Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بجٹ 2017-18 کس کا؟

بجٹ 2017-18 کس کا؟

مسلم لیگ نواز نے پیپلز پارٹی حکومت کی تقلید کرتے ہوئے اپنا پانچواں بجٹ پیش کرنے کا ہدف عبور کرلیا، یہ مسلم لیگ نواز کا آخری بجٹ ہے، وزیر اعظم نواز شریف نے اس بجٹ کو عوام دوست قرار دیا ہے ،اور امید بھی ظاہر کی ہے کہ انشاء اللہ اگلا بجٹ یعنی 2018 -19 کا بجٹ بھی مسلم لیگ نواز کی حکومت پیش کرے گی۔وزیر خزانہ اسحاق ڈارسمیت تمام حکومتی راہنماؤ ں کی جانب سے بجٹ کو متوازن ،عوام دوست اور بہترین قرار دیا ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتیں حسب روایت بجٹ کو عوام دشمن قرار دینے پر مصر ہیں، کم از کم اجرت پندرہ ہزار روپے مقرر کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،اپوزیشن کا موقف ہے کہ وزیر خزانہ اور وزیر اعظم 15000 روپے میں دو بچوں والے گھرانے کا بجٹ بنا کر دکھا دیں ، مہنگائی کے اس دور میں تو ایک بکری کی خوراک پندرہ ہزار میں پوری نہیں کی جا سکتی تو دو بچوں والے خاندان کا گزارہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے بارے میں یہ بات عام تھی کہ حکومت اپنے آخری بجٹ میں زرداری حکومت کے پچاس فیصد ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کردے گی اور پھر 10% اضافہ بھی کرے گی اس حوالے سے تجزیئے اور پشین گوئیاں درست ثابت ہوئیں، لیکن ایک طبقہ اس اضافے کو بھی اونٹ کے منہ میں ریزہ قرار دے رہا ہے، اور مزید اضافہ کرنے کا مطالبات کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اس بجٹ کو انتخابی بجٹ کہنے پر مصر ہیں، اور اس بجٹ میں پارلیمنٹرینر کو 25 کروڑ روپے دینے کی تجویز رکھی گئی ہے، ارکان پارلیمنٹ ان 25 کروڑ کو اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کام کروانے کے لیے خرچ کریں گے۔اس کا مطلب ہوا کہ اگلے چھ ساتھ مہینوں میں پاکستان کے طول و عرض ، شہر و دیہات میں ہر سو ترقیاتی کاموں کی بہار دیکھنے کو ملے گی،سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چودہری نے سابق وزیر اعطم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے اپنے حلقے کے لیے مختص کیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز روک دیئے تھے ،کیا اس بارے میں بھی عدالت عظمیٰ از خود نوٹس لے گی یا لاڑکانہ اور لاہور میں فرق اور امتیاز کو برقرار رکھے گی؟
سیمنٹ ،سریا سمیت تعمیرات میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے غریب آدمی کے لیے اپنی چھت کے حصول کا خواب ادھورا رہ جائے گا،اپنے گھر کے لیے قطعہ زمین کا حصول پہلے ہی ناممکن بن چکا ہے ،اب تعمیراتی سامان کی خرید اری بھی غریب کی دسترس سے باہر ہوجائے گی۔ کہا تو جا رہا ہے کہ موجودہ بجٹ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کو مدنظر رکھ کر بنایا ہے، لیکن یہ بجٹ عوام کی توقعات پر کس حد تک پورا اترے گا، اس کے لیے ابھی کچھ روز انتظار کرنا پڑے گا، کیونکہ بجٹ کی کچھ چیزیں آہستہ آہستہ کھلیں گی۔
بجٹ کے متعلق ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو اور وہ بجٹ کتنا ہی عوام دوست پیش کرے اپوزیشن نے تو اس میں سے کیڑے ہی نکالنے ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کے بجٹ اور پالیسیوں کو عوام دوست اور ملکی مفاد میں تسلیم کرلیں تو تمام جھگڑے ہی ختم ہوجائیں ،بات تو انا کی ہے اور ضد بیاینیے کی ہے، بجٹ جتنا مرضی اچھا ہو ،اپوزیشن اسے کسان دشمن، مزدور کش اور زراعت کے لیے جان لیوا ہی کہے ہے۔
بہت خوبصورت بات میرے دوست امجدصدیقی جو خود بھی بہت اچھے لکھاری ہیں نے کہی ہے، کہتے ہیں کہ بجٹ بہت عمدہ ہوتا، اور حکومتی دعوے کہ ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے، حقیقت معلوم ہوتے ،اگر حکومت اپنا آخری بجٹ خسارے سے پاک پیش کرتی،چودہ سو ارب کے خسارے کے بجٹ کو بجٹ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق 22 ارب ڈالرز قومی خزانے میں زرمبادلہ کی صورت میں موجود ہیں، ممکن ہے کہ وزیر خزانہ سچ کہتے ہوں لیکن عوام کو ریلیف کا نہ ملنا، اور بجٹ خسارے سے گلو خلاصی نہ ہونا، بیرونی قرضہ جات پر انحصار باقی رہنا وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کچھ طبقات بجٹ کو الفاظ اور اعدادو شمار کا گورکھ دھندہ کہتے نہیں تھکتے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ایک ہزار ایک ارب کے زرعی قرضے زمین داروں کو دیئے جائیں گے، زرعی مشینیں سستی اور ٹیوب ویل کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے گی،اس کے علاوہ گھر کی تعمیر کے لیے سکیم کے تحت بینک گارنٹی حکومت فراہم کرے گی یا دے گی، یہ گارنٹی دس لاکھ روپے پر چالیس فیصد ہوگی، بجٹ تقریر سننے اور پڑھنے میں لگتا ہے کہ غریب عوام کو ان کے خوابوں کی تعبیر مل جائے گی، لیکن عوامی سطح پر یہ خدشات موجود ہیں کہ سابق بجٹ تقاریر کی طرح موجودہ بجٹ تقریر میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جائیں گے۔ دکھائے گئے خوابوں کو تعبیر نہیں ملے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقاریر کرنا آسان ہے اور ان تقاریر میں کہی گئی باتوں کو عملی جامہ پہنانا بہت مشکل امر ہے، اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ کئی اور منی بجٹ بھی آتے رہیں گے۔اگر حکومت بجٹ تقریر میں کئے گئے وعدے پورے کرے، اور مزید منی بجٹ پیش نہ کرنے کے وعدے کی پاسداری کرے، تو اس بجٹ کو متوازن کہا جا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں یہ خوشخبری بھی سنائی ہے کہ اگلے سال تک دس ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کرکے لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے قوم کو مستقل نجات دلا دی جائے گی،ماہر معیشت مزمل اسلم تو وزیر خزانہ کے دعوے کے سچ ہونے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں دیکھتے ،لیکن مجھے اس دعوے کی تکمیل ممکن دکھائی نہیں دیتی، میرے پاس اسکی دلیل یہ ہے کہ جتنی بجلی یہ پیدا کریں گے اتنی ہی مانگ اور طلب بڑھتی جائے گی، اگر حکومت لوڈ شیدنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے بجلی کے نئے کنکشن دینے پر پابندی لگانا ہوگی، اگر چھوٹے گھریلو کنکشن پر پابندی لگانے میں دشواری کا سامنا درپیش ہے تو بڑے گھریلو، کمرشل اور صنعتی کنکشن پر کچھ عرصے کے لیے پابندی لگائے بغیر لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں۔مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ بجٹ صنعت کاروں ، خوانچہ فروشوں ، چھوٹے تاجروں ، غریبوں ، سرکاری ملازمین کے لیے یکساں سود مند ہے، لیکن غیر سرکاری ملازمین اور ڈیلی ویجز ملازمین کی کم سے کم اجرت پندرہ ہزار مقرر کرنا درست نہیں کیونکہ پندرہ ہزار میں سادگی میں رہ کرگزر بسر کرنا ناممکن ہے۔ اس جانب حکومت کو دھیان دینے کی ضرورت ہے۔بجٹ بہترین قرار پاتا اور تمام حکومتی دعوے سچ ثابت ہوتے اگر حکومت خسارہ فری بجٹ پیش کرتی۔

Views All Time
Views All Time
127
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: