Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سوشل میڈیا اور سیاست

Print Friendly, PDF & Email

احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف ،ان کی صاحزادی مریم نواز،ان کے دونوں بیٹوں حسن ، حسین نواز اور ان کے دماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف دائر تین ریفرنسز میں سے ایک کا فیصلہ سنا دیا ہے،احتساب عدالت نے ریفرنس کی سماعت تین جولائی کو مکمل کی اور اسی روزاعلان کردیا کہ فیصلہ چھ جولائی کو سنایا جائے گا۔ چھ جولائی کو فیصلہ سنانے کاوقت بار بار تبدیل ہوتا رہا۔ صبح ساڑھے بجے سے بار بار وقت تبدیل ہونے سے عوام میں تجسس بڑھتا گیا۔ جس سے افواہیں جنم لیتی رہیں۔سوشل میڈیا پر بہت کچھ سننے ،دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا رہا۔

عدالت نے دستیاب ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو دس سال ،ان کی صاحزادی ،ان کی جان نشین مریم نواز کو سات سال اور ان کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزائیں سنائیں، مجموعی طور پر ان تینوں کو ایک ارب بتیس لاکھ جرمانہ جبکہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ضبطگی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ تفصیلی فیصلہ آ چکا ہے، قانونی ماہرین اس پر روشنی ڈالیں گے ۔میں چونکہ ماہر قانون نہیں ہوں اس لیے اس فیصلہ کے قانونی پہلو پر بات کرنے سے پرہیز ہی برتنے پر اکتفا کروں گا۔ البتہ اس فیصلے کے  پاکستان، پاکستانی قوم اور سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات تک بات محدود رکھوں گا۔

کوئی لاکھ کہتا رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی فیملی کے افراد کو سزائیں دینے سے پاکستان اور پاکستانی سیاست پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے ۔حقیقت یہی ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کی سیاست پر گہرے اور دور رس نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔ یہی لوگ 1980 کی دہائی میں کہتے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے سے قانون کی حکمرانی قائم ہو گی اور پاکستان پر بھٹو کی پھانسی کے مثبت نتائج پڑیں گے۔ لیکن استغاثہ،اسٹیبلشمنٹ اور ان کے پیروکاروں کے دعوے اور پشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کے منفی اثرات پاکستان اور پاکستانی قوم آج تک بھگت رہے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی طاقت کو ختم یا کمزور کرنے کے جنون میں ایم کیوایم قائم کی گئی، ذات برادت کے فیکٹر کو سیاست میں داخل کیا گیا۔ منتخب نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز کی رشوت دینے کا آغاز بھی 1985کے غیر سیاسی انتخابات کے بعد کیا گیا۔ 1977 سے بھٹو کی پھانسی تک یہی راگ الاپا گیا کہ پہلے احتساب پھر انتخابات کروائے جائیں۔

آج ایک بار پھر ملک میں انتخابات کے التوا کے لیے نگران حکومت کو اکسانے والی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔مثال کے طور پر آصف حنیف نامی ایک شخص سوشل میڈیا پر رقم طراز ہیں کہ ’’جب تک ان عناصر کی بیغ کنی نہیں ہو کی جمہوریت نہیں پنپنے گی کرپش اور کرپشن کو fascilitte کرنے والوں کا بے لاگ احتساب ضروری ہے الیکشن کی کوئی جلدی نہیں!‘‘ ایک اور صاحب لکھتے ہیں’’ پی پی پی کا بھی احتساب شروع ہو چُکا ہے، چمچل بھائی بھی پریشان ہیں‘‘ شائد ان صاحب کا اشارہ ملک کے اہم ترین بینکارحسین لوائی اور محمد طلحہ کی گرفتار کی طرف ہے۔

سوشل میڈیا پر نواز شریف کے خلاف کارروائی پر کہا جا رہا ہے کہ ’’مورخ جب بھی تاریخ لکھے گا تو اس بات کا ذکر ضرور کرے گا کہ دوسرے سانپ کے ڈسنے کے قابل ہونے کے بعد پہلے سانپ کا گلا کچلا گیا‘‘ دوسرے صاحب اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ’’اگر اپ دوسرا سانپ جیوڈشری یا فوج کو کہ رہے ہیں تو بھٹو کو کہاں فٹ کریں گے۔۔ یعنی ڈسنے کی قوت تو اسوقت سے ہے دونوں اداروں کے پاس تو سنپولے کو اتنا دودھ کیوں پلایا آج تک؟‘‘ اسٹیبلشمنٹ کے طرف دار ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ’’پرانی بات ریکارڈ چھوڑو، پچھلے پانچ سال کا صرف جو قرضہ لیا اسحاق ڈار نے ۴۱ ہزار کروڑ اس کے علاوہ سی پیک کا پیسہ گورنمنٹ کی اپنی کمائی کہاں اڑائی صرف اس کا جواب دو گے۔ مشرف نے ائی ایم ایف کا قرضہ صفر کر دیا تھا. میں اسے سپورٹ نہی کرتا لیکن ان دو چوروں نے جو دس سال میں ملک کو مقروض کیا وہ پیسہ کیا صرف سڑکوں جنگلہ بس اور ٹرین پر لگا ہے۔ ادارے مقروض ہو کر بند ہو گئے۔۔ انکی انکم کہاں گئی؟ ” ایک اور درد مند پاکستانی کچھ یوں رقم طراز ہیں ’’ بہت سے معصوم و سادہ دوست یہ سمجھ رہے ہیں یہاں کوئی قانونی احتساب نما واقعہ رونما ہو رہا ہے، اس دن ان کی شکل دیکھنے والی ہو گی جب عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی دیگر پارٹیوں کے برسر اقتدار آتے ہی اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو جائے گا ۔پھر تو کون اور میں کون، کون سا احتساب اور کیسا احتساب‘‘ اس درد مند پاکستانی کا موقف ہے کہ انتخابات کے بعد یہ احتساب جاری رہنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرلینے کا جشن مناتے ہوئے احتساب جشن کے خمار میں گم کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے:   چوبیسیویں آئینی ترمیم ۔۔۔پانامہ کا خوف یا آئینی ضرورت ؟ - انور عباس انور

ایک خاتون جو سوشل میڈیا پر بہت ایکٹیو رہتی ہیں ایک صاحب اسلام آفریدی کو مخاطب کرکے کہتی ہیں’’ یہی تو میں کہہ رہی ہوں چور، چور کا کیا احتساب کرے گا ۔ سب سے زیادہ کرپٹ ادارہ اس نام نہاد سلیکٹیو احتساب کے پیچھے ہے اس سے کیا امید کرتے ہو دوستو؟ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، غلط ہو رہا ہے، اس سے پاکستان کو نقصان ہو گا. بس اللہ سے دعا ہے کہ عمران خان کے یونیفارم اور جیپوں اور بکتر بند گاڑیوں والے ”اللہ عرف ایمپائر” کی سازشوں سے پاکستان کو محفوظ رکھے آمین. اس خاتون کو جواب یوں دیا گیا کہ آپ کا لیڈر خلائی مخلوق سے لڑنے چلا تھا۔ وہ بھی پرچی پکڑ کر۔ خلائی مخلوق کے سب سے نچلے درجے کے بندے کی انگلش بولنے کی صلاحیت ہی میاں نواز سے لاکھ درجے زیادہ ہے۔ باقی صلاحتیں تو چھوڑیں( ان صاحب کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے سپاہی کی انگریزی میاں نواز شریف سے کئی درجہ بہتر ہے باقی صلاحیتیں تو علیحدہ بات ہے)
ایک اور صاحب جو سیاستدانوں سے متنفر اور فوجی حکمرانی کے دلدادہ ہیں کہتے ہیں’’ماضی سے حال اچھا ہے،اس لئے بہتر مستقبل کی امید اب آپ کر سکتے ہیں ورنہ کچھ سال بعد پاکستانی قوم نے یا تو دھوتی میں نظر آنا تھا یا لنگوٹی میں سیاست سے ذرا ھٹ کر سوچین دوستو۔

آپ کی دولت لوٹی گئی اور غیر ملکی قرضے آپ پر چڑھائے گئے جس میں منظور نظر سیاستدان رشتہ دار اور سول بیوروکریسی کو نوازا گیا جو آج واقعی پریشان ہوں گے باقی عوام کے جینے کے دروازے تنگ کر دیے گئے اور قلم کار اس جرم میں برابر کے شریک رہے جو واہ جی واہ کہتے اب تک نہیں تھکتے دوستو ایک اورخاتون جواب دیتی ہیں کہ ’’نہیں آج کل تو ٹینکوں والوں کا بھی ٹینکوں پر چڑھنے کا کوئی پروگرام نہیں.ان کا تعلق بس لوٹوں کے بینرز پر چھپی جیپ سے رہ گیا ہے. مطلب جب شاہین کو مردار کھانے کی لت لگ جائے تو وہ گدھ بن جاتا ہے، شاہین ‘آلی’ کوئی گل اس میں نہیں ہوتی۔‘‘ جس پر ان کے ایک فالور ان سے کہتا ہے کہ’’
آپ نے کیا ظلم کر دیا یہ پوسٹ کر کے میری بہن آج پورا دن میرا گالیاں سنتے،پوسٹس ڈیلیٹ کرتے،لوگوں کو بلاک کرتے گزر گیا. پتا نہیں لوگ دوسروں کی رائے کا احترام کیوں نہیں کرتے؟ ‘‘
بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے ایک اچھی شروعات کی ابتدا ہوئی ہے ،بات یہ نہی کہ اس سے عمران خان کو کتنا فائدہ ہو گا بلکہ در اصل بات یہ ہے پاکستان میں ایک تاریخ قائم ہوئی ہے کہ طاقتور حکمران اگر لٹیرے بنیں گے تو انہیں کورٹ کچہڑی میں بھی گھسیٹا جا سکتا ہے اور کل کو اگر عمران خان ہی یا کوء اور عوام کے پیسوں سے جائیدادیں بنانے میں مصروف رہیں گے تو انہیں بھی گرفت میں لیا جائے گا. میرے ایک دوست کا اصرار ہے کہ بلاشبہ ہم سیاسی بعد میں اور پاکستانی پہلے ہیں ایسا کوئی نہیں چاہے گا کہ اس کے ملک کیلئے کچھ برا ہو لیکن لوگ ووٹ کے ساتھ ساتھ اپنا ضمیر بھی ہدیہ کر دیتے ہیں اور اپنے سیاسی لیدڑ کی عزت آبرو کو اپنی انا کا مسلہ بنا لیتے ہیں۔ہمیں غیر سیاسی ہو کر فقط ملک کے لیے سوچنا چاہئے۔ یہی بہتر رہے گا۔آمدن سے بڑھ کر اثاثے رکھنے والے قانون کا اطلاق اگر نواز شریف پر نہ ہوتا تو پاکستان کا ہر کرپٹ شخص جو اس حوالے سے تھوڑے بہت خوف میں مبتلا رھتا ہے، اس سے بھی آزاد ہو جاتا۔‘‘
ارباب اقتدار، مقتدرہ قوتوں ،خلائی مخلوق اور نادیدہ قوتیں، سول اسٹبلشمنٹ اور جوڈیشری کو اس ملک کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھ کر اقدامات اور فیصلے لینے چاہئیں کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم اپنی مرضی کے نظام ہائے حکمرانی لا سکیں گے، نئے نئے تجربات کرسکیں گے کیونکہ تجربات کرنے کے لیے لیبارٹری کا ہونا لازم ہوتا ہے ورنہ تجربات کہاں کیے جائیں گے؟ ملک (جو ان شاء اللہ اللہ کے فضل و کرم سے تاقیامت اس دنیا کے نقشے پر قائم رہے گا) کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ملک ہوگا تو احتساب ممکن ہوگا۔ ملک ہوگا تو فوج مارشل لاء لگا پائے گی۔ ملک ہوگا تو سیاستدان جمہوریت کو مضبوط کریں گے؟ اس لیے جو بھی فیصلے کیے جائیں پاکستان کے لیے کیے جائیں۔ اور انتخابات کے التواء کی باتوں پر کان نہ دھرے جائیں۔ تمام سیاست دانوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے اس کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی خون خرابہ نہ کر پائے اور انتکابات کے التوا کا بہانہ نہ بن پائے۔

Views All Time
Views All Time
174
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: