Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نواب اکبر بگٹی سے میر اسد اللہ مینگل تک سب غدار کیوں؟ | انور عباس انور

by جولائی 9, 2017 کالم
نواب اکبر بگٹی سے میر اسد اللہ مینگل تک سب غدار کیوں؟ | انور عباس انور
Print Friendly, PDF & Email

بلوچستان جنوبی ایشیا کے جس خطے میں واقع ہے ، وہ عالمی اور مقامی سطح پر بڑی اہمیت کا حامل ہے،ماضی میں غیر ملکی ہندوستان آنے کے لیے اسی راستے کو استعمال کرتے رہے،معدنی وسائل سے مالا مال بلوچستان آج بھی بیرونی دنیا کے لیے دلچسپی اور توجہ کا محور و مرکز رہا ہے ، اور اب بھی ہے، اس خطے پر عربوں ،مغل بادشاہوں کی حکمرانی رہی، ایران کے نادرشاہ افشار نے بھی اس علاقے پر قبضہ کیا اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اپنی حکومت قائم کی تو بلوچستان کی تمام ریاستوں جن میں قلات ،خاران، لسبیلہ ،مکران ،سبی اور مری ،بگٹی و دیگر قبائل افغانستان کا حصہ ہوگئے۔
قیام پاکستان کے بعد بلوچستان پاکستان کے نقشے میں شامل ہوا، اور 1970 میں ون یونٹ ٹوٹنے کے نتیجہ میں اسے بھی صوبے کا درجہ ملا، ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کرکے اسے حکومت پاکستان کے زیر انتظام لے لیا، سرداری نظام کا خاتمہ بھی بلوچستان میں حکومت مخالف تحریکوں کا سبب بنا،مینگل اور مری قبائل حکومت کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہوئے جبکہ بگٹی قبائل سمیت متعدد قبائل بھٹو حکومت کے معاون و مددگار بن گئے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان میں برپا شورش کے پس پردہ غیر ملکی قوتیں کارفرما ہیں، جیسا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی ایجنٹ نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان کے اندر مسلح تحریکوں اور دہشتگردی کو منظم کرنا ،اسے فروغ دینا اس کے مشن میں شامل تھا، گو اب اس نے سزا سے بچنے کے لیے معافی کی بھیک مانگ لی ہے، جبکہ بھارت نے اس کی رہائی کے لیے عالمی عدالت انصاف تک رسائی حاصل کی ہے۔
بلوچستان کو سوچی سمجھی حکمت عملی سے لیڈرشپ سے مرحوم کیا جارہا ہے؟ ، بلوچستان کے عوام کو ملک کے دیگر حصوں کی برابری کی بنیاد پرترقیاتی منصوبے کیوں نہیں دیئے جا رہے؟بلوچستان سے وہیں سلوک برتا جا رہا ہے جو مشرقی پاکستان کے عوام سے کیا جاتا رہا ہے؟ کیا واقعی بلوچ نوجوان پاکستان سے بیزار ی کا رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے یہ سوالات ہر بلوچی بچے بوڑھے اور نوجوان کے ذہن میں پرورش پارہے نہیں بلکہ اب یہ سوچ بہت مستحکم ہو چکی ہے۔
نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان کے سابق وزیر اعلی اور سابق وزیر اعلی کے صاحبزادے میر اخترجان مینگل کے گھر کے باہر راکٹ حملے نے نوجوانان بلوچستان اور پاکستان کی خیر چاہنے والوں کے قلب و ذہن میں مزید کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔میری ایک دوست رونا خان جو کوئٹہ کے مضافات میں رہتی ہے، سے بات ہوئی تو اس نے تصدیق کی کہ میر اختر جان مینگل کے حجرے پر راکٹ حملے سے ان عناصر کو تقویت ملی ہے جو پاکستان کی بدخواہی چاہتے ہیں،رونا خان کا کہنا تھا کہ اخترجان مینگل کا راکٹ حملے پر ردعمل خاصا محتاط تھا۔
ہم سب کے لیے سوچنے، غور و فکر کرنے کا مقام ہے، کہ قیام پاکستان کی تحریک اور بعد میں پاکستان کے لیے ہر چیز قربان کرنے حتی کہ اپنی ریاست کو بنا کسی شرط کے پاکستان میں ضم کرنے والے "خان آف قلات'”پاکستان سے سکونت ترک کرکے لندن میں کیوں رہائش پذیر ہیں؟نواب اکبر بگٹی شہید نے بھٹو صاحب کے دور حکومت میں ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، جنرل شیروف، خیر بخش مری،عطا للہ مینگل اور دیگر کے خلاف فوجی ایکشن اور عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں فوجی کارروائی کی حمایت کی، متعدد بار گورنر اور وزیر اعلی کے منصب پر فائز رہنے کے علاوہ بھی اہم عہدوں پر تعینات رہے،پاکستان کے گیت گاتے رہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے مدمقابل کھڑے ہونے پر مجبور ہوگئے؟
عطا اللہ مینگل جو سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلی بنائے گئے اور بعدازاں ان کی حکومت کو خلاف آئین قرار دیکر برخاست کردیا گیا، اور صوبے میں گورنر راج لگا کر نواب اکبر بگٹی کو گورنر کا منصب سونپا گیا،فوج کے اس ایکشن کے خلاف بلوچ قوم پرست پہاڑوں پر چڑھ گئے اور فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا کر اپنا صوبہ واپس لینے یا آزادی کے لیے سینہ سپر ہوگئے، اس کارروائی میں عطا اللہ مینگل کے صاحبزادے اور میر اختر جان مینگل کے بھائی اسد مینگل کو ماردیا گیا ،اور اس پر ظلم یہ کہ اسد مینگل کی میت بھی نہ دی گئی۔
میر غوث بخش بزنجو کی سیاسی جماعت بلوچستان کی واحد سیاسی پارٹی تھی جس کا وجود پنجاب کے اندر موجود تھا، یا پھر میر زہری مرحوم کی جیوے پاکستان پارٹی پنجاب کے دوچار شہروں میں اپنے ہونے کا احساس دلاتی تھی، نواب اکبر بگٹی مرحوم نواب زہری کی جیوے پاکستان پارٹی کو پیوے پاکستان پارٹی کہا کرتے تھے۔۔ لیکن آج بلوچستان میں کوئی ایسی جماعت وجود نہیں رکھتی دوردور تک دکھائی نہیں دیتی جس کی آواز پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی سنی جا سکتی ہو۔
میر غوچ بخش بزنجو کی عدم موجودگی میں پنجاب میں سید قصور گردیزی اور ان کے بھائی ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے تھے،ان کی رہائش گاہیں ملتان کے علاوہ لاہور میں بھی تھیں، میر غوث بخش بزنجو لاہور اور ملتان میں یہی گردیزی برادران کے میزبان ہوا کرتے، میر زہری کا لاہور میں اوڑھنا بچھونا چودہری اسلم ہوا کرتے ،آج بلوچی راہنماؤں کو دیکھے عرصہ بیت گیا ہے، سب بلوچستان تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، میر اخترجان مینگل کو ملک کے دیگر علاقوں میں کچھ کچھ جانا جاتا ہے مگر باقی اپنی بقاء کی جنگ لڑتنے میں مصروف ہیں۔
میر عطا اللہ مینگل تمام عرصہ حیات اسی جستجو اور جدوجہد میں لگے رہے کہ انہیں ان کے فرزند میر اسد مینگل کی ڈیڈ باڈی دے دی جائے لیکن ضیاالحق باوجود تمام تر ہمدردیاں جتانے کے اسد مینگل کی ڈیڈ باڈی دینے میں غیر سنجیدہ رہے۔حالانکہ جنرل ضیا نے حیدرآباد جیل میں بند بلوچستان کے راہنما کو رہا کرکے انہیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف خوب استعمال کیا لیکن بلوچستان کے اصل مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دی۔
اس میں دو رائے نہیں کہ سیاسی اور جمہوری حکمرانون سے بلوچستان کے مسائل اور حقوق کے تناظر میں بے شمار غلطیاں سرزد ہوئیں لیکن بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل،حقوق کے نہ دینے اور ان میں احساس محرومی پیدا کرنے میں ہماری فوجی حکومتوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر سیاسی و جمہوری حکمرانوں نے بلوچستان میں فوجی ایکشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے پس پردہ بھی فوج کا دباؤ رہا ہے۔ سیاست دان تو اپنی غلطیوں،کوتاہیوں کو تسلیم کرتے ہیں لیکن فوجی حکمران اس خوبی سے عاری ہوتے ہیں ۔
کسی حکومت چاہے وہ فوجی ہو یا سیاسی بلوچ عوام کے اصل مسائل کی جانب توجہ نہیں دی گئی، بس اسٹیبلشمنٹ کی خوشی و ناراضگی کو مدنظر رکھ کر "ڈنگ ٹپاؤ” پالیسی اختیار کرتے رہے،کسی سیاسی پارٹی اور حکومت نے بلوچستان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کوئی تھنک ٹینک بنایا جس کے ذمہ بلوچستان کے عوام کے ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہوتا، جن کے باعث بلوچستان آگ میں جل رہا ہے، جن کے حل کے لیے بلوچنوجوان آرام اور سکون کی زندگی ترک کرکے پہاڑوں پر بسیرا کرنے پر مجبور ہوئے،بلکہ ہر حکومت نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔
مشرقی پاکستان اور بلوچستان کے مسائل میں بہت مماثلت موجود ہے، وہاں بھی احساس محرومی پیدا کیا گیا،وہ بھی روتے پیٹتے رہے ،چیختے چلاتے رہے لیکن اسلام آباد میں بیٹھے حکمران انہیں علیحدگی پسند قرار دے کر اصل مسائل سے نظریں چراتے رہے، بالاآخر نتیجہ وہی برآمد ہوا جو ہونا تھا، ایسا ہی بلوچستان کے بارے میں حکمرانوں نے رویہ اپنایا ہوا ہے، بنگالیوں کی طرح بلوچی عوام بھی کہتے ہیں کہ ہم غیر محب وطن نہیں اور نہ ہی ان کی حب الوطنی پر شک کیا جائے لیکن اسٹیبلشمنٹ اپنی روش ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ماضی کے جھروکوں سے جھانکا جائے تو سندھ کے سائیں جی ایم سید ،شیخ مجیب الرحمان کو غدار کہہ کہہ کر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی آغوش میں دھکیلنے والے اب بلوچستان کے عوام کو ان کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
میر عطا اللہ مینگل کے فرزند اسد مینگل کو شہید کرکے تصور کرلیا گیا کہ اب بلوچستان میں سکون ہوجائے گا، اور پھر جنرل مشرف کے دور میں اپنی سرزمین کے حقوق دینے کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں نواب اکبر بگٹی کو شہید کرتے وقت سمجھا گیا کہ بگٹی صاحب کو ٹھکانے لگانے کے بعد بلوچستان میں ہر سو چین ہی چین ہوگا، لیکن بظاہر دکھائی دینے والے چین،سکون اور امن کے پیچھے بہت خوفناک آتش فشاں ابلنے کے لیے تیار ہے، ہو سکتا ہے کہ میری یہ سوچ ،رائے اور تجزیہ غلط ہو لیکن مجھے تو ایسا ہی نظر آتا ہے، مجھے بلوچستان کا امن ،سکون اور چین عارضی بندوبست دکھائی دیتا ہے، فوج کے وہاں سے نکلنے کے بعد بلوچستان میں کیا ہوگا اس کے لیے فوج کے وہاں سے واپس بیرکوں میں آنے کا انتظار کرنا ہوگا۔

Views All Time
Views All Time
365
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تام تو فقط چہروں کی پہچان ہوتے ہیں - اکرم شیخ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: