نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

Print Friendly, PDF & Email

وہ امت جس نے سفینہِ بشریت کو عافیت کے ساحل تک پہنچانا تھا وہ خود آفات کے بھنور میں گھِر گئی۔ وہ امت جس نے عالمِ اسفل میں سسکتی ہوئی انسانیت کو آفاق کی راہ دکھانی تھی خود پستیوں کے گردباد میں گرفتار ہو گئی۔ تاریخ میں کئی ایسے حکیم آئے جنہوں نے اپنی بصیرت سے امتِ مسلمہ کے درد کا درماں پیش کیا۔ انہیں میں سے ایک شخصیت علامہ محمد اقبال کی ہے جنہوں نے اپنا عصیرِ حکمت بہا کر اس امت کی بیماریوں کی تشخیص کی اور پھر اُن کا علاج بھی پیش کیا۔ اقبال کا پیغام تمام عالمِ بشریت کے لیے ہے مگر انہوں نے اپنا مخاطب امتِ مسلمہ کو بنایا۔ کیوں کہ وہ یہ یقین رکھتے تھے کہ اس جہانِ افتاد میں فقط مسلمان اور مسلمان کے پاس وہ خالص دین ہی ہے جس کے پاس بشریت کی نجات کا نسخہ موجود ہے۔
اقبال کا یہ مشہور جملہ، "نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر” درحقیقت وہی نسخہ ہے جس میں اقبال نئے زمانہ اور نئے صبح و شام کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ زمانہ سے مراد رائج دن رات ، مہ و سال اور صدیاں نہیں بلکہ فلسفیوں کے نزدیک زمانہ ایک سیل ہے جو اپنے دامن میں تمام خشک و تر کو بہا لے جاتا ہے۔ ہر شے کی شکست و ریخت کا سبب بن کر اُن کو فنا کر دیتا ہے۔ یہی زمانہ انسان پہ بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب انسان کمزور، لاچار اور بیوقوف بن جائے تو زمانہ انسان پہ حاوی ہو جاتا ہے لیکن جب انسان عشق ، شوق اور بصیرت سے لبریز ہو تو یہ زمانہ بے بس ہو جاتا ہے۔ باقی کائنات کے تمام اجزا کی طرح انسان بھی کائنات کا ایک جزو ہے۔ اب یہ بحث مفصل ہے کہ انسان کائنات کا ایک جزو ہے یا کائنات انسان کی اجزا میں سے ایک جزو ہے۔ مشہور فلسفی ابنِ عربی نے اپنی کتاب فصوص الحکم کے پہلے باب فصِ آدمیہ میں انسان سے متعلق لکھا ہے کہ عارفین کے نزدیک کائنات انسانِ اکبر ہے اور خود انسان انسانِ اصغر ہے۔ البتہ انسان کائنات کے باقی اجزا کی طرح زمانہ کی تندی و تیزی سے متاثر ہونے کے بجائے خود اپنی تجلیات سے زمانہ کو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دن رات کا تسلسل انسان کے دم سے ہو نہ کہ انسان دن رات کا اسیر ہو کر رہ جائے۔ بقول اقبال
ہے گرمیِ آدم سے ہنگامہ عالم گر
سورج بھی تماشائی، تارے بھی تماشائی
نئے صبح و شام سے مراد نیا آغاز و انجام ہے۔ سوال اُٹھتا ہے کس کا آغاز اور کس کا انجام؟ یہ امتِ مسلمہ کی امامت کا آغاز ہے اور اس کا انجام پوری دنیا پہ دینِ اسلام کے غلبہ پہ ختم ہوگا۔ مگر جو خود زمین و زمن کا مغلوب ہو وہ کیسے غلبہ حاصل کرے گا۔ آج اسلام بھی مغلوب ہے اور امتِ مسلمہ بھی مغلوب ہے۔ بقول اقبالؔ
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
آج اگر دیکھنا ہے کہ اسلام آزاد ہے یا غلام تو صرف ایک مشاہدہ کریں۔ کیا آج اسلامی ممالک میں رائج تعلیمی، معاشی اور سیاسی نظام اسلام کے بطن سے اخذ کیا گیا ہے یا مغرب کے جعلی افکار سے اُدھار لیا گیا ہے۔جس قوم کی معیشت، سیاست اور تعلیم مستعار لی گئی ہو وہ وہ کبھی سر اُٹھا کے نہیں جی سکتی۔ مغربی سیاست کے مقابل مسلمانوں کو دین کی سیاست پیش کرنا ہوگی۔ آزاد تعلیمی و اقتصادی نظام کا اجرا کرنا ہوگا۔ آج کی نسل اپنے دور کے مفکرین و مدبرین سے مطالبہ کرے کہ غلامانہ طرزِ زندگی کے بجائے آزاد طرزِ زندگی کے اصول دین کے بطن سے اخذ کیے جائیں اور اُن اصولوں کو ایک ریاست کے اندر رائج کیا جائے۔ مغربی مفکرین دن رات محنت کرکے امتِ مسلمہ کی غلامی کے طریق ایجاد کر رہے ہیں۔ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں مغرب حکمران نظر آتا ہے۔
نئے صبح و شام کے پیدا کرنے میں دو چیزوں سے کنارہ گیری و دوری اختیار کرنا ہوگی۔ اوّل طرزِ کہن سے بچنا ہوگا اور دوئم تجدد کی سرکش یلغار سے سامانِ تحفظ اختیار کرنا ہوگا۔ طرزِ کہن سے مراد معاشرے کی فرسودہ روایات اور آبائی رسومات ہیں۔ آج ہم لکیر کے فقیر بن کر فقط آبائی دین پہ اکتفا کیے بیٹھے ہیں، یعنی جو چند عبادات اور احکامات والدین سے وراثت میں پائے ہیں اُسی کو کُلِ دین سمجھ لیا ہے ۔ دین کی اُس وسعت سے اِغماص کر لیا ہے جہاں ہر ایک چیز کا نظام موجود ہے۔ آج عربی، عجمی، افغانی ، بلوچی، سندھی، پنجابی اور پٹھان اپنی قومیت کے پُرانے بت کی پوجا پاٹ میں لگے ہیں مگر اسلام کےافکار سے نابلد ہیں۔ اپنی نظریاتی حیود و قیود قائم کرنے کے بجائے لبرل ازم اور سیکولر ازم کے لئے دروازہ کھُلا چھوڑا ہوا ہے۔ فوجی اپنی ملکی سرحدوں کی حفاظت تو کرتا ہے مگر دین مُلا کے سپرد کر رکھا ہے۔ بقول اقبالؔ
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے جائے
تو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی
یہ ایک اشتباہ ہے کہ اسلام تجدد کے خلاف ہے۔ تجدد کا رُخ اگر خیر کی طرف ہو تو اسلام میں یہ واجبات کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال اسلامی فلسفہ کی ہے جو الفارابی سے ہوتا ہوا مُلّا صدر تک پہنچتا ہے اور حکمتِ متعالیہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ کتنے ہی ایسے تخریب کار آئے جنہوں نے عمارتِ دین گرا ئی مگر اُسی ملبے سے سر جھاڑتے ہوئے عشاق اُٹھے اورعمارتِ دین کی تعمیرِ نو کی۔تجدد کی فضا تب بنائی جاتی ہے جب اسلام کو ایک پُرانا دین سمجھ لیا جائے۔ پہلے یہ تصور قائم کیا جاتا ہے کہ اسلام ہمارے عصری تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا پھر تجدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ پہلے یہ سوچا جاتا ہے کہ اسلام کے پاس سیاست کا نظام تو ہے نہیں لہٰذا آؤ جمہوریت کی جلیبیاں کھاتے ہیں۔ اسلامی تہذیب تنگ ہوگئی ہے لہٰذا آؤ بیٹیوں اور بہنوں کو دھرنے پہ رقاصی کراتے ہیں۔ اسلامی اقتصاد کا وجود ممکن نہیں لہٰذا آؤ ڈالروں سے جیبیں بھرلیتے ہیں۔ نہیں ہوتی کوئی لبرل ازم کی تحریک ایجاد جب تک کہ دین کو تاریک ثابت نہ کر لیا جائے۔ آج مغرب کے ہاں جتنی بھی تحریکیں، تنظیمیں اور اتحادی دھڑے بنے ہیں سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طرح دنیا پہ حکومت کی جائے۔ اور دنیا پہ حکومت کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم اسلام کو انسانی آبادیوں سے باہر نکالنا ہے۔ امتِ مسلمہ کو طرزِ کہن کی چڑیل سے جان خلاصی کرانی ہوگی اور تجدد کی سرکش سواری سے اتر نا ہوگا۔ مردہ ذہنوں سے شعور کی ولادت کو ممکن بنانا ہوگا۔ اس نئی نسل کو آزاد تعلیمی، معاشی اور سیاسی نظام کا اجرا کرنا ہوگا اور یہی نیا زمانہ کہلائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   بابل کا آنگن

قلم کار : اسفر ہاشمی

Views All Time
Views All Time
453
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: