنگ تو جیسے کہیں دور ہی رہ گئے تھے ۔طاہرہ بمشکل چار سال کی ہوگی جب ایک دن میرے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔وہ کاغذ جنھیں ہمارے یہاں لوگ کلنک کا ٹیکہ کہتے ہیں اس نے میرے ہاتھ میں تھما دے اور رات کے 3 بجے مجھے گھر سے بچی سمیت نکل جانے کو کہا۔میں نے اپنی بچی کو اٹھایا چپ چاپ اس گھر سے نکل آئی جسے میں اپنا گھر بنانے کے کیلے منتیں مانا کرتی تھیں۔صبح 5بجے میں بابل کے گھر پہنچی اور انھیں وہ کاغذ تھما دئے۔ظالم نے ایک نوٹ میں لکھ ڈالی تھی ضد والی بات۔سارا گھر ششدر تھا۔دکھ اداسی کے سمندر میں ڈوبا۔اس رات میں نے زرد رنگوں میں بھیگی بارش کو برستے دیکھا۔میں حیران تھی آخر یہ بارش کیوں زرد زرد ہوئے جاتی ہے۔
میں نے ہمت نہیں ہاری۔ہاں دل کمبخت اب بھی اسی ستم گر کے لئے کباب بنے جاتا تھا۔میرے دل میں سوال اٹھتا تھا۔کہ محبت کیوں اپنے میز بان کو کھا جاتی ہائی۔مٹا ڈالتی ہے۔پھر بھی ھل من مزید کی صدا اس کے لبوں سے نکلنا بند نہیں ہوتی۔میں اپنا قصور ڈھونڈتی تھی نہیں ملتا تھا تو بہت اضطراب ہوتا تھا۔میں نے کئی مرتبہ مرنے کا سوچا –لیکن طاہرہ کی معصوم شکل سامنے آتی تھی۔جیسے وہ کہہ رہی ہو۔نہیں ماما ۔ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔کہیں مت جانا ۔میں نے خود کو بیٹی کے لئے وقف کر ڈالا۔ایک سکول میں جاب کرنے لگی۔پھر مجھ پر ایک اور سانحہ ہو گزرا۔میری ماں ایک دن بنا کچھ کہے چل بسی۔میں سکول جاتی تھی۔پیچھے بابا طاہرہ کو سنبھالتے تھے۔ایک دن نجانے ان کو کیا ہوا اور انھوں نے طاہرہ کو واپس اس کے والد کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔میں نے بہت کوشش کی ان کو اس فیصلے سے باز رکھنے کی نہ رکھ سکی ۔سو طاہرہ کو اس کے والد کے حوالے کر دیا گیا۔اس دن کے بعد بارش میرے خوابوں میں سیاہ رنگ میں برسنے لگی تھی۔یہ رنگ مجھے اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا۔مجھے ایسے خواب آتے کہ جیسے کالی سیاہ راکھ آسمان سے برس رہی ہے اور سارا شہر اور اس کی عمارتیں ،لوگ سب کالی راکھ میں بھیگ گئے ہیں۔میں کسی صحرا میں اکیلی کھڑی ہوں اور صحرا میں بھی کالی راکھ برس رہی ہے اور میں اس راکھ میں بھیگ کر راکھ زادہ ہو گئی ہوں۔تہی دامنی کے ساتھ سارے جسم پر پھوار کی طرح برسنے والی راکھ میرا نصیب کیوں تھی۔میں کئی مرتبہ رب سے ملنے کی کوشش کرتی ۔مگر نا کامی ہوتی۔وہ مجاز میں ملتا نہیں تھا اور میں پردوں میں اس سے ملنے کو تیار نہیں۔ایک مجذوب سے سر راہ ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگا ۔اے راکھ زدہ سن!تو اس سے ہم کلام ہونا چاہتی ہے تو خود سے ہم کلام ہو جا۔تیری اس سے ملاقات ہو جائے گی۔میں حیران تھی ۔خود سے بولتے ہوئے تو مجھے عرصۂ بیت گیا تھا۔پھر اگر خود سے ہم کلامی میں خدا ملتا تو میں راکھ زدہ نہ ہوتی۔میں تہی دامنی کا غم نہیں کرتی لیکن یہ سوال ضرور کرتی ہوں میرے خوابوں کو سیاہ رنگ دینے والے ستم گر کی یاد میں میرا سینہ اب بھی کباب کیوں بنتا ہے۔ مجھے اس کی یاد سے کنارہ کرنے یہ دل کیوں نہیں دیتا؟میرے دل میں محبت کی جگہ نفرت کیوں گھر نہیں کرتی؟خوشی کے رنگوں میں چمکنے دمکنے والوں کیا کوئی جواب ہے اس راکھ زدہ کا تمہارے پاس

Views All Time
Views All Time
534
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   یوں بھی ہوتا ہے – عامر حسینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: