Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چوبیسیویں آئینی ترمیم ۔۔۔پانامہ کا خوف یا آئینی ضرورت ؟ – انور عباس انور

by نومبر 24, 2016 بلاگ
چوبیسیویں آئینی ترمیم ۔۔۔پانامہ کا خوف یا آئینی ضرورت ؟ – انور عباس انور
Print Friendly, PDF & Email

Anwar Abbas Anwar newاس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت پانامہ کیس کی سماعت سے پریشان ہے اور اس کے ممکنہ اثرات سے خوف زدہ بھی ہو چکی ہے، وفاقی وزرا اور مسلم لیگ نواز کے میڈیا سیل سے وابستہ افراد کے گرما گرم اور تندو تیز اخباری بیانات حکومت پریشانی کی چغلی کھاتے ہیں، چوبیسیویں آئینی ترمیم لانے کی نوبت اس لیے درپیش آئی ہے کیونکہ سپریم کورٹ آخری فورم ہے اس کے فیصلے اور فائینڈنگ کے بعد کہیں اپیل نہیں کی جا سکتی البتہ فیصلہ دینے والے معزز عدالتی بینچ ہی کے روبرو نظرثانی کی درخواست دائر ہو سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
عالمی شہرت یافتہ ذوالفقار علی بھٹو کیس کے چار اور تین کے فیصلے کے خلاف یحییٰ بختیار نے سپریم کورٹ کے معزز بنچ کے روبرو نظرثانی کی اپیل دائر کی تو بنچ نے مسترد کردی لیکن فیصلے سے اختلاف رائے کرنے والے تین معزز ججز میں سے ایک جج جسٹس جناب دراب پٹیل نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی چونکہ اس نظر ثانی کی پیٹیشن میں بہت اہم نکات اٹھائے گئے ہیں لہذا حکومت (جنرل ضیاء) کو اس پر غور کرنا چاہئیے۔ حالانکہ اس کیس میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین ذوالفقار علی بھٹو سے پہلے ہی ایک اپیل کا حق چھین چکے تھے یعنی اس کیس کو سیشن کورٹ سے براہ راست ہائی کورٹ میں سنا گیا اس طرح سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق سے بھٹوکو محروم کر دیا گیاتھا۔
یہی ہے وہ خوف جس نے حکومت کوچوبیسیویں ترمیم لا نے پر آمادہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اگر سپریم کورٹ کی فائنڈنگ اس کے خلاف آ جاتی ہے تو اس صورتحال سے عہدہ برا ہونے کے لیے حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ اس طرح وہ اپیل میں جا کر اپنی باقی مدت پوری کرنے کے لیے وقت حاصل کر سکے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ترمیم سے اکیلی حکومت کو ہی فائدہ حاصل ہوگا یا اس کے مخالفین بھی اس سے استفادہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہونگے، یقیناََ وہ بھی اس ممکنہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق استعما ل کرسکیں گے۔قانون کوئی بھی برا نہیں ہوتا بلکہ اس کو بنانے کی نیت اور اسے استعمال کرنے کی نیت کسی بھی قانون کے اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ کرتی ہے، بعض قوانین بہت اچھے ہیں لیکن اس کا استعمال اس طرح بھونڈے طریقے سے کیا جاتا ہے کہ ان قوانین کی تمام اچھائیاں بیکار ٹھہرتی ہیں۔
پانامہ پیپرز کیس کو جان بوجھ کر اس قدر ہائی پروفائل بنا دیا گیا ہے کہ اب سیاستدانوں سے کہیں زیادہ ہمارے کسان،ہاری، مل مزدور،کھیت مزدور،دہی مزدور،سمیت وہ عام شہری جو بظاہر سیاست سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی بھی زخمت نہیں کرتے اس کیس میں دلچسپی لے رہے ہیں،سرکاری دفاتر ہوں ،چائے خانے ہوں ،غمی اور خوشی کے فنکشن اور تقریبات ہوں ہر جگہ یہی بحث ہوتی ہے کہ پانامہ کیس کا کیا فیصلہ آئے گا؟ اب تو شادی بیاہ کی تقریبات میں اپنے بھانڈ دوست بھی شرکاء کو ہنسانے کے لیے پانامہ کے ذکر کیے بنا نہیں رہتے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن عوام کو اپنی گرفت میں رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا،جھوٹا ثابت کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں اس کے لیے اخلاقیات کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا،جو ہر لحاظ سے اچھا شگون نہیں۔
فیصلہ کچھ بھی آئے سیاسی محاذ آرائی میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے، بلکہ فیصلہ آنے کے بعد اس میں مزید تیزی آئے گی اور سیاسی ماحول میں ہلچل پیدا ہوگی ،کیونکہ اگر چوبیسویں ترمیم منظور ہوجاتی ہے تو پھر جو بھی لوزر ہوگا وہ اپیل میں جائے گا اس طرح معاملات چلتے رہیں گے۔
چوبیسیویں ترمیم کے سلسلے میں جاری تیاریاں دیکھ کر سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے روبرو زیر سماعت کیسز کے ایام یاد آ رہے ہیں اس وقت بھی وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف مقدمات زیر سماعت تھے تو حکومت کی جانے سے نئی قانون سازی کی گئی جسے عدالت خلاف آئین و قانون قراردے دیتی تھی، ان دنوں حکومت کو پارلیمنٹ میں بھاری میڈیٹ حاصل تھا منٹوں اور سکینڈوں میں آئینی ترمیم منظور کر لی جاتی تھیں اب بھی شائد ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ اب بھی اگر 1993کی تاریخ دہرائی گئی تو یہ بہت المیہ ہوگا اور حکومت خصوصاََ وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کے دعوؤں کی حیثیت کیا رہ جائے گی۔
ہاں البتہ مثاق جمہوریت میں یہ بھی طے پایا تھا کہ سپریم کورٹ میں ایک آئینی عدالت بھی قائم کی جائے گی جو ٓائینی معاملات کی پٹیشنز کی سماعت کریں گی لیکن نہ تو پی پی پی کی حکومت نے اس جانب توجہ دی اور نہ ہی موجودہ حکومت کو اس بارے سوچنے کا احساس ہوا ۔ایک اور بات کہ پانامہ کیس کی سماعت 29 نومبر کو رکھنا محض اتفاق ہے اس میں ہیجان خیز نہ بنایا جائے کیونکہ محض اتفاق بس اتفاق ہی ہوتا ہے اور اسے اتفاق ہی رہنے دیا جانا چاہیے۔
جنرل راحیل شریف اپنی الوداعی ملاقاتیں کر رہے ہیں اور حکومت کے بڑے نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے مشاورت میں مصروف ہے دو نام جن کی بازگشت سنی جا رہی ہے کہ ان میں سے ایک نیا آرمی چیف ہوگا، یہ دو نام جنرل اشفاق ندیم تاج اور جنرل رمدے کے ہیں، جو بھی پاک فوج کا نیا سپہ سالار مقرر ہو گا وہ جنرل راحیل کا وارث ثابت ہوگا اور ان کے مشن اور منصوبوں کو جاری رکھے گا۔۔۔یہ طے ہے۔

Views All Time
Views All Time
405
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟ | عامر حسینی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: