عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خدشات،تحفظات ختم ہونے چاہئیں

Print Friendly, PDF & Email

2008 سے اب تک دو منتخب جمہوری حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرچکی ہیں، نگران وزیر اعظم حلف اٹھا چکے اور اپنی کابینہ کی تشکیل مکمل کر لی ہے اور پہلے مرحلے میں چھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔جن میں تحریک پاکستان کے معروف راہنما عبداللہ حسین ہارون، اسٹیٹ بینک کی سابق گورنر شمشاد اختر، محمد اعظم خان،سید علی ظفر،محمد یوسف شیخ اور مسز روشن خورشید شامل ہیں، اس طرح نگران وفاقی کابینہ میں روشن خورشید واحد خاتون وزیر ہیں۔ نگران وزیر اعظم کی جانب سے کہا گیا کہ ان کی کوشش ہے کہ نگران کابینہ میں ایسے وزرا لیے جائیں جن کی سیاسی وابستگی نہ ہو ۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ عبداللہ حسین ہارون کا خاندان سیاسی پہنچان رکھتا ہے۔

سندھ میں بھی نگران وزیر اعلی کی کابینہ حلف اٹھا کر اپنے فرائض و ذمہ داریاں ادا کرنے لگی ہے۔ ، جب کہ خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلی کا اعلان الیکشن کمیشن نے کردیا ہے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق خیبر پی کے نگران وزیر اعلی ریٹائرڈ جسٹس دوست محمد خان ہوں گے ۔ بلوچستان اورپنجاب کے وزرا ئے اعلی کے معاملات پارلیمانی کمیٹی کے سپرد ہوچکے ہیں جس کے پاس ان سطور کے لکھنے تک ایک روز باقی ہے ،توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ ان دو صوبوں کے نگران وزرا اعلی کا انتخاب بھی الیکشن کمیشن میں ہی ہوگا۔
پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی سے تاخیرہوئی ہے ورنہ ان صوبوں میں بھی نگران وزرائے اعلی بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہی اپنی اپنی کرسیوں پر براجمان ہو چکے ہوتے۔البتہ بلوچستان اسمبلی نے جاتے جاتے ایک قرارداد کی منظوری دیکر معاملات کو گھمبیر بنانے کی کوشش کی ہے،قرارداد میں انتخابات ایک مہینے کے لیے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اسی قسم کا ایک خط کے پی کے کے سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے بھی الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ کر انتخابات کے التواء کی افواہوں کو تقویت بخشی۔

لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ نے بھی پریشان صورت حال پیدا کی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے پریشان کن حالات ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ کی بات ہوگی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کرکے الیکشن کمیشن کو اپنے شیڈول کے مطابق معاملات کو جاری رکھنے کی ہدایت کرکے پھیلی یا پھیلائی گئی افواہوں کو بے اثر کرنے کی کوشش کی اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن اور دیگر درخواستوں کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کردی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   نااہل سیاستدان؟ | محمد اشتیاق

لیکن سیاسی حلقوں میں اب بھی انتخابات کے بروقت انعقاد پر سوالیہ نشان اور تحفظات موجود ہیں۔جب ان سے ان خدشات کی وضاخت کرنے کو کہا جائے تو خاموش ہوجاتے ہیں۔بعض حلقوں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے بار بار اپنے اس عزم کے اظہار کہ ’’ انتخابات میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہونے دیں گے ‘‘کے باجود اب بھی چہ میگوئیاں جاری ہیں۔بعض لوگ شوشہ چھوڑتے ہیں کہ بنگلہ دیش ماڈل لانے کی بات ہو رہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے، جمہوریت مستحکم ہورہی ہے، دو منتخب جمہوری حکومتیں اپنی آئینی مدت مکمل کر رہی ہیں، گو کہ ان دس سالوں مین جمہوریت اور جمہوری منتخب حکومتوں پر خطرات کے سائے منڈلاتے رہے لیکن سیاسی قیادت کے فہم و تدبر سے مشکلات کے یہ لمحات بخیر و خوبی گزر گئے۔ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس جمہوری دور کا بوریا بستر گول کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں لیکن پارلیمنٹ کے اتحاد نے ان کوششوں کو ناکام بنادیا۔
نگران سیٹ اپ کے حوالے سے پارلیمنٹ کامیاب کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، سیاستدان ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہوئے اس لیے غیر سیاسی نگران وزیر اعظم اور نگران وزرائے اعلی منتخب کرنے کی روش برقرار ررکھی گئی۔ سیاستدان اس ملک اور جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے اداروں سے ریٹائرڈ افراد پر تو عتماد کرتے ہیں لیکن آپس میں نہیں۔ اس روش کو نیک فال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو اپنے اس طرز عمل پر غور کرنا چاہیے کیونکہ ملک وقوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتے اور نہ ہی جمہوریت استحکام حاصل نہیں کرسکتی ہے جب تک سیاستدان ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھئے:   عمران خان کو ایک یوٹرن لینا ہوگا

برطانیہ ،امریکا اور ہمارے پڑوس میں برسراقتدار جماعیں ہی انتخابات کرواتی ہیں سب انتخابی نتائج کو قبول کرکے جمہوریت کے سفر کا جاری رکھتی ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں نگران سیت اپ اور وہ بھی غیر سیاسی عناصر پر مشتمل نگران حکومت کے قیام کا رواج ہے۔ اس حوالے سے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پانے والا میثاق جمہوریت اس سلسلے میں اہم کردارادا کرسکتا تھا مگر نواز شریف نے یہ سنہری موقع کھو دیا۔
اس کالم کی آخری سطور قلمبند کرتے ہوئے اطلاعات آئیں کہ نگران وزیر اعظم جناب ناصر الملک کی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے ان کی کابینہ میں ۔۔۔ارکان شامل ہیں اور سب کے سب اپنے اپنے شعبے میں کمال مہارت کے حامل ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ نگران کابینہ اپنے مینڈیٹ کے اندر رہ کر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی۔ اور ایک پرامن انتقال اقتدار کرکے اپنے فرائض سے سبک دوش ہوجائے گی۔
سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ وہ ملک میں بے چینی پھیلانے اور انتخابات کے حوالے سے بے یقینی کی فضا پیدا کرنے اور افواج پاکستان اور عدالت عظمی کے خود ساختہ ترجمانوں پر بھی کڑی نظر رکھے گی۔ اور انتکابات کے حوالے سے بے بنیاد پشین گوئیاں کرنے والوں کو بھی نکیل ڈالنے کے اقدامات کرے۔اور کسی ایسے اقدام کی حوسلہ افزائی کرنے سے گریز کی راہ اختیار کر ے جن سے انتخابات کے بروقت نہ ہونے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو یا شائبہ ہو۔

Views All Time
Views All Time
145
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: