Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے

یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
Print Friendly, PDF & Email

آج اردو کی معروف شاعرہ پروین شاکر کی برسی ہے ۔

آج سے ٹھیک تئیس برس پہلے اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں کو ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہ ناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پروین شاکر صبح اپنے گھر سے اپنے دفتر جارہی تھیں کہ ان کی کار ایک ٹریفک سگنل پر موڑ کاٹتے ہوئے سامنے سے آتی ہوئی ایک تیزرفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔
پروین شاکر 24 نومبر 1952ءکو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ءمیں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کلام کی کلیات ”ماہ تمام“ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔
پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔
پروین شاکر 26دسمبر 1994ءکو اسلام آباد میں وفات پاگئیں اور اسلام آباد ہی کے مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں ۔ ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار کندہ ہیں:
یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخم ہنر کو حوصلہ لب کشائی دے
شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے

Views All Time
Views All Time
139
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مٹی کی مونا لیزا-اے حمید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: