Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستانی قانون شکن قوم ہے۔۔۔؟؟ انور عباس انور

by اکتوبر 29, 2017 قلم کار
پاکستانی قانون شکن قوم ہے۔۔۔؟؟ انور عباس انور
Print Friendly, PDF & Email
مجموعی طور پر بیرون ملک اور اندرون ملک ہمارا تعارف یہی ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی قانون شکن قوم ہیں ہمارے ملک میں غریبوں ،مڈل کلاسیوں کو رگڑے دئیے جاتے ہیں جبکہ مافیاز سمیت پارلیمان کے نمائندوں کو 7قتل معاف ہوتے ہیں۔
امیروں اوغریبوں کے لیے قانون بھی الگ الگ موجود ہیں، اس حوالے سے شائد میں مبالغہ سے کام لے رہا ہوں قانون تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن اس پر عملدرامد کرنے والے اسے موم کی ناک بنادیتے ہیں،اور پھر اس موم کی ناک( قانون ) کو جس طرف اور جیسے چاہا استعمال کرلیا جاتا ہے، اشرافیہ اوران کے حواریوں کے لیے نرم دفعات انتخاب ہوتا ہے جبکہ غرباء جب میں ہاری ،کسان ،مزدور دہقان شامل ہیں کے لیے سخت قانونی دفعات کا چناؤ کیاجاتا ہے۔
جنرل ضیا ء الحق کے اسلامی دور میں ہمارے پولیس اسٹیشنوں میں کھلے عام بولیاں لگاکرتی تھیں کہ بتاؤ تمہارے خلاف اسلامی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جائے یا تعزیرات پاکستان کو حرکت میں لایا جائے ،ملزمان سے مرضی کے پیسے بٹورنے کے لیے ہماری پولیس مارشل لاء کے ضابطوں کو استعمال کرنے کی دھمکیاں دیکر بھی لوگوں کے پسینے چھڑوایاکرتی تھی ، یعنی مومن فوجی جنرل کے بنائے قوانین پولیس کے لیے کمائی کا ذریعہ بن گئے ، اس مملکت خدا داد پاکستان میں تین نظام حکومت مارشل لائی قوانین ، تعزیرات پاکستان اور اسلامی قوانین رائج تھے جس سے پولیس والوں نے رج رج کے عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کیے۔
فوجی جنرل ضیا الحق کے اوپر پھٹتے ہی اسکے رائج کردہ تینوں نطاموں پر کھڑی عمارات دھڑام سے نیچے گرکر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی البتہ بعد میں کچھ وقت کے لیے پولیس نے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنائے رکھا ،پولیس اہلکار فوجی دور کی عیاشیوں کو آج بھی یاد کرکے اسے دعائیں دیتے ہیں کہ اس کے دم سے ان کے کچن ہزار قسم کی نعمتان خداوندی سے بھرے رہتے تھے اور بلا کی خوشحالی ان کی رہائش گاہوں کا طواف کیا کرتی تھی۔
یوں تو وطن عزیز میں تمام قوانین کی بے توقیری عام ہے لیکن جتنی مٹی پلید دفعہ144کی ہوتی ہے شائد ہی کسی اور قانون کی ہوتی ہو، دفعہ 144کئی سالوں سے نافذ العمل ہے ، کہیں فصل اٹھانے کے حوالے سے ، کہیں اجتماعات کرنے کی ممانعت کی صورت میں ۔۔۔ اجتماعات کے حوالے سے چار افراد سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی جاتی ہے لیکن لوگ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوتے ہیں جلسے بھی کرتے ہیں اور جلوس بھی نکالتے ہیں،ریکارڈ گواہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز کا کوئی حصہ ایسا نہیں جودفعہ 144 کے نفاذ سے مبرا ہو۔
ماہ محرم کی آمد سے قبل ملک بھر میں دفعہ 144 لگادی جاتی ہے اوراسی دفعہ 144 کے تحت علمائے دین ،ذاکرین عظام، اکابرین ملت اورمداح خوان رسول اکرم ﷺ پر پابندی کی زد میں لائے جاتے ہیں،بعض کا مختلف اضلاع میں داخلہ ممنوع قرار دیدیا جاتا ہے تو کچھ کی زبان بندی کردی جاتی ہے،تاکہ ماہ محرم الحرام امن و سکون سے گزر جائے، دفعہ 144 کے نفاذ کے متعلق بہت سے لطیفے بھی عام ہیں، مثال کے طور پر ایسے علمائے دین ،ذاکرین عظام اور نعت خواں حضرات پابند ی کی زد میں آ جاتے ہے اور مختلف اضلاع میں جانا ممنوع قرار دیدیا جاتا ہے جنہیں اس فانی دنیا سے کوچ کیے عرصہ بیت گیا ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ڈی سی بہادر کے دفتر سے جو احکامات ایک بار جاری ہوجاتے ہیں پھر بار بار انہی کا دوبارہ اجراء معمول ٹھہرتا ہے۔
اس سب مشق کے باوجود فصلیں بھی اٹھائی جاتی ہیں، چار سے زائد افراد کے جمع ہونا خلاف قانون قرار دئیے جانے کے باوجود ہزاروں افراد اکٹھے ہوکر جلسہ بھی کرتے ہیں اور جلوس بھی نکالتے ہیں، اضلاع میں داخلے پر پابندی کے نوٹیفیکیشن کی دھجیاں اڑاتے ہوئے علماء ،ذاکرین اور اکابرین ملت دھندناتے پھرتےء ہیں ، تقریریں بھی کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اپنے حال میں مست ہوتے ہیں۔
ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے پر غریب موٹر سائیکل سوار کو دھر لیا جاتا ہے، چمکتی دمکتی بڑی گاڑیوں والے خراٹے بھرتے نکل جاتے ہیں اگر انہیں روک بھی لیا جائے تو شکل دیکھنے یا تعارف کروانے پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانے پر مامور اہلکار و افسران سوری کہہ کر انہیں قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی اجازت مرحمت فرماتے ہیں۔اور متعدد بار ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اگر کسی ٹریفک وارڈن نے ہمت کرکے قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے کسی بڑے افسر ،جاگیردار یا ارکان پارلیمنٹ کی گاڑی روکی اور چالان اس کے ہاتھ میں تھمایا تو اسی شام غروب آفتاب سے قبل اسے ملازمت سے معطلی کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے۔اس لیے قانون کے محافظ اہلکار بڑے توندوں ،بڑی گاڑیوں والوں اور ارکان پارلیمنٹ کو روکنے کی جرآت نہیں کرتے۔
ہمارے پولیس اسٹیشنوں میں کوئی غریب آدمی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا مقدمہ درج نہیں کروا سکتا، اس کے لیے یا تو پولیس والوں کی مٹھی گرم کرنے یا پھر علاقہ کے معززچودھری( ٹاؤٹ) کو ساتھ لیکر جانا پڑتاہے ہر برسراقتدار آنے والی حکومت پولیس تھانوں کے کلچر کو تبدیل کرنے کے دعوے کرتی ہے لیکن حکومت اپنی مدت مکمل کرکے گھر چلی جاتی ہے مگر پولیس تھانوں کا کلچر وہیں رہتا ہے۔ کبھی ایسا بیان نظر سے نہیں گزراہوگا کہ فلاں ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے دفعہ 144 اٹھا لی ہے اس جانب حکمرانوں کو توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔آئین پاکستان پکار پکار کرکہہ رہا ہے کہ اے حکمرانوں خدارا میری توقیر کی بحالی کے لیے بھی کچھ سوچو، بے توقیر ی سے آپ کی عزت بھی خاک میں مل رہی ہے اور اس وقت تک ملتی رہے گی جب تک تم میری اور دوسرے قوانین کی عزت و وقار بحال نہیں کرتے۔
Views All Time
Views All Time
280
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شوگر مافیا کا عروج اور کپاس کا زوال - سعد الرحمٰن ملک
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: