Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے | انور عباس انور

by اگست 14, 2017 کالم
مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے | انور عباس انور
Print Friendly, PDF & Email

پوری قوم جشن آزادی منارہی ہے۔ گلی گلی ،محلے محلے، قریہ قریہ، نگر نگر، گاؤں گاؤں اور شہر شہر پاکستانی قوم نعرہ زن ہے۔ جلسے اور جلوس منعقد ہو رہے ہیں، لوگ ٹولیوں کی صورت میں جلسہ گاہوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ سیاسی، سماجی، حکومتی اور حزب مخالف کے راہنما گرمی جوش خطابت سے عوام کے دلوں اور جذبات کو گرما رہے ہیں۔ تحریک پاکستان کے وہ واقعات بیان کیے جا رہے ہیں جن سے قوم آگاہ ہے اور ایسے واقعات سے بھی انہیں آگاہ کیا جا رہا ہے جن سے قوم بے خبر ہے۔

گزشتہ دنوں لاہور پریس کلب کے صدر محمد شہباز میاں کی سالگرہ تھی، دوستوں نے آنے کا پیغام بھجوایا سو شامل ہوا۔ نثار عثمانی ہال میں تین تین کیک کاٹے گئے، شامل تقریب ہر صحافی کے چہرے پر مسکراہٹیں تھیں اور وہ فوٹو اور مووی بھی اپنے موبائلز میں محفوظ کر رہے تھے۔ ہم تقریب سے فارغ ہو کر محترم سکریٹری لاہور پریس کلب کے کمرہ میں آ گئے۔ وہاں نوجوان صحافی عبدالحنان، قاسم رضا و دیگر کے ہمراہ حالات حاضرہ پر بحث و تمہید میں وقت کا پتہ نہ چلا بالآخر صبح سویرے پریس کلب سے نکل کھڑا ہوا، میری اگلی منزل چیئرنگ کراس تھی۔ ایجرٹن روڈ پر دیواروں پر تعلیمی اداروں کے طلبہ کی جشن آزادی کے حوالے سے رنگ برنگی تصاویر بنائی دیکھ کر باغ باغ دل خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔

آگے جا کر ایک تصویر نے ساری خوشیاں اور مسرتیں چلتا کر دیں۔ محسن قوم، بابائے قوم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال علیہ الرحمۃ کی نوجوان طلبہ کی تخلیق کردہ تصاویر میں سے قائد اعظم جنہوں نے ہمیں انگریز اور ہندوؤں سے آزادی دلوائی، آزاد وطن لے کر دیا، کے چہرے پر کسی بدباطن، محسن کش، احسان فراموش نے سیاہی مل دی ہے۔ قدم آگے بڑھنے سے انکاری ہوئے، قریب جا کر بدبخت کے سیاہ کرتوت کی تصویر محفوظ کرلی۔ اوپر جو ابتدائیہ میں لکھا ہے کہ”مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے” اس کا باعث یہی دکھ دینے والی حرکت ہے۔ باضمیر قومیں تو اپنے محسنوں کو تاقیامت یاد رکھتی ہیں لیکن ایک ہم ہیں کہ اپنے محسنوں کو برا بھلا کہنے کو وطیرہ بنا رکھا ہے۔ محسن قوم محمد علی جناح ہو یا ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوں۔

تھوڑی دور دو سڑکوں کے درمیان لوگوں کی سہولت کے لیے بورڈز آویزاں کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چیئرنگ کراس جانے والے کس طرف جائیں اور منٹگمری روڑ یا کوپر روڈ کی طرف جانے کے خواہشمند کونسا راستہ اختیار کریں یا مال روڈ پر پہنچنے کے لئے کس جانب رخ کریں۔ شائد ہماری مقامی حکومت (لاہور کی مقامی حکومت) اس بات سے بے خبر ہے کہ حکومت نے لاہور سمیت ملک بھر کی گلیوں، محلوں، چوراہوں اور شاہراہوں کو اپنے قومی مشاہیر کے ناموں سے منسوب کر رکھا ہے۔ جیسے مال روڈ کو شاہراہ قائد اعظم، کوئینز روڈ کو شاہراہ فاطمہ جناح، ٹیمپل روڈ کو حمید نظامی روڈ، لکشمی چوک کو مولانا ظفر علی خان کے نام عطا کر رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ایبٹ روڈ کو سومنات کے مندر فتح کرنے والے سپوت محمود غزنوی کے نام منسوب کیا گیا ہے لیکن ایبٹ روڈ کہنا ہماری عادت بنی ہوئی ہے، مگر ہماری مقامی حکومتیں ان گلی محلوں ،چوکوں اور شاہرات کو ان کے پرانے ناموں سے ہی پکارنے اور لکھنے پر بضد ہیں۔ ایسا کیونکر کیا جا رہا ہے؟محسنان ملت سے ایسے سلوک پر مبنی آزادی بھی مجھے گوارا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   تعلیمی ادارے یا اکھاڑے؟ -محمد اظہار الحق

بھارت کا دماغ چل گیا ہے، یا ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے۔ جیسی حرکات بھارتی (بھارتی خفیہ ادارہ اور اسکے اہلکار) کر رہے ہیں ایسی ابنارمل لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو بھارت کو پاکستان سے غلطی سے سرحد عبور کرکے بھارت پہنچنے والا کبوتر جاسوس لگتا ہے، سرحدی آبادی کے رہائشی بچے کھیل کود میں مست ہوکر غلطی سے سرحد کے اس پار جا پہنچیں تو ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور اپنی مکمل تفتیش و تحقیقات سے تسلی ہو جانے پر ان معصوم بچوں کو رہا کرتا ہے۔ ابھی پاکستانی قوم جشن آزادی منانے کی تیاریاں کر رہی ہے، اور پاکستان کے عاشقان صادق کی جانب سے جشن آزادی کو انتہائی جوش و خروش سے منانے اور اسے تاریخ میں یادگار بنانے کی غرض سے ایک لمبا اور اونچا قومی پرچم واہگہ بارڈر پر لہرانے کی خبروں پر بھارتیوں نے واویلا شروع کردیا ہے کہ اس پرچم میں جاسوسی کیمرہ نصب ہوگا جس کے ذریعے بھارت کی جاسوسی کی جائے گی۔

بھارت کو ہٹ دھرمی اور ضد ترک کرکے مسلمانان برصغیر پاک و ہند کے اس فیصلہ کے آگے سرتسلیم خم کردینا چاہئیے جو انہوں نے قیام پاکستان کے حق میں دیا تھا۔ بھارت کو اب تلخیاں بڑھانے کی بجائے انہیں ترک کرنے کا سوچنا چاہیئے کیونکہ تلخیاں بڑھانے سے خظے کے حالات میں سدھار نہیں آئے گا بلکہ بگاڑ ہی پیدا ہونا ہے جو بھارت کے لیے سود مند ہے اور نہ پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ بھارت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیئے کیونکہ اگر اسے گھمنڈ ہے کہ وہ بڑا ملک ہے تو بڑے ہونے کے کچھ حقوق اور فرائض بھی اس پر عائد ہوتے ہیں، جو اسے بہرحال نبھانے ہوں گے، نہیں نبھائے گا تو خسارے کا سودا کریگا ۔

ہم پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کو آزادی کے جشن میں خطہ جنت نظیر کشمیر اور اس کے عوام کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے جو بھارتی مظالم کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ خود ہر قسم کا ظلم و ستم سہہ رہے ہیں لیکن پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ اسی لئے بھارتی فوجی درندے انہیں لاشوں اور عصمتیں لوٹنے کے تحفے دے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کو کشمیر سے مخلص ہونا پڑے گا۔ اب تک تو سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آئی جس کا سب سے بڑا ثبوت مولانا فضل الرحمان کا کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہونا ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ مولانا کی غیر سنجیدگی کا معترف ہے، نہ جانے حکومت کن مقاصد کے لیے مولانا فضل الرحمان کو کشمیر کمیٹی جیسے اہم عہدے پر چمٹائے رکھنا چاہتی ہے۔ کشمیر کمیٹی کے کریڈٹ پر کوئی ایسا کارنامہ نہیں جوعالمی سطح پر پیش کیا جا سکتا ہو۔ شائد پاکستانی عوام کی مزید آنکھیں اس وقت کھل جائیں جب باقی ممبران کشمیر کمیٹی ان پر آشکار ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:   پنجاب اور گومل یونیورسٹیز کے افسوسناک واقعات - حیدر جاوید سید

مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے جس میں اپنے محسنوں کی کردار کشی کی کھلی آزادی ہو ۔ ۔ ۔ مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے جہاں بابائے قوم بانی پاکستان کے چہرے پر سیاہی ملنے کے واقعہ سے مقامی حکومتوں سے لیکر وفاقی حکومے کے کل پرزے بے خبر ہوں اور ابھی تک ”توہین قائد” کے حوالے آئین و قانون حرکت میں نہ آئے ۔ ۔ ۔ مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے جہاں حکمرانوں کے خلاف وال چاکنگ کرنے والے تو فوری گرفتار کر لیے جاتے ہوں مگر قومی اور ملی مشاہیر کے خلاف کام کرنے والے قانون کی گرفت سے آزاد پھرتے ہوں۔

مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے جہاں آئین کے بارہ صفحات کا کتابچہ کہہ کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی باتیں کرنے والوں کو مکمل فوجی اور قومی اعزازات کے ساتھ دفن کیا جائے اور آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی ننگی پیٹھوں پر کوڑے برسائے جائیں ۔ ۔ ۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسی آزادی جہاں حکمران اورسابق حکمران کھلم کھلا ریاستی اداروں کے خلاف بھونکتے پھریں اور لوگوں کو ان ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکساتے پھریں۔
مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے جہاں ملک توڑنے والوں کو آزادانہ حرکت و نقل کی آزادی ہو، کسی قسم کی پوچھ گچھ نہ ہوئی جب کہ اس وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والوں کو کبھی پھانسی پر لٹکادیا جائے تو کبھی جلاوطن کردیا جائے ۔ ۔ ۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسی آزادی جہاں غرباء غریب تر اور امراء امیر تر ہوتے جائیں، غریبوں کے بچے نوکریاں نہ ملنے پر خود کشیاں کرنے پر مجبور ہوجائیں اور ممبران پارلیمنٹ اور ان کے کارندے لاکھوں روپے رشوت لیکر کھاتے پیتے گھروں کے افراد کو نوکریاں دینے میں قادر ہوں۔

مجھے ایسی آزادی نہیں چاہیئے جہاں غریب کی بچیاں جہیز نہ ہونے کے باعث والدین کی دہلیز پر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہوں اور امراء کی بیٹیاں ٹرینوں اور جہازوں میں جہیز بھر کر لے جائیں ۔ ۔ ۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسی آزادی جہاں تھانوں، کچہریوں، سرکاری دفاتر میں غریبوں کو دھکے اور گالیاں پڑیں اور چور اچکوں، ڈاکوؤں، جاگیرداروں، نمبرداروں اور دولت مندوں کو عزت اور کرسیاں ملیں ۔ ۔ ۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسی آزادی جہاں تھانوں میں مقدمات کے اندراج اور کچہریوں میں انصاف کے حصول کے لیے ٹاوٹوں کی مدد درکار ہو۔

مجھے نہیں چاہیئے ایسی آزادی جہاں حکمران لاکھوں عزتوں ،لاکھوں جانوں کی قربانی کے عوض حاصل ہونے والی آزادی کے تحفظ کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھیں، جہاں آئین و قانون موم کی ناک بنا کر رکھ دی جائے ۔ ۔ ۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسی آزادی، نہیں چاہیئے نہیں چاہیئے مجھے ایسی آزادی۔

Views All Time
Views All Time
265
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: