Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جوتے کی نوک پہ – چوہدری انور چوہان

by اپریل 26, 2017 کالم
جوتے کی نوک پہ – چوہدری انور چوہان

معاشرے میں تمام انسان مل جل کر رہنے کی کوشش کرتے ہیں مگر بعض اوقات ایسے تنازعات سر اٹھا لیتے ہیں جو باہمی گفت وشنید سے طے نہیں ہوتے ایسے میں بات بگڑنے یا تو تو میں میں سے بچنے کے لئے تیسرے فریق سے رجوع کرنا پڑتا ہے تیسرے فریق کی مختلف شکلیں ہیں لوگ پنچایت کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں یا خدشہ امن کے تحت پولیس سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں جو معاملات فوجداری نہیں ہوتے ان کے لئے عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے مقصد اکثر اوقات انصاف یا ضد بازی اور ہٹ دھرمی بھی ہوسکتا ہے لیکن ہمارے ہاں یہ اتنا طویل اور صبر آزما ہوتا ہے کہ لوگوں کو یا تو بعد از مرگ انصاف ملتا ہے یا دادا کی کی ہوئی استدعا کا فیصلہ پوتے کو سننا نصیب ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں ایک اور روایت بھی زور پکڑ رہی ہے کہ ماحول میں گرمی لانے کے لئے اور عوام کی توجہ مرکوز کرنے کے لئے قومی مفاد میں کروڑوں اربوں خرچ کرکے ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اچھالا جاتا ہے جسکی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی چاندی ہو جاتی ہے لوگ سرشام ٹیلی ویژن کے نزدیک بیٹھ کر مختلف پارٹی کے لوگوں کو آپس میں مرغوں کی طرح لڑتے دیکھ کر نہ صرف محظوظ ہوتے ہیں بلکہ گلی محلے کے لوگوں پر اپنی سیاسی بصیرت کی دھاک بٹھانے کے چکر میں بغیر کسی تصدیق کے اینکر پرسنز کی باتوں کو بطور دلیل پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔
ان دنوں پاناما لیکس کا سپریم کورٹ سے نیا نیا فیصلہ آیا ہے دن رات اسی ایشو پر لے دے ہورہی ہوتی ہے کوئی دو ججوں کو خراج تحسین پیش کررہا ہوتا ہے اور باقی تین کو نہ صرف رگید رہا ہوتا ہے بلکہ طرح طرح کے الزامات بھی لگا رہا ہوتا ہے لکھنے لکھانے کا تھوڑا بہت شوق مجھے بھی ہے مگر جب اتنے زیادہ لوگ اس پر طبع آزمائی کر رہے ہوں تو مجھ جیسا گمنام اور کم فہم لکھاری اس پر کیا رائے دے سکتا ہے جبکہ قانون کا علم بھی نہ ہونے کے برابر ہے مگر ایک چیز جو عام فہم ہے کہ عدالتوں میں فیصلے جذبات سے نہیں ٹھوس ثبوتوں پر کئے جاتے ہیں دانش مند لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ کے پاس کسی کے خلاف ٹھوس ثبوت نہ ہوں تو عدالت کا رخ نہ کریں چونکہ ایسا کرنے سے پیسے اور وقت دونوں کے ضیاع کا خطرہ ہے ایسے معاملات کو سلجھانے کے لئے پریا پنچایت بہترین فورم ہوتا ہے جس میں آپ شرفا کی مدد سے دوسرے فریق پر اخلاقی دباؤ ڈال کر اپنا گوہر مقصود حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں مگر عدالت تو مفروضوں پر فیصلے نہیں کرتی اکثر اوقات ایسے مناظر بھی دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں جس میں جرم سرعام ہوتا ہے مگر مجرم ٹھوس شہادت نہ ہونے کی وجہ سے بری ہوجاتے ہیں جج حضرات بھی اسی سوسائٹی کا حصہ ہوتے ہیں انہیں بھی تمام تر صورت حال سے آگاہی ہوتی ہے مگر قانون کی وجہ سے انکے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی قانونی تقاضوں سے انحراف نہیں کرسکتے شک کی بنا پر بھی ملزم یا مجرم صاف بچ نکلتے ہیں مگر اس میں قانونی تقاضے پورے کرنا بھی معزز جج صاحبان کی ذمہ داری ہوتا ہے ۔
آئیے اب ذرا ملک کی اعلی ترین عدالت کی طرف سے آئے ہوئے پاناما لیکس کے فیصلے کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جس میں ملک کی تین اعلی ہستیوں جس میں تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان ،دوسرے عوامی مسلم لیگ کے روح رواں شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق شامل ہیں انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی کہ ملک کے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جائے چونکہ ان کا اور ان کے بچوں کا نام پاناما لیکس میں آیا ہے جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ پاناما لیکس آج کے دور کے بین الاقوامی میڈیا کا کارنامہ ہے جس میں دنیا بھر کے حکمرانوں بشمول دولت مند لوگوں کے نام شامل ہیں جنہوں نے اپنی دولت کو اپنے ملک سے دور دوسرے ملک جس کا نام پاناما ہے تحفظ کی خاطر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کے جمع کروایا ہے جس میں گمان غالب ہے کہ یہ دولت ناجائز ذرائع سے اکٹھی کی گئی ہوگی اور ساری دنیا کے عوام اپنے حکمرانوں اور دولت کے پجاریوں کو نہ صرف شک بلکہ ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہوں گے جس میں وہ حق بجانب ہیں اگر واقعی ایسا ہے ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ تمام معلومات مہیا نہیں کی گئیں بلکہ لیک ہوئی ہیں اور یہ بات کس حد تک درست ہے اسکا پتہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے جبکہ جہاں یہ سارا سرمایہ جمع ہے انہوں نے اس کے بارے میں معلومات دینے سے انکار کیا ہے تو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کسی فرد یا ادارے کو مجرم کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے جہاں تک تعلق ہے اخلاقی تقاضوں کا اس میں کوئ شک شبہ نہیں کہ جب ایسا الزام کسی پر لگایا جائے تو وہ اپنی وہ اعلی اخلاقی اقدار کی خاطر اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کر دیتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسی روایات کا فقدان ہے یہاں مدعی اور مدعاعلیہ دونوں ایک دوسرے کو محض ذاتی مخالفت اور پسند ناپسند کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں ہمارے ہاں اخلاقی اقدار کو ہمیشہ پس پشت ڈالا جاتا ہے یہاں ابھی ایسی کوئی قانون سازی وجود میں نہیں آئی جس میں جھوٹے مقدمات درج کرانے والے کو کبھی سزا ملی ہو دوسرے اس مقدمہ میں وزیراعظم نامزد ملزم بھی نہیں ہیںپیٹیشن درج کرانے والے کا مقصد پوائنٹ سکورنگ اور مدمقابل کو نیچا دکھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں یہ وہ سیاسی بونے ہیں جنہیں عوام نے الیکشن میں مسترد کیا پہلے دھاندلی کا رونا رویا ہر پلیٹ فارم پر ناکامی مقدر بنی کبھی پارلیمنٹ کا رخ کیا تو کبھی سڑکوں کا تو کبھی پی ٹی وی پر دھاوا بولا اور کبھی سپریم کورٹ کے گرد گھیرا تنگ کیا کچھ بن نہ پایا تو اعلی عدلیہ کی دیواروں پر کپڑے سکھانے شروع کر دئیے جی میں آیا تو پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرین پر دو حرف بھیج کے بائیکاٹ کر دیا موج میں آئے تو بے شرمی سے پارلیمنٹ میں آدھمکے مگر اپنی مراعات لینے کا کبھی بائیکاٹ نہ کیا۔کبھی ایک شہر کو بند کرنے کی دھمکی دی کبھی اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی سعی کی ۔دعوی دائر کرنے والوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں تو حکومت کے پاس اپنی پارسائی ثابت کرنے کو کچھ نہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بیس پر دو معزز ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا محض عوام کی واہ واہ سمیٹنے کے لئے جبکہ کئی سوالوں کے جوابات درکار ہیں جسکے لئے عدالت نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے تین معزز جج صاحبان اس بات کی دھائی دے رہے ہیں کسی فیصلہ کن مرحلے پر پہنچنے کے لئے بہت سے سوالوں کے جواب درکار ہیں اگر اس منطق جس میں دم ہے تسلیم کر لیا جائے تو دوسرے دو ججوں کو ناآہل ثابت کرنے کے لئے evidence کہاں سے ملے جو باقی تین کو نہیں مل سکے یا نظر نہیں آئے ۔
میاں صاحب گزشتہ پینتیس سال سے حکمرانی کے مزے لے رہے ہیں جبکہ دوسرے اس سے محروم ہیں وہ سیٹ حاصل کرنے کے لئے مختلف اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں جس طرح شوہر کے دل کا راستہ شکم سے ہو کے جاتا ہے اسی طرح حکمرانی کی خواہش عوام کے ووٹوں اور انکی حمایت کے بغیر محض سراب ہے ۔میاں صاحب آپ نے جب بھی عوام کو آواز دی تو عوام نے ہمیشہ اسکے جواب میں یہی کہا کہ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر یہ تب ہی ممکن ہوا جب آپ نے جرات کا مظاہرہ کیا بے شک وہ بات ایٹمی دھماکوں کی ہو خواہ چیف جسٹس کی بحالی کی ہو سیاست دانوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے مگر لیڈر پاکستان بننے سے لے کر آج تک انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں عوام لیڈر کی قدر کرتے ہیں آپ آزما لیں ہوسکتا ہے آپ پر لگے الزامات نقش بر آب ثابت ہوں یا سچ ہوں آپکا عہدہ اسکا متقاضی ہے کہ جب تک تفتیش مکمل نہ ہو آپ کرسی کو خیر باد کہہ دیں پھر دیکھیں عوام آپ کو سر آنکھوں پر کیسے بٹھاتے ہیں آپ کے اس عمل سے آپ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہوکر دوبارہ آئیں گے لیکن اگر آپ کرسی کی محبت میں اور اسکو مضبوط خیال کرکے چمٹے رہتے ہیں تو تاریخ میں کوئی اہم مقام نہ پا سکیں گے یہی نوشتہ دیوار ہے اقتدار بھی انکو ہی نصیب ہوتا ہے جو اقتدار کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں

Views All Time
Views All Time
170
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: