Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قطر اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے نقصانات | انور عباس انور

قطر اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے نقصانات | انور عباس انور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر تاریخی طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت کرتا آ رہا ہے،رومانیہ کے صدر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے کہا کہ خلیجی ملک (قطر) کے لیے موقع ہے کہ وہ مالی معاونت ترک کردے،صدر ٹرمپ نے عرب ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی معاونت کو جلدی سے روکیں۔ دوسری جانب قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔ لگتا ہے کہ ریاض میں ہونے والی عرب امریکہ کانفرنس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
پاکستانی حکمرانوں سمیت تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے، کہ عالم اسلام ایک لڑی میں پروئے رہیں، ان کا اتحاد ایسے ہو جیسے تسبیح کے دانے ایک ہوتے ہیں، اسلامی کانفرس تنظیم ، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کا قیام انہیں مقاصد کے حصول کے پیش نظر عمل میں لایا گیا،ان تنظیمات کی تشکیل کے پس پردہ اغراج و مقاسد میں یہ بھی شامل تھا کہ ان تنظیموں کے رکن ممبر ممالک اپنے اختلافات ان کے پلیٹ فارم پر حل کریں گے۔
مراکش کے دارالحکومت رباط میں اسلامی کانفرنس تنظیم کا قیام 25 ستمبر 1969 کو باقاعدہ عمل میں نآیا اور اس پر 57 ممالک کے نمانئدوں نے دستخط کیے ،ا ور 1969 میں رباط فروری 1974 میں لاہور میں ہونے والی اسلامی کانفرنس جس سج دھج اور جوش و جذبے سے انعقاد پذیر ہوئیں وہ اپنی مثال آپ تھیں، لاہور کانفرس میں رکن ممالک نے ہماری اپنی کوتاہیوں کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے والے بنگلہ دیش کو اجلاس میں شریک کرنے پر آمادہ کیا۔ان دو کانفرنسوں کے بعد اسلامی کانفرنس تنظیم رکن ممالک کے مابین پیدا ہونے والے مسائل اور جھگڑوں کو نبٹانے میں کسی خاطر خواہ کردار کی ادائیگی میں کامیاب نہیں ہوئی،
1974 کے بعد اس تنظیم کے اجلاس تو بہت ہوئے ،لیکن کام کچھ نہیں ہوا بس حکمرانوں کی آنیاں جانیاں لگی رہیں، اسلامی کانفرنس کے لیے پہلی آزمائش عراق ایران جنگ تھی، جو 10سال تک جاری رہی، اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق برسراقتدار تھے اور ایران میں امام خمینی کا سکہ چلتا تھا، اور عراق پہ صدام حسین کا طوطی بولتا تھا، امریکا اور بعض عرب ممالک کی آشیر باد سے صدام حسین نے اسلامی انقلاب کو مضبوط کرنے میں مصروف ایران پر حملہ کردیا، اس جنگ میں کیمیکل اور زہریلی گیس والے ہتھیار بھی استعمال کیے گئے ،لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے، دونوں ممالک کی اقتصادیا ت و معاشیات کی چولیں ہل گئیں، سب سے زیادہ نقصان عراق کا ہوا، جس کے باعث اس نے کویت پر چڑھائی کی، نتیجہ عراق پر امریکی اتحادیوں کی بمباری کی صورت نکلا۔
ایران عراق جنگ کے دوران اسلامی کانفرنس کے بہت وفود ایران پہنچے، لیکن امام خمینی نے ایک ہی سوال سامنے رکھا”آپ بتائیں حملہ آور کون ہے عراق یا ایران؟ اسلامی کانفرنس کے وفود جن میں ہمارے حکمران ضیا ئالحق بھی موجود ہوتے تھے، یہ تسلیم کرتے کہ حملہ آور عراق ہے” لیکن امام خمینی کے اس استدلال پر کہ قرآن کا حکم ہے جو مسلمان دوسرے مسلمان سے زیادتی کا مرتکب ہو باقی مسلمان مل کر اس کے خلاف لڑیں، اسلامی کانفرنس کے وفود خاموشی اختیار کر لیتے، لیکن قرآنی حکم پر عمل کرتے ہوئے عراق کے خلاف اقدامات کرنے سے کنی کتراتے،اسلامی کانفرنس کے لیے اپنی افادیت اجاگر کرنے کے لیے عراق ایران جنگ کو حل کرنا بہترین موقع تھا جو اس نے گنوا دیا۔
اب قطر اور سعودی قیادت میں دیگر عرب ممالک کا تنازع کھڑا ہوا ہے، اسلامی کانفرنس کو اس کے حل کا موقعہ دیئے بنا قطر کے خلاف اقدامات کئے گئے ہیں، اور یہ سب کچھ ریاض میں ہونے والی عرب امریکا اسلامی کانفرنس کے انعقاد کے محض چند روز بعد ہی ہوگیا، ظاہر ہے قطر کے خلاف شکایات پہلے بھی موجود تھیں ، انہیں ریاض کانفرنس میں کیوں حل کرنے کی سعی کی گئی؟ایسا نہ کرنے سے قطر کے خلاف اقدامات سے بو آ رہی ہے کہ یہ سب ریاض کانفرنس میں خصوصی طور پر شریک ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ کی ہدایات یا رہنمائی میں کیا گیا ہے۔
قطر پر لگائے گئے سعودی ،بحرینی،اماراتی الزامات نئے نہیں ہیں،قطر اور سعودی عرب کے اتحادیوں کے بیچ اختلافات کی آگ سے دھواں کافی عرصہ سے اٹھتا دکھائی دے رہا تھا،قطر پر الزامات میں کہا گیا ہے کہ قطر خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں کوشاں ہے، خاص کر سعودی عرب کو شکایت ہے کہ قطر اس کے مشرقی صوبے قطیف میں حکومت مخالف گروپس کی مدد کر رہا ہے اور شام میں بشار الاسد کے مخالفین کو کچلنے میں اس کے ساتھ تعاون کرتاہے، بحرین کا الزام ہے کہ وہ بحرین میں ایران نواز ملیشیا کی حمایت، نصرت میں ملوث ہے، اس کے علاوہ قطر کے امیر پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے ذریعہ سعودی عرب کی پالیسیوں پر تنقید کرکے دہشت گردی کے خلاف اسلامی عسکری اتحاد میں رہنے کا جواز کھو دیا ہے۔ان الزامات کی قطر کی جانب سے مسلسل تردید کی جا رہی ہے ،لیکن اس کی کوئی سننے کو آمادہ نہیں، ان الزامات میں صداقت کس قدر ہے ؟ اس کے متعلق حقائق تو کسی انکوائری کے ذریعے منظر عام پر آسکتے ہیں، سعودی اتحاد اس کے لیے رضامند ہر گز نہیں ہوگا۔
سعودی عرب اور اس کے ساتھ کھڑے عرب ممالک جس نوعیت کے الزامات قطر پر عائد کر رہے ہیں ، کچھ ممالک خصوصا ایران ، شام اور لبنان بھی ایسے ہی اعتراضات سعودی عرب پر کرتے چلے آ رہے ہیں، یعنی سعودی عرب شام میں بشارالااسد مخالف گروپوں کی سرپرستی کرتاہے، بحرین میں آل خلیفہ حکومت کے خلاف سراپا اختجاج بحرینی عوام کو کچلنے میں سعودی فورسسز ملوث ہیں، کچھ لوگ چند روز قبل تہران میں دہشت گردی کے واقعات کو ریاض کانفرنس سے جوڑتے ہیں۔
قطر کی حکومت بھی ڈٹ گئی ہے، وہ اپنے موقف پر قائم ہے،قطر نے اپنی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے، خصوصی طور پر عرب ممالک قطر میں قائم الجزیرہ ٹی وی کی ترقی اور اس کے بے باکانہ تجزئیوں ، اور پروگراموں سے خائف ہیں، عرب ممالک کے تمام ٹی وی چینلوں پر قدغن لگی ہوئی ہے جب کہ الجزیرہ آزادانہ طور پر کام کرتاہے، قطر اب بھی معاملات کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دے رہا ہے، مگر قطر کی ترقی سے خائف سعودی اتحاد کچھ اور ہی سوچ رہا ہے،۔
اس لڑائی میں پاکستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہوگی، سعودی عرب کی محبت میں غرق ہوکر قطر کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دینے سے بے حد پیچیدگیاں پیدا ہونے کے امکانات روشن ہیں،حکومت کو خاص قطری حکمران خاندان سے اپنے مراسم،کاروباری معاملات اور سعودی عرب سے دینی لگاؤ کے باعث توازن برقرار رکھنا ہوگا کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ مشرق وسطی کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں، اس تبدیلی میں طاقت کے مراکز بھی بدلنے والے ہیں اور اس خطے کی قیادت بھی کسی اور کو منتقل ہونے کی پیشن گوئیاں ہو رہی ہیں۔
ریاض کانفرنس میں اربوں ڈالرز کی اسلحہ خریداری کے سودے آنے والے وقت کی طرف کافی اشارے دے رہے ہے،اس ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی قیادت آگے بڑھے اور اسلامی کانفرنس کو متحرک کرے اور مشرق وسطی میں لگنے والی آگ کو آغاز میں ہی بجھانے کی کوششیں کرنے کی ابتدا کرے اور اس بات کا خیال رکھنا بھی لازمی ہوگا کہ جو غلطی جنرل ضیاء الحق نے عراق ایران جنگ کے دوران کی تھی اسے نہ دہرایا ھجائے، یعنی کہ جنرل ضیا نے جھوٹے کو جھوٹا کہنے سے پہلو تہی کرکے اس جنگ کو برسوں پر محیط کیا، اب جھوٹے کو جھوٹا کہنا ہوگا ، اگر قطری غلطی پر ہیں تو انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے اور اگر سعودی عرب اور اسے ساتھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں تو انہیں سیدھی راہ دکھانے میں کسی قسم کا "اولا” نہ رکھا جائے، یہی ہمارا اس لڑائی میں کردار ہونا چاہیے۔ورنہ یہ کشیدگی عالم اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی۔ جس سے دشمنوں کے دل کی مرادیں پوری ہوں گی۔

Views All Time
Views All Time
138
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: