Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

حکومت متحارب بلوچیوں سے مذاکرات سے گریزاں کیوں؟

Print Friendly, PDF & Email

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے باقی صوبوں سے بڑا صوبہ ہے اور قدرت کے عطاکردہ قدرتی وسائل سے بھی مالامال ہے لیکن آبادی کے تناسب سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ سوئی گیس سمیت متعدد معدنیات یہاں سے نکلتی ہیں لیکن ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بلوچستان کے عوام حکومت پاکستان سے نالاں اورغیر مطمئن ہیں۔ بلوچستان کے عوام کی شکایات بالکل ویسی ہی ہیں جیسے مشرقی پاکستان کے عوام کیا کرتے تھے۔
بلوچستان اپنی محل وقوع کے اعتبار سے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے، یہاں عالمی طاقتیں اپنے مفادات وابستہ ہونے کے باعث خاص دلچسپی رکھتی ہیں اور وہ اس خطے کو امن کا گہوارا بننے نہیں دیتیں۔ خاص کر امریکا اور بھارت کو بلوچستان ایک آنکھ نہیں بھاتا، اس لیے وہ افغانستان کے راستے بلوچستان کے اندر بدامنی پھیلانے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ پچھلے سال بلوچستان سے ہی بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو گرفتار بھی ہوا جس کو بلوچستان میں بدامنی، انتشار کے فروغ کے ٹاسک سونپے گئے تھے ۔کلبھوشن یادیو آجکل پاکستان کے سکیورٹی حکام کی حراست میں ہے اور اس نے چونکا دینے والے انکشافات کیے۔
بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے آگ اور خون میں نہلا رہا ہے، یہاں مذہبی شدت پسند، اپنے حقوق کے نام پر سرگرم بلوچ نوجوان عسکریت پسند اور علیحدگی پسند پولیس اور سکیورٹی حکام اور قومی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں اب تک ہزاروں افراد موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔

پچھلے دنوں بلوچستان کے علیحدگی پسندوں نے اپنی سرگرمیوں کو سویزرلینڈ کے شہر جینوا میں شاہراوں پر بینرز آویزاں کیے اور برطانیہ کے شہر لندن میں گاڑیوں پر پاکستان مخالف اور بلوچستان کی آزادی سے متعلق پوسٹر آویزاں کرکے عالمی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان کے برطانیہ سے بروقت اور پرزور احتجاج کے باعث برطانوی پولیس نے گاڑیوں سے پوسٹر اور بینرز اتروادئیے۔ البتہ جینوا میں حکومت پاکستان کا احتجاج برطانیہ کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوا۔
ضلع تربت کے علاقے بلیدہ گورک سے پندرہ پنجابیوں کی لاشوں کی تدفین کا عمل ابھی جاری ہے کہ اسی تربت کے علاقے تاجباب سے مزید پانچ پنجابیوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ ان لاشوں کو بھی قریب سے گولیاں مار کر شہید کیا گیا ہے۔ شناخت کا عمل ابھی جاری ہے اس حوالے سے حکام کچھ بتانے سے گریزاں ہیں لیکن غالب گمان یہی کیا جارہا ہے کہ ان پانچ لاشوں کا تعلق بھی ضلع گجرات سے ہے۔
اسی سال جنوری میں بھی بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے گور کوپ سے مقامی لوگوں کوتین لوگوں کی لاشیں ملی تھیں جنہوں نے حکام کو اطلاع کی ان تینوں لاشوں کی شناخت نوشاد ولد نودو ، عبدالغنی اور مقصود کے ناموں سے ہوئی تھی لیکن ان کو ہلاک کرنے کی وجوہات ابھی تک راز ہیں۔اور نہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی ان تینوں کو ہلاک کرنے کے مقاصد معلوم ہوسکے ہیں۔بلوچستان کے اضلاع تربت اور کیچ انتہائی حساس ہیں۔ صوبے میں متحرک علیحدگی پسند ان اضلاع میں حکومت کے طرفدار، سکیورٹی حکام اور مزدوروں کو موت کے گھاٹ اتارتے رہتے ہیں۔
بلوچستان کے اہم سیاسی راہنما اور بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے فرزند میر حاصل بزنجو نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ تربت میں واقع اپنے گھر جاتے ہوئے تنہا سفر کرنے سے گریز کرتا ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ میں بغیر سکیورٹی گارڈز کے تربت کا سفر اختیار نہ کروں۔۔۔ میر حاصل بزنجو کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کے اندر سب اچھا کی رپورٹس درست نہیں ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ضلع تربت اور کیچ کے علاقوں میں تشدد کے واقعات کی تفتیش کرنے والے اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ کہیں سہانے خواب دکھا کر نوجوانوں کو یورپ بھیجنے والے انسانی سمگلرز تو ان نوجوانوں کو ٹھکانے لگا کر عسکریت پسندوں کو اطلاع کرنے میں ملوث نہ ہوں کیونکہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ راستے میں انسانی سمگلروں اور نوجوانوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہو۔
حکومت بلوچستان کو اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنے کی ضرورت ہے،جس طرح وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری بلوچ علیحدگی پسند راہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے اہل خانہ کی گرفتاری پر بیدار ہوئے اور بلوچ روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ڈاکٹراللہ نذر بلوچ کے اہل خانہ سمیت دیگر خواتین اور بچوں کو رہاکروایا بالکل ایسے ہی نواب ثناء اللہ زہری میدان میں اتریں اور پہاڑوں پر بسیرا کرنے والے نوجوانوں اور سکیورٹی اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرکے دونوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھائیں اور گلے شکوے اور شکایات کا ازالہ کروائیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنی وفاقی حکومت سے معامالات طے کروائیں اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں پہاڑوں پر جابسنے والے نوجوانوں کو ہتھیار پھینک کر صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کریں۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد سے بلوچستان کے حالات میں جو ابتری آئی ہے اسے پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی حکومتوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا ورنہ معاملات اس قدر نہ بگڑتے۔ جس نہج پر پہنچادئیے گئے ہیں۔
آئے دنوں اخبارات اور میڈیا کے ذریعے خبریں سننے میں آتی ہیں کہ اتنے سو فراری کمانڈروں نے ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے اگر اب تک کیے گئے ایسے اعلانات میں ہتھیار پھینکنے والے فراریوں کی تعداد گنی جائے تو وہ ہزاروں میں پہنچ جائے گی ۔لیکن مسلح گروہوں میں کمی واقع ہونے میں نہیں آرہی۔۔۔ یہ وہ سوال ہے جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سکیورٹی کے اداروں کو ٹھندے دل و دماغ سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔
ایک بار سکیورٹی حکام نے کہا تھا کہ” دشمن اس بات کو ذہن سے نکال دے کہ وہ مشرقی پاکستان کا کھیل دوبارا دہرانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ وہ مشرقی پاکستان تھا جہاں پہنچنے کے لیے درمیان میں دشمن حائل تھا اب ایسی صورتحال نہیں” لیکن اب ہمارا دشمن افغانستان کے راستے ہم پر حملہ آور ہوچکا ہے اور یہ بات وفاقی ،صوبائی حکومتیں اور سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے اس کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ بھارت بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں ملوث ہے۔امریکا افغانستان میں بھارت کو کردار دینے کے لیے بھارت کی پشت پر کھڑا ہے اس صورتحال میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذکرات کرنے میں پہل کرنی چاہیے کیونکہ اگر سکیورٹی ادارے اور حکومت طالبان سے مذکرات کرسکتے ہیں تو بلوچوں سے کیوں نہیں۔ اگر بلوچستان کے حالات کو صحیح تناظر میں دیکھا جائے گا تو سمجھ میں آجائے گا کہ کون  بلوچستان سے لاشیں پنجاب کو بھیج رہا ہے۔

Views All Time
Views All Time
300
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بلوچستان بھی ہمارا اٹوٹ انگ ہے | رضوان ظفر گورمانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: