Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں بہت مضبوط ہوں اور میری کرسی مجھ سے بھی زیادہ مضبوط ہے | انور عباس انور

by جولائی 15, 2017 کالم
میں بہت مضبوط ہوں اور میری کرسی مجھ سے بھی زیادہ مضبوط ہے | انور عباس انور
Print Friendly, PDF & Email

مسلم لیگ نواز کی قیادت نے اپنی غیر ضروری مصروفیات منسوخ کردی ہیں، وفاقی اور صوبائی وزراء ارکان پارلیمنٹ کو بیرون ملک کے سفر پر جانے سے روک دیا ہے، ارکان پارلیمنٹ اور وزرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ ہائے انتخاب میں موجود رہیں اور زیادہ سے زیادہ عوام سے رابطے میں رہ کر انہیں اصل صورت حال سے آگاہ کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مناسب اقدام اٹھائے جانے میں کسی قسم کی خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ارکان پارلیمنٹ کو اپنے حلقہ انتخاب کے تمام دیہات میں پہنچنے کی بڑی تاکید کی جا رہی ہے اور ان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے خصوصی اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
دس سال یا اس سے تھوڑاکم عرصہ سعودی عرب میں جلاوطنی کاٹ کر جب شریف خاندان وطن واپس آیا تو عام اندازہ یہی تھا کہ شریف خاندان خاص طور پر وزیر اعظم نواز شریف نے بہت سبق سیکھا ہے، اب وہ اخلاق سے گری سیاست اور اقتدار کے دوام کے لیے جمہوری اقدار کو داؤ پر نہیں لگائیں گے، وزیر اعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا بھی تھا کہ اگرکوئی کمیشن بنایا گیا اور اس نے مجھے گناہ گار قرار دیا تو میں ایک لمحہ کی تاخیر کیے بنا گھر چلا جاؤں گا،لیکن اب وزیر اعظم مستعفی ہونے کے مشوروں کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔
مسلم لیگ کے کئی راہنماؤں نے تو وزیر اعطم نوازشریف کو یہی صلاح دی ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں اور چودہری نثار علی خاں،احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق ، خواجہ آصف یا پھر حمزہ شہباز میں سے کسی کو وزیر اعطم بنا دیں اور پورا سسٹم ڈی ریل ہونے سے بچایا جائے،اطلاعات کے مطابق کابینہ اور وزیر اعظم کے انتہائی قریبی راہنماؤں اور دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر بیگم کلثوم نواز کو رکن قومی اسمبلی منتخب کرایا جائے، تاکہ مسلم لیگ کو متحد رکھا جاسکے،اور وزیر اعظم نے اس مشورہ کو قبول کرتے ہوئے بیگم کلثوم نواز کو پارٹی رکنیت دینے اور انہیں رکن قومی اسمبلی منتخب کروانے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے انتہائی اہم اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارٹی قیادت سے رابطے میں رہیں، حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر پوری قوت سے عدالت عظمی میں لڑا جائے ، بعض حلقوں میں تو یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پیر کے روز جب عدالت عظمی میں کیس کی سماعت ہو گی تو حکومتی وکلاء عدالت عظمی کے فاضل بینچ پر جانب دار ہونے کا اعتراض اٹھائیں گے اور بینچ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر یہ خبریں سچ ثابت ہوئیں اور واقعی حکومتی وکلاء نے ایسا ہی موقف اپنایا تو یہ بہت بڑی خوفناک صورت حال ہوگی۔
سوال زیر بحث ہے کہ کیا عدالت عظمی جے آئی ٹی پر لگنے والے اعتراضات کو اہمیت دے گی؟ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یقیننا عدالت عظمی جے آئی ٹی پر لگنے والے اعتراضات کو سنے گی، برحال آئندہ آنے والے دن یعنی سوموار 17جولائی سے شروع ہونے والے ہفتہ سے ملک میں سیاست اور عدالت کے میدانوں میں کافی ہلچل مچے گی،عدالت میں بھی ماحول انتہائی گرم رکھا جائے گا۔
ذوالفقا ر علی بھٹو نے قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک کے دوران قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا "میں انتہائی کمزور ہو ں ( کرسی کے بازو پر زوردار مکا مارتے ہوئے کہا ) لیکن میری یہ کرسی بہت مضبوط ہے” لیکن چند دنوں بعد ذوالفقا ر علی بھٹو کو کرسی سے اٹھاکر مری میں نظربند کردیا گیا۔ شنیدیہی ہے کہ میاں نواز شریف کو بھی یہی باور کرایا گیا ہے کہ ان کی کرسی میں بہت طاقت ہے، اور ذرائع بتاتے ہیں کہ میاں نواز شریف کا بھی کہنا ہے کہ انہیں کمزور سمجھنے والے غلط اندازے لگا رہے ہیں، کیونکہ میں بہت مضبوط ہوں۔
حکومت اور اپوزیشن کے لیے خطے کے حالات کو مقدم رکھنا لازم ہے ،تاکہ ملکی قومی سلامتی کے لیے مسائل کھڑے نہ ہوں، اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف سراہے جانے کے لائق ہے، کہ اس نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی لانے کا مطالبہ کیا ہے، پیپلز پارٹی کے راہنما اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے مسلم لیگ نواز اور وزیر اعطم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ( وزیر اعظم) اپنے منصب سے مستعفی ہوجائیں اور پارٹی کے کسی اور راہنما کو ملک کا نیا وزیر اعطم منتخب کرلیا جائے تاکہ سسٹم اور جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچایا جائے۔
میرے خیال میں وزیر اعظم کو سید خورشید شاہ کے اس مطالبے یا مشورے پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنا چاہیے، اس کی بہترین مثال برطانیہ اور آئس لینڈ کے حکمرانوں کی دی جا سکتی ہے، برطانیہ میں تھریسا مے نے ڈیوڈ کیمرون کی جگہ حکومت سنبھالی اور نئے انتخابات کروائے اور جمہوریت کی ٹرین پٹری سے نہیں اتری۔ بات صرف معاملہ کو سنجیدہ لینے کی ہے، کیا ہم سیاسی جماعتوں کو ون مین شو رکھنا چاہتے ہیں؟ کیا پارٹی میں سربراہ کے بعد پارٹی کی قیادت کی اہلیت ،قابلیت اور صلاحیت رکھنے والا کوئی راہنما نہیں ہے؟
مسلم لیگ نواز میں اللہ کے فضل سے بہت سارے قابل راہنما موجود ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی پارٹی اور حکومتی معاملات سونپ دئیے جائیں تو ممکن ہے کہ وہ نواز شریف سے بہتر کارکردگی دکھائیں، لیکن اقتدار چاہے پارٹی کے نادر کا ہو یا حکومتی اقتدار ہو کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کسی اور کو بااختیار بنانے کا دل گردہ نہیں رکھتی۔ ہمارے سیاست دانوں کا یہی کردار اور رویہ ہی ہمارے ملک وقوم کے مسائل،مشکلات اور ایسے حالات کا باعث ہے۔کہتے ہیں کابینہ کی میٹنگ جس میں وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کے مطالبات کو مسترد کیا اس میں جب انہوں نے کہا کہ میں بہت مضبوط ہوں تو ان کے چہرے پر جلال دیکھنے کے لائق تھا۔ اللہ کرے نواز شریف ذوالفقا رعلی بھٹو نہ بنیں۔ پارٹی راہنماؤ ں اور ان کے وکلا صاحبان کو بھی اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ ان کے مشورے اور دلائل کہیں انتہائی سادہ اور سیدھے وزیر اعظم کو ذوالفقارعلی بھٹو جیسے انجام سے دوچار نہ کریں کیونکہ پاکستان بار بار ایسے تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ میاں نواز شریف صاحب ” قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں "کے نعروں کو سنجیدگی سے نہ لیں تو بہتر ہوگا۔

Views All Time
Views All Time
375
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ترقی کی جعلی داستانیں | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: