Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مسئلہ کشمیر پر پوائنٹ سکورنگ-انور چوہان

by May 3, 2017 سیاست
مسئلہ کشمیر پر پوائنٹ سکورنگ-انور چوہان

جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے کشمیر کا مسلۂ حل طلب ہے اس سے پیشتر کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ مسلۂ حل نہیں ہوسکا اس سے پیشتر مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ یہ مسلۂ پیدا کیسے ہوا ۔جب ہندوستان کے باسیوں نے قائداعظم اور گاندھی کی قیادت میں انگریز سے آزادی کا فیصلہ کیا اور انگریز اس نتیجے پر پہنچا کہ اب ہندوستان اسکے اصل وارثوں کے حوالے کرنے کے علاوہ کوئ چارہ نہیں تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو انگریز کا آخری وا ئسرائے تھا اس نے ہندوستان کی تقسیم کا ایک فارمولا پیش کیا جسکو قائد نے وقت کی مصلحت سمجھ کے قبول کرلیا ایسے میں کچھ ریاستیں ایسی تھیں جن کے متعلق طے کیا گیا ان ریاستوں کے عوام فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان یا ہندوستان جس ملک کے ساتھ چاہیں الحاق کرلیں انہیں آزادی ہوگی اس وقت کشمیر میں ڈوگرا راج تھا اور وہاں پر اکثریت مسلمانوں کی تھی لہٰزا کشمیر کے عوام نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا مگر آزادی ملتے ہی ہندوستان کے حکمرانوں کی نیت میں فتور آگیا ابھی ہندوستان سے لٹے پھٹے قافلے خون اور آگ کا دریا پار کرکے پاکستان پہنچ ہی رہے تھے کہ ہندوستانی افواج نے کشمیر پر حملہ کردیا جب اس حملے کا علم پاکستان حکومت کو ہوا تو اس نے انتہائی بےسروسامانی کے باوجود جنرل اکبر کی معیت میں جوابی حملہ کردیا 22اکتوبر 1947 کو 250 ٹرک راولپنڈی سے وادی جہلم کے راستے کشمیر میں داخل ہوئے جس میں آفریدی اور محسود قبائل کے 5000 جانباز بھی شامل تھے اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ صرف 4 دن کی جنگ کے بعد وہ سارا علاقہ فتح کرلیں گے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر کا راجہ اپنی شکست دیکھ کر بھاگ نکلا اور جموں میں جاکر پناہ گزین ہوا اور ہندوستان کی حکومت نے وائسرائے کو پیغامات بھیجنے شروع کئے کہ انکی مدد کی جائے انڈین آرمی کا چیف ابھی گورا تھا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن انکی دفاعی کمیٹی کا سربراہ تھا ۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے انڈیا والوں کو کہا کہ پہلے کشمیر کے راجہ سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا ایگریمنٹ سائن کرا لاؤ انڈیا کا نمائندہ 26 اکتوبر 1947 کو سکھ راجہ کے پاس جموں پہنچا اور اس سے ایگریمنٹ سائن کروا کر دہلی واپس پہنچ گیا بظاہر پاکستان آرمی کی کمانڈ جنرل اکبر کررہا تھا مگر اصل کمانڈ انگریز جنرل گریسی کے ہاتھ تھی قائداعظم نے جنرل گریسی کو احکامات جاری کئے کہ وہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت میں تازہ دم ٹروپس روانہ کرے مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا یکم نومبر کو لارڈ ماونٹ بیٹن جنگ روکنے کی غرض سے قائداعظم کی خدمت میں حاضر ہوا اس سے قبل وہ ہندوستان کے لیڈر نہرو سے ساز باز کر چکا تھا کہ جنگ بندی کی صورت میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی استصواب رائے کرا لیا جائے گا ۔2 نومبر کو آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے نہرو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں کشمیر پر مزید خون خرابی روکنے کے لئے اس مسلۂ کو اقوام متحدہ میں لے کر جائیں گے ایسا ہی ہوا ہندوستان خود اس مسلۂ کے حل کے لئے اسکو یو این او لے کر گیا اور اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں یہ طے پایا کہ کشمیر کا مسلۂ رائے شماری کے ذریعے حل کیا جائے گا مگر پون صدی ہونے کو ائی ہندوستان اسکو ٹال رہا ہے اور اس بات پر بضد ہے کہ کشمیر اسکا اٹوٹ آنگ ہے اور پاکستان کا دعوی ہے کہ یہ ہماری شہ رگ ہے ۔ شاید قائداعظم اور لیاقت علی خان جیسے لیڈر زندہ رہتے تو اس مسلۂ کا حل نکل آتا مگر اسکے بعد مسلم لیگ کا شیرازہ منتشر ہوتا گیا اور طالع آزماؤں نے اقتدار پر قبضہ کرلیا ملک سیاسی ریشہ دوانیوں اور مارشل لاؤں کی بھینٹ چڑھ گیا کشمیر پر پیش رفت کا کیا ذکر یہاں تو دونوں ملک جنگ کی نذر ہوگئے پہلی جنگ 1965 میں ہوئی مگر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی دونوں طرف سے کامیابی کے دعوے کئے گئے اس جنگ کے نتیجے میں شملہ معاہدہ ہوا جس میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک اس مسئلہ کا آپس میں بات چیت سے حل نکالیں گے کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کے حالات مزید خراب ہوتے گئے ناقص منصوبہ بندی اور کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے ایک اور جنگ 1971 میں ہوئی جس میں نصف پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ۔
آج پاکستان دو لخت ہوئے 455 سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے مگر مسلۂ کشمیر حل کرنے کی طرف ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا جسکی بے شمار وجوہات ہیں اور یہ ایک لمبی داستان ہے جس کو ایک نشست میں بیان کرنا ناممکن ہے ۔ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے کام چلایا گیا کچھ مذہبی جماعتوں اور نام نہاد تنظیموں نے نعرہ بازی سے اس ایشو کو زندہ رکھا انہوں نے جہاد کے نام پر مال سمیٹا اور ریاست کے اندر ایک اور ریاست کی بنیاد رکھی اور اپنی شعلہ بیانی سے مظلوم کشمیریوں کے زخموں کو مزید تازہ کیا جس سے پاکستان کی حکومت پر مقبوضہ کشمیر کے اندر یلغار کا الزام لگا اور ہندوستانی افواج نے نہتے کشمیریوں پر زندگی تنگ کردی اس غیر اعلانیہ جنگ میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا بے شمار خواتین کو بیوگی کا لباس زیب تن کرنا پڑا ہزاروں بچے یتیم ہوے جو مفلوج ہوئے انکا شمار کرنا مشکل ہے ۔کشمیر کو جنت نظیر بنانے والوں نے انکی زندگی جہنم سے بدتر بنا دی ۔دنیا کے سامنے ہم کشمیر کا مقدمہ کمزور بنیادوں پر لڑتے آئے ہیں ہندوستان جو کشمیر میں ظلم وستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھوکنے میں کافی حد تک کامیاب نظر آتا ہے ہم محض علامتی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے نام نہاد احتجاج کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ یاد رکھیں کمزور سفارش اور محض خواہش کبھی ثمر بار نہیں ہوتی خواہشات رکھنا اور خواب دیکھنا ہر ایک کا حق ہے مگر جب تک مقصد کا تعین نہ کیا جائے منزل نہیں ملتی ایک وقت میں ایک ہی کام ہوسکتا ہے دوسروں کے بچوں کو جہاد کا سبق دینے سے کام نہیں چلے گا اپنے بچوں کو امریکہ تعلیم کے لئے اور دوسروں کے بچوں کو جلسے جلوسوں کے لئے کہاں کا انصاف ہے ۔
پاکستان کے عوام کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے لئے دھڑکتے ہیں اور حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ نیک نیتی سے مسلۂ کشمیر کے حل کے لئے مخلصانہ کوششیں کرے آج الحمدللہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور مدمقابل بھی ایٹمی طاقت ہے اب یہ مسئلہ کسی جنگ سے نہیں بلکہ مضبوط سفارت کاری اور بہترین خارجہ پالیسی سے جیتی جا سکتی ہے ۔ایسے دلپشوری قسم کے سیاست دانوں کے سیاسی بیانوں سے پرہیز کرنا ہوگا جو کہتے ہیں کہ ایٹم بم ہم نے شب برات پر چلانے کے لئے نہیں بنایا اسکے لئے سنجیدہ اور پر مغز سیاست دانوں کی ضرورت ہے ۔آج مقبوضہ کشمیر کی نوجوان نسل سے بہت امیدیں ہیں جو کسی پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے جزبہ ایمانی کو کام لاتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو کامیابی سے آگے لے کر چل رہے ہیں آج تمام دنیا پر یہ بات واضح ہے کہ آج کشمیری نوجوان اپنے زور بازو پر اپنی آزادی کی تحریک کو آگے بڑھا رہے ہیں انشااللہ وہ دن دور نہیں جب پروردگار کشمیریوں کی قربانیوں اور پاکستان کی ٹھوس حکمت عملی کے نتیجے میں انہیں آزادی نصیب کرے گا – انشاللہ ۔

مرتبہ پڑھا گیا
120مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: