ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان مگر کیوں؟

Print Friendly, PDF & Email
نوٹ: قلم کار یروشلم اور فلسطین کے موضوع پہ امریکی صدر کے حالیہ متنازعہ فیصلے کے بعد مختلف نکتہ ہائے نظر کے مضامین شائع کررہا ہے۔یہ مضمون بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ہم اس موضوع پہ دیگر لوگوں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس موضوع پہ ہمیں اپنی تحریریں ارسال کریں۔ ادارہ
 حضرت یعقوبؑ کا نام اسرائیل تھا اور بنی اسرائیل حضرت یعقوبؑ کی اولاد سے تھے۔ فرعون کے مظالم سے نجات دلا کر حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کو ارضِ موعود کی جانب لے گئے۔ حضرت موسیٰؑ جب چالیس روز کے لیے کوہِ طور پر گئے تو بنی اسرائیل دوبارہ بت پرستی کرنے لگ گئے۔ اس نافرمانی کے نتیجہ میں چالیس سال تک یہ قوم مختلف صحراؤں میں بھٹکتی رہی۔ جنابِ موسیٰؑ کی ہرممکنہ کوششوں کے باوجود بھی اس قوم نے طغیانی و سرکشی کی ہر حد عبور کی۔ حضرت موسیٰؑ کے بعد یہ قوم اردن کی جانب چلی گئی۔ جب یہ قوم نئے شہروں میں پہنچی تو وہاں کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ اس کے نتیجہ میں یروشلم کے بادشاہ نے چند دوسرے شہروں کے ساتھ مل کر بنی اسرائیل سے مقابلہ کیا۔ آخر کار خونی جنگوں کا سلسلہ بنی اسرائیل کی فتح پر ختم ہوا۔ لیکن فلسطین کے باسیوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ مزاحمت جاری رکھی اور بالآخر بنی اسرائیل کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بنی اسرائیل نے ہار نہیں مانی اور کئی جنگیں ہارنے کے بعد فلسطین کو فتح کرلیا۔ تقریباََ ایک ہزار سال قبل مسیح حضرت داؤدؑ نے فلسطین میں بیت المقدس کی عمارت کی بنیاد ڈالی۔ یہ عمارت حضرت سلیمانؑ ابن داؤدؑ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ بیت المقدس حضرت ابراہیمؑ کے مکہ میں کعبۃ اللہ کی تعمیر کے 1105 سال بعد تعمیر ہوا تھا ۔ کوہِ صہیون اور کوہِ زیتون مشرق و مغرب سے اس کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ صہیون لغت میں گرم اور خشک چیز کو کہتے ہیں اور یہودیوں کی تحریکِ صہیونیت اسی سے متعلق ہے۔ حضرت سلیمانؑ نے چالیس سال تک ایک پرامن حکومت کی لیکن ان کے بعد بنی اسرائیل نے دوبارہ غارت گری کا بازار گرم کردیا۔ 586 سال قبل مسیح آشوریوں کے حملہ سے بنی اسرائیل کا زوال شروع ہوا اور انہیں اسیر کردیا گیا۔ حملہ آوروں نے حضرت سلیمانؑ کی معبد گاہ کو بھی نقصان پہنچایا۔ بنی اسرائیل 1300 سال قبل مسیح سرزمینِ فلسطین میں داخل ہوئے، جبکہ آج 3300 سال گزارنے کے باوجود بھی اس سرزمین کو امن و سکون نصیب نہیں ہوا۔

29 نومبر، 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کرنے کے بعد 14 مئی، 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے ملک کے قیام کا اعلان کیا۔ تاہم اس بات پہ آج تک عالمی تنازعہ رہا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا مرکز ہے یا نہیں۔ 6 دسمبر 2017 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ہم یروشلم کو اسرائیل کو دار الحکومت تسلیم کرتے ہیں اور وزارت خارجہ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سےوہاں منتقل کردیا جائے۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں میں ناکام رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   قلم کار: پہلے سال کا سفر مکمل ہوا - حیدر جاوید سید

ہم اپنے اس کالم میں امریکہ کی اس ناکامی کو واضح کریں گے۔ لبنان میں موجود حزب اللہ اور فلسطین میں موجود حماس دونوں اسرائیل کے خلاف مقاومتی و مزاحمتی جماعتیں ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کو جنگی سٹریٹیجک سپلائی ایران کرتا ہے۔ ایران، شام کے راستہ سے لبنان سے جڑا ہوا ہے۔ شام کا موجودہ صدر بشار الاسد اس سارے معاملہ کا ایک شریک ہے اور اس کی تمام تر وفاداریاں ایران اور روس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ روس سے اس لیے کیونکہ وہ شام کا معاشی دوست ہے اور اس راستہ سے ہی اپنی تجارت کو انجام دیتا ہے۔ گو کہ اس دوران امریکہ بہادر، عرب ممالک کے ذریعہ بشارالاسد کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوششیں کرتا رہا لیکن وہ ان حیلہ سازوں کی چمک دمک سے مرعوب نہ ہوا۔ جب بشارالاسد عرب شہزادوں کے ہاتھ نہ آیا تو انہوں نے شام میں سیاسی بحران کھڑا کرنے کے لیے بشارالاسد کے خلاف عوامی بغاوت کو ترتیب دیا اور مسلح لشکر بنائے۔ ساتھ ہی روس کو معاشی بحران میں مبتلا کرنے، ایران کا لبنان میں مقاومتی بازو توڑنے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا سیاسی کھیل کھیلنے کے لیے امریکہ نے داعش جیسے درندہ کو تخلیق کیا۔ اس درندے کی لگام امریکہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی اور اسے شام و عراق میں کھلا چھوڑ دیا۔ اب ایک طرف عربوں کے حمایت یافتہ باغی لشکر اور دوسری طرف امریکہ کے تخلیق کردہ داعشی لشکر دونوں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے لگے۔ یہ دونوں گروہ بعد میں آپس میں لڑنے مرنے لگے اور ان کے درمیان مزید کئی لشکر بن گئے۔ اس ساری آفات و بلیات سے نمٹنے کے لیے ایران میں درخشاں انقلابِ اسلامی کے فرزندان سامنے آئے۔ ہزاروں رضاکار جوانان ایرانی القدس بریگیڈ کے سالاروں جن میں قاسم سلیمانی کا نام سرفہرست ہے، کی قیادت میں شام و عراق میں داعش سے لڑنےکے لیے قمر بستہ ہوئے۔ حزب اللہ کے جوانان اس معرکہ میں صفِ اول کے سپاہی بنے۔ ادھر سے روس بھی شامی افواج کی مدد کو آپہنچا۔ عراق میں حشد الشعبی نامی رضاکار فورسز نے عراقی افواج کے ساتھ مل کر شہروں کو داعش سے خالی کرانا شروع کردیا۔ نومبر 2017 میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی نے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کو لکھے جانے والے خط میں عراق میں داعش کے خاتمہ سے مطلع کیا۔ 21 نومبر 2017کو ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں عراق اور شام دونوں میں داعش کے خاتمہ کا اعلان کیا اور پوری امت اسلامیہ کو مبارک باد پیش کی۔

یہ بھی پڑھئے:   ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن۔۔۔۔۔

یہی وہ ناکامی ہے جس کا دکھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہے کہ جس لشکر کو اتنی خطیر رقم خرچ کرکے اسے تشکیل دیا، وہ مسلمانوں کی مدبرانہ سیاست سے تہہ و بالا کردیا گیا۔ اپنی ان ناکامیوں کا ازالہ کرنے اور امت مسلمہ کی خوشی کو دوبارہ غم میں بدلنے کے لیے اس نے ایسا قدم اٹھایا ہے کہ ہم یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ بیوقوف کے اس بیان کے جواب میں رہبرِ امت اسلامی سید علی خامنہ ای نے درست کہا ہے کہ یہ بیان صرف کمزوری اور بے بسی کے سبب ہے۔

Views All Time
Views All Time
150
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: