Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا – عقیل عباس جعفری

Print Friendly, PDF & Email

aqeel-jafariموضوع سخن جون ایلیا جیسا بے پناہ عالم اور بے مثال شاعر ہو اور لکھنے والا ایک مجھ جیسا کم مایہ اور بے علم تو سوچیئے مجھ پر کیسی قیامت گزری ہوگی یہ تحریر لکھتے ہوئے ۔
وہ شاید 1978 کی ایک دو پہر تھی جب میں جون بھائی سے پہلی بار ملا ۔ اس ملاقات کا وسیلہ انور شعور بنے تھے ۔ مقام تھا گارڈن ایسٹ کا وہ مکان جو کراچی کی تاریخ میں اپنی تہذیبی فضا کی وجہ سے ایک خاص اہمیت رکھتا تھا ۔ اس ملاقات سے پہلے میں جون ایلیا کی سولہ غزلیں حفظ کرچکا تھا ۔ جی پوری سولہ غزلیں ، جن میں سے دس غزلیں فنون کے جدید غزل نمبر میں اور چھے غزلیں نیرنگ خیال کے غزل نمبر میں چھپی تھیں ۔ محلے میں کچھ ہم ذوق دوست تھے اور کچھ کالج اور یونیورسٹی میں، جن کے ساتھ مل کر ہم یہ غزلیں پڑھتے تھے اور شاعری کے ایک نئے ذائقے سے لطف اٹھاتے تھے ۔ ابھی کراچی کی تہذیبی فضا زندہ تھی اور نوجوان وی سی آر، ہیروئین، کلاشنکوف ، موبائل اور انٹرنیٹ سے ناآشنا تھے ۔ کتابوں سے محبت موجود تھی اور تحفے میں بھی اچھی کتابیں دئیے جانے کا چلن عام تھا ۔ 
اس پہلی ملاقات میں جون بھائی نے مجھ جیسے نئے شاعر سے بھی ایک دو غزلیں فرمائش کرکے سنیں، انور شعور نے بہت دنوں کے وقفے کے بعد چند غزلیں لکھی تھیں ، وہ سنی گئیں اور پھر جون بھائی نے اپنے قطعات، غزلیں اور نظمیں سنانی شروع کیں، جن کی یاد آج بھی دل کے نہاں خانے میں میں تروتازہ ہے ۔ شام کو ہم تمام دوستوں کو فخریہ بتاتے پھرے کہ آج ہم نے جون ایلیا سے خود ان کی زبانی ان کی شاعری سنی ہے۔ 
پھر جون بھائی گلشن اقبال چلے آئے ۔ یہیں ان کا گھر بھی تھا اور مومن اسکوائر میں ان کا آفس بھی ۔ اب تو ان سے ہر دوسرے تیسرے دن ملاقات ہونے لگی ۔ ان کی نئی غزلیں سنی جاتیں اور پھر اگر طہیر نفسی، اختر جونا گڑھی اور احفاظ الرحمان آجاتے تو گفتگو ادب، لسنایات، فلسفہ اور سیاست کی کتنی ہی منزلیں پھلانگ جاتی ۔
جون بھائی سے اصرار ہوتا کہ وہ اپنا مجموعہ کلام لے آئیں مگر وہ کہتے ابھی وقت نہیں آیا ۔ سبھی کو حیرانی ہوتی کہ وقت نہیں آیا سے کیا مراد ہے۔ یہ عقدہ اس وقت کھلا جب شاید منظر عام پر آئی اور اس کے پیش لفظ میں جون بھائی نے بتایا کہ وہ کیا زنجیر تھی جو انہیں مجموعہ کلام کی اشاعت سے روکتی تھی ۔ 
جون ایلیا خود کہتے ہیں”آپ سوچتے ہوں گے کہ میں نے اپنا کلام نہ چھپوانے میں آخر اتنا مبالغہ کیوں کیا؟ اس کی وجہ میرا ایک احساس جرم اور روحانی اذیت ہے۔”
ان کو قلق تھا کہ وہ اپنے بابا جان یعنی علامہ شفیق حسن ایلیا کا کام شائع نہ کرواسکے اور ضائع ہوگیا وہ خود کہتے ہیں”موسم سرما کی ایک سہ پہر تھی، میرے لڑکپن کا زمانہ تھا، بابا مجھے شمالی کمرے میں لے گئے۔
نجانے کیوں وہ بہت اداس تھے۔ میں بھی اداس ہوگیا۔ وہ مغربی کھڑکی کے برابر کھڑے ہوکر مجھ سے کہنے لگے کہ تم مجھ سے ایک وعدہ کرو۔ میں نے پوچھا۔”بتائیے کیا؟بتائیے بابا! کیا وعدہ؟” انھوں نے کہا”یہ کہ تم بڑے ہوکر میری کتابیں ضرور چھپواؤ گے۔” میں نے کہا”بابا! میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب بڑا ہو جاؤں گا تو آپ کی کتابیں ضرور چھپواؤں گا۔” مگر میں بابا سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کر سکا۔ میں بڑا نہیں ہوسکا اور میرے بابا کی تقریباً تمام تصنیفات ضایع ہوگئیں۔ بس چند مسودے رہ گئے ہیں۔ یہی میرا احساس جرم ہے جس کے سبب میں اپنے کلام کی اشاعت سے گریزاں ہی نہیں متنفر رہا ہوں۔”
کچھ لوگ جون بھائی کی کامیابی کا سبب ان کی وضع قطع ، مشاعروں میں پڑھے جانے کا ڈھب اور ان کے رومانوی قطعات کو بتاتے ہیں لیکن اگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا تو بھی جون اتنے ہی بڑے اور اتنے ہی توانا شاعر ہوتے ۔ انہوں نے غزل میں بالکل سامنے کے تجربات کو جس پرکاری کے ساتھ تحریر کیا وہ انھی کا حصہ تھا ۔ 
ایک طرف تو 
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
جیسا شعر اور دوسری طرف :
بہت نزدیک آتی جارہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا؟
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ھوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ھوں میں
جیسے یگانہ اور اردو شاعری کی روایت سے بالکل جداگانہ اشعار جون ایلیا کو اردو شاعری میں ایک منفرد اسلوب کا مالک ٹہراتے ہیں ۔
جون ایلیا کی غزل میں ایک انداز سجاوٹ اور لفظی جمالیات کا ہے تو دوسرا درشتی اور کھردراہٹ کا، یہی اسلوب نگارش ہمیں ان کی نظموں میں بھی نظر آتا ہے، وہ بڑی سے بڑی فلسفیانہ گفتگو کو انتہائی سادہ پیرائے میں کہہ جاتے ہیں اس سے ان کے علم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، ان کے یہاں ہمیں جھنجھلاہٹ، غصہ، بے راہ روی، بے اعتمادی، شکوک و شبہات نظر آتے ہیں، جبھی تو
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر 
کاش اس زباں دراز کا منھ نوچ لے کوئی
یادیں ہیں یا بلوہ ہیں
چلتے ہیں چاقو مجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں
کیوں رہتا ہے تو مجھ میں 
سایہ ذات سے بھی رم، عکس صفات سے بھی رم
دشت غزل میں آکے دیکھ، ہم تو غزال ہوگئےchacha-jaun
نہیں دنیا کو جب پروا ہماری 
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم 
لیکن جون بھائی

آپ کو دنیا کی پروا ہو یا نہ ہو

دنیا کو آج بھی آپ کی پروا ہے، آئیے دیکھیے دنیا کے ہر گوشے میں آپ کے چاہنے والے، آپ کی شاعری پر سر دھننے والے اور آپ سے عشق کرنے والے کیسے کیسے لوگ موجود ہیں۔
اور وہ جو آپ نے کہا تھا 
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا 

آپ کا یہ شعر بھی جھوٹ نکلا ۔ آپ کے بہت سے دوسرے شعروں کی طرح ۔

Views All Time
Views All Time
4478
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: