گداگری اور این جی اوز – منافع بخش کاروبار | انور عباس انور

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں تیزی سے جو کاروبار ترقی کررہے ہیں ان میں نان گورنمنٹ آرگنائزیشن (NGO ) اور گداگری (Begging) سرفہرست قرار دئیے جا سکتے ہیں، اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ کاروبار ہر قسم کے نقصانات کے اندیشوں اورخدشات سے سو فیصد پاک سمجھے جاتے ہیں اور کمائی کا آسان ترین ذریعہ بھی۔۔۔ پاکستان کا کوئی شہر ،قصبہ ،گلی محلہ، کوئی نکڑ اور کونا ایسا نہیں ہے جہاں اس کاروبار کے چھابے نہ لگے ہو ں۔
ایک طرف غربت کے ہاتھوں تنگ نوجوان ،بزرگ اور خواتین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، ایک طرف لوگ اپنے جگر پاروں اور آنکھوں کی ٹھنڈک (اولاد) کو فروخت کر تے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب لاکھوں افراد گداگری اور تعلیم یافتہ این جی اوز قائم کرکے عیش و عشرت کی زندگی تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
گداگری کا ناسور ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، ہمارے دین اسلامی کی بنیادی تعلیم ہی یہی ہے کہ عزت نفس مجروح کرنے والے کام کرنے سے باز رہا جائے،لیکن مسلمان ہونے کادعوی ٰکرنے اور پیغمبر اسلام ﷺکی حرمت پر جان بھی قربان کرنے کے نعرے بلند کرنے والے پیغمبر اکرمﷺ کے احکامات ماننے سے انکاری رہتے ہیں،اورمحشر میں ان کی شفاعت کی امید بھی رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کے منکر بھی رہتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں سات کروڑ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، کروڑوں عوام زہر آلود پانی پی کر اپنی زندگیاں کو ختم کر رہے ہیں،غربت ، بے روزگاری اور فاقہ کشی کے باعث خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے برسراقتدار طبقہ کے دعوؤں کے برعکس گداری سمیت دیگر ممنوعہ دھندوں کو اختیار کرکے راتوں رات اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے والوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
صبح سے رات گئے تک آپ جس بازار ،مارکیٹ اور شاپنگ مال میں چلے جائیں آپ کو گاڑی پارک کرنے کی مہلت دئیے بغیر گداگر مرد و زن بشمول نابالغ اور بالغ بچے بچیاں آپ کو گھیر لیں گے
گداگری یا بھیک مانگنے کو کمائی کا آسان ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اس کاروبار میں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر انویسٹمنٹ درکار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں لاکھوں بچے بوڑھے جوان اور خواتین بڑے شہروں کی مارکیٹوں ،بازاروں اور گلی محلوں میں دست سوال پھیلائے دیکھائی دیتے ہیں،ان سے میرا بھی واسطہ پڑتا ہے اور آپ کا بھی، ان بھیک مانگنے والوں میں نابالغ اورسن بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل ہیں، بعض لڑکیاں اور خواتین بھیک مانگنے کی آڑ میں آنکھوں آنکھوں میں لوگوں کو دعوت گناہ دینے کے مکروہ کاروبار میں ملوث ہیں۔
میرے ذاتی مشاہدے میں ہے کہ بہت سارے بھکاریوں کو شہر کی اہم مارکیٹوں ، چوکوں اور معروف راستوں پر لوگ بڑی بڑی گاڑیوں میں لاتے ہیں اور وہاں اتار کر چلتے بنتے ہیں اور شام کو وقت مقررہ پر آکر انہیں لے جاتے ہیں، ” ایک بھکاری بوڑھے نے بتایا کہ اسکا یہ اپنا بزنس نہیں ہے بلکہ اسکا باس اسے ایک ہزار روپے روزانہ دیتا ہے باقی وہ جو کماتا ہے اس کے باس کا ہوتا ہے، جب اس سے پوچھا کہ جس دن اسکی کمائی ہزار سے کم ہوتی ہے تو اسکا باس کیا کہتا ہے، کچھ نہیں بس اتنا کہہ کر کہ ” تم نے توجہ نہیں دی کام پر” خاموش ہوجاتا ہے اور اگلے دن پھر وہیں چھوڑتا ہے اور لے جاتا ہے۔
ریگل چوک لاہور کا معروف چوک ہے یہ مال روڈ پر واقع ہے جہاں سارا دن گاڑیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور ساتھ ہال روڈ بھی ہے یہاں پر بھیک مانگنے والی ایک نوجوان لڑکی سے پوچھا کہ وہ بھیک کیوں مانگتی ہے تو اس نے جواب میں کہا کہ ہمارا خاندانی پیشہ ہے، ہمیں اس کام کی تربیت دی جاتی ہے اور کوئی دوسرا کام بھی نہیں کرنے دیا جاتا، اس نے بتایا کہ اس کا بھائی اسے یہاں چھوڑ کرجاتا ہے اور رات کو واپس لے جاتا ہے، کتنا کما لیتی ہو ؟کہنے لگی ” سارا دن کھا پی کر چار سے پانچ ہزار کمالیتی ہوں” اس نے یہ بھی بتایا کہ اس چوک پر اسی کے خاندان کے افراد بھیک مانگتے ہیں کسی اور کو ہم یہاں کام کرنے نہیں دیتے۔پوچھا گیا کہ پولیس اور دیگر ادارے منع نہیں کرتے تو بڑی معصومانہ ادا سے کہنے لگی ہماری کمائی میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے”
گداگری کی طرح بے روزگار نوجوانوں نے این جی اوز کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے حکومت کی جانب سے این جی اوز قائم کرنے پر کسی قسم کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث لوگ اسے آسان سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے شہروں کے ساتھ دیہاتوں میں بھی این جی اوز کے سائن بورڈ نظر آتے ہیں۔ ایک این جی او کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کام کے لیے بس وقت نکالنا ضروری اور اہم ہوتا ہے، آغاز میں کچھ محنت طلب ہوتی ہے اور ریکارڈ مکمل رکھنا بھی ایک شرط ہے ،بعد میں پکی پکائی روٹی ملتی رہتی ہے ۔
این جی اوز کی رجسٹریشن کے معاملات سے متعلق اس نے بتایا کہ ” سب کام ٹھیکے پر ہوتا ہے، رجسٹریشن کے کام کے لیے محکمہ کے اندر سے کارخاص مل جاتے ہیں معاملات طے کرکے ان کی ڈیمانڈ ان کے حوالے کرو اور کچھ دنوں بعد وہ کارخاص رجسٹریشن کے کاغذات آپ کے ہاتھ میں دے دے گا اور بس۔۔۔پھر آپ کا کام شروع ہوتا ہے۔این جی او آپ کی جیب میں آ گئی اب آگے تمہاری لیاقت ،ذہانت اور محنت کا امتحان ہوگا کہ آپ کتنی جلدی اپنے اہداف کو حاصل کرتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
208
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   احساس کا جذبہ-زہرا تنویر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: