پرویز رشیدکا جھٹکا کافی ہوگا؟ – انور عباس انور

Print Friendly, PDF & Email

rp_Anwar-Abbas-Anwar-new-291x300.jpgاسلام آباد کے سب سے طاقتور گھر کے مکینوں نے اپنے پیاروں ، خیر کواہوں کی باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پرویز رشید کو وزارت اطلاعات و نشریات سے سکبدوش کردیا جائے، جس اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا اس کے شرکاء کی متفقہ رائے یہی تھی کہ چھ اکتوبر کو انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والی خبر سے راولپنڈی کے طاقتور حلقے کی ناراضگی کو رفع دفع کرنے میں مدد ملے گی، چنانچہ وزیر اعظم ہاؤس سے پرویز رشید کے جھٹکے کا نوٹیفیکیشن کا اجراء کرنا مناسب سمجھاگیا،اس فیصلے پر بہت ساری باتیں ہوئیں ،تبصرے بھی شائع اور نشر ہوئے، تجزیہ نگار اپنی اپنی بساط کے مطابق دور دور کی کوڑیاں لائے اور دکھوں اور غموں کے ساتھ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی قوم کا دن رات کا سکھ اور چین حرام کیے رکھا۔
وزیر اعظم ہاؤس سے پرویز رشید کی سکبدوشی کے نوتیفیکیشن کے اجراء کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر داخلہچودہری نثار علی خان اگلے روز پریس بریفنگ دیں گے، اس پر بھی سنجیدہ حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی کیونکہ حکومت کے ایک اہم ترین یعنی حکومت کے ترجمان کی سکبودشی کی وجوہات بتانے کے لیے اگلے دن کا انتخاب کا کوئی تک نہیں بنتا تھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پرویز رشید کو ہتائے جانے کے فیصلے کا اعلان وزیر داخلہ چودہری نثار علی خان خود پریس کانفرنس میں کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، چودہری نثار علی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پرویز رشید کو اس لیے ہٹایا گیا ہے کہ وہ متنازعہ خبر کو شامل اشاعت ہونے سے روکنے میں ناکام رہے، وزیر داخلہ کے اس موقف پر شیخ رشید احمد نے پھبتی کسی کہ’’ پرویز رشید اگر خبر رکوا سکتا ہے تو لگوا بھی سکتا ہے‘‘ جس کا واضع مقصد و مطلب یہی ہے کہ چودہری نثار علی نے نواز شریف کی مشکلات کم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کیا ہے۔
چودہری نثار علی نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک طعف تو خبر کو جھوتی قرار دیا اور اسی لمحے ہی اس خبر کو قومی سلامتی کے منافی کہہ ڈالا اگر خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے تو پرویز رشید کو سکبدوش کرنے کی کوئی لاجک نہیں بنتی چاہیے تو یہ تھا کہ وزیر داخلہ حکومتی عہدیداروں کے اس میں ملوث نہ ہونے کے ثبوت اپنے خاندانی خصوصا اپنے بڑے بھائی جنرل ریٹائرڈ چودہری افتخار علی خان کے ادارے کے ذ مہ داروں کو دکھاتے اور معاملہ اگر اتنا ہی سادہ اور سیدھا تھا تو اسے رفع دفع کروادیتے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وزیر داخلہ وزیر اعظم ہاؤس مین اہم معاملات نبٹانے پر مامور مریم نواز کے بارے میں سوال کا جواب دینے کی بجائے پریس کانفرنس ہی ختم کر کے روانہ ہوگئے، اس سے مریم نواز کے بارے میں سوالات ختم نہیں ہوئے نلکہ مذید پیدا ہوگئے۔
پانامہ لیکس سے بات قومی سلامتی تک جا پہنچی ہے، یہاں بے نظیر بھٹو کی کہی ایک بات یاد آ گئی ہے وہ کہا کرتی تھیں کہ لاہور کے وزیر اعظم کے لیے اور قانون ہے اور لاڑکانہ کے وزیر اعظم کے لیے الگ قانون ہے ،آصف علی زرداری اور حسین حقانی کے خلاف تو ایک میل کرنے پر نواز شریف خود کالا کوٹ پن کر عدالت عظمی تشریف لے گئے تھے لیکن اب پانامہ لیکس میں اپنے بیٹوں اور بیٹی کانام آنے کے باوجود مستعفی ہونے سے انکاری ہیں۔ پرویز رشید کا جھکا کرنے کی بجائے وزیر اعظم شروع میں ہی منصب سے الگ ہوجاتے اور اپنے خاندان یا مسلم لیگ میں سے کسی قابل بھروسہ راہنما کو اپنا جانشین منتخب کروا دیتے تو بات یہاں تک نہ پہنچتی، آصف علی زرداری نے بھی تو سندھ کی وزارت اعلی سے وزارت عظمی پر غیر بھٹو اور زرداری کو فائز کیے رکھا، آج جو کچھ بھگتنا پر رہا ہے وہ اقتدار اور طاقت کو اپنے خاندان میں کی مٹھی میں بند رکھنے کے باعث ہے۔
عمران خاں کی جانب سے اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کو روکنے کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات و وزیر اطلاعات پرویز رشید کی سکبدوش اور عسکری قیادت کی تشویش سے پیدا ہونے والی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کیونکہ وزیر اعظم نواز شریف کا دو نومبر کا دورہ کرغستان اور سینٹ کے چئیرمین میاں رضا ربانی کا دورہ کیوباملتوی ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔لیکن اگر کوئی اس سنگینی اور معاملے کی سنجدگی سے لاعلم ہے تو وہ عمران خاں اور حکومت ہے کیونکہ دونوں جان سے ہٹ دھرمی اور ضد کو انا کا مسلہ بنایا ہوا ہے، وزیر اعظم اگر ڈیوڈ کیمرون اور آئیس لینڈ کے وزرا ئے اعظم کی تقلید کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہو جائیں تو کوئی فرق نہیں پریگا اور اسی طرح عمران خاں سپریم کورٹ کے فیصلے تک احتجاج ملتوی کردے تو بھی آسمان نہیں گرے گا۔
وفاقی اور پنجاب حکومت خصوصا وزیر داخلہ کی جانب سے خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی پرویز خٹک کے اس بیان پر کہ اگر اسلام آباد کے دروازے ہمارے لیے بند کیے گئے تو میں دیکھوں گا کہ ’’وزیر اعظم کیسے کے پی کے میں قدم رکھتے ہیں‘‘ پرویز خٹک کے طرز عمل کو غیر مناسب قرار دیا گیا ہے، جب کہ یہی طرز سیاست نواز شریف اور شہباز شریف کا طرہ امتیاز رہا ہے، نوے کی دہائی اور زرداری دور حکومت میں بار بار
لکھا گیا کہ میاں صاحبان ایسا نہ کریں کیونکہ اگر کل کو مرکز مین آپ کی حکومت بن جاتی ہے اور صوبوں میں کسی اور جماعت کی حکومت برسراقتدار ااتی ہے اور وہ وزیر اعظم نواز شریف کے لیے ایسا انداز سیاست اختیار کرے تو کیا نجام ہوگا؟ کئی حلقوں نے آصف علی زرداری کو کہا بھی گیا کہ جناب نواز شریف اور شہباز شریف کو سندھ آنے سے روکدیا جائے مگر انہوں نے ایسے مشوروں کو ایک کان سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا ایسا غیرآئینی اقدام کرنے سے اجتناب ہی برتا جسکا نتیجہ یہ ہے کہ جمہوریت مضبوط ہوئی۔
میں ان سطور کے ذریعے سیاست دانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اپنی بالادستی،آئین اور دستور کی سپر میسی کے فتور کو اپنے ذہنوں سے نکال دیں اورتسلیم کرلیں کہ اس ملک کا سب کچھ راولپنڈی کے پاس ہے وہیں آئین ، وہیں پارلیمنٹ وہیں جمہوریت اور وہیں عوام ہیں اس سے کم از کم یہ تو ہوگا کہ نہ جمہوریت کا بانس رہے گا اور نہ بجے گی بانسری۔۔۔۔۔۔ پھر نہ ملک میں ہنگامے ،فساد بلوے ،جلسے اور جلوس ہوں گے ، اور نہ ملکی ترقی کا پہیہ رکے گا۔۔۔ پھر دیکھنا ملک کے کونے کونے میں دودھ کی نہریں بہیں گی نہ کوئی کرپشن کے قصے میڈیا کی زینت بنیں گے اور نہ سیاستدانوں کی رسوائی کا سامان کرسکے گا۔۔۔اللہ اللہ خیر صلا

Views All Time
Views All Time
344
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آج کچھ لوگ گھر نہیں آئے! - آمنہ مفتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: