Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

“کابل کے قصائی” کی دبنگ انٹری کے ساتھ واپسی | انور عباس انور

“کابل کے قصائی” کی دبنگ انٹری کے ساتھ واپسی | انور عباس انور

گزشتہ دنوں “کابل کے قصائی” کے نام سے معروف گلبدین حکمت یار نے پورے جاہ جلال کے ساتھ کابل کے ایوان صدر میں قدم رکھا، جہاں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ انتظامیہ کے ہمراہ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پرجوش انداز میں انہیں ایوان صدر میں خوش آمدید کہا،سرخ قالین پروٹوکول نے حکمت یار کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیر دیں، کابل کے قصائی کی ایوان صدر میں اس طرح داخلے نے طالبان اور ان کے حامیوں کو پریشان تو کیا ہوگا۔
پاکستان کے معروف سیاسی تجزیہ نگار خصوصا افغانستان امور کے ماہر سمیع یوسف زئی کے خیال میں “گلبدین حکمت یار پاکستان کے رویئے سے کتنا ہی کیوں نالاں نہ ہو لیکن وہ بھارت کا طرفدار نہیں ہو سکتا” اس امر سے پہو تہی نہیں کی جا سکتی کہ بھارت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے حکمت یار سے روابط استوار کرنے کی سعی نہیں کرے گا۔۔۔ البتہ تمام پاکستانی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ “کابل کے قصائی ” کا افغانستان میں اقتدار کا حصہ دار بننے سے عالمی سطح پر پاکستان کا پلڑا بھاری رہے گا۔
کابل کا قصائی طالبان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے سے اب تک کہاں روپوش تھا؟ یہ سوال ہر جگہ زیر بحث ہے، پاکستان میں تو مقیم نہیں تھا، یورپ میں رہائش پذیر رہا ہو تو کہا نہیں جا سکتا، کچھ دور اندیش لوگوں کا خیال ہے کہ گلبدین حکمت یار اتنے سال شائد ایران میں خاموشی کی زندگی بسر کرتا رہا ہو، لیکن ایک بات غور طلب ہے کہ گلبدین حکمت یار کی کابل پہنچنے تک اس بات کو راز ہی میں رکھنے کو ترجیح دی گئی ہے، کہ حکمت یار کہاں سے کابل میں اترے ہیں؟
گلبدین حکمت یار کی آج کابل واپسی اور سرخ قالین استقبال اور افغان اقتدار میں حصہ داری حکمت یار کی سیاسی حکمت عملی ،سوچ اور طرز سیاست کی کامیابی ہے، ورنہ آج طالبان کہاں دکھائی دیتے ہیں، اگر حکمت یار بھی طالبان کی سیاست کا شریک سفر ہوجاتا تو آج وہ بھی دربدر ٹھوکریں کھاتا پھرتا،حکمت یار میدان جنگ میں بھی موجود رہا اور میدان سیاست میں بھی اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا،
گلبدین حکمت یار افغانستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں، اور ان کی جماعت حزن اسلامی کی باقی جماعتوں کے مقابلے میں انفرادیت یہ ہے کہ یہ نسلی و لسانی بنیادوں پر استوار نہیں ہے، حزب اسلامی میں فقہ جعفریہ سمیت تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ شامل ہیں اور اس میں ازبک بھی ہیں اور تاجک باشندے بھی افغانستان میں اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لیے گلبدین حکمت یار کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں،گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کو اس حوالے سے باقی جماعتوں پر سبقت حاصل ہے۔
کابل کے قصائی کے نام سے مشہور گلبدین حکمت یار کی کابل واپسی سے کابل کے تمام حکمران دھڑے خوشی سے نہال ہوتے جارہے ہیں، ان کے چہروں پر مسکراہٹ دیدنی ہے، گلبدین حکمت یار نے ایوان صدر (کابل) میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لویہ جرگہ بلاکر اسلامی آئین کا مسودہ پیش کریں گے، کابل کے قصائی کی واپسی سے اس بات کی امید پیدا ہو چلی ہے کہ افغانستان کے پرامن افغانستان کی طرف گامزن ہوگا، اور کابل کے قصائی کی ترجیحات میں یہ اولین ترجیح ہوگی کہ افغانستان کی سرزمین سے غیر ملکی افواج کو جلد سے جلد نکالا جائے۔
گلبدین حکمت یار کی افغانستان کی سیاست میں متحرک ہونے کا پاکستان کو یہ فائدہ ہوگا کہ افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے بھارت کی جانب جھکاؤ اور بھارت کی طرفداری کی پالیسی میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی جماعت اسلامی پاکستان کا فیس ٹو ہے، جو بھارت کی کشمیری مسلمانوں کی نسلی کشی کی سخت ناقد ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ اب کابل اور دیگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اس کی دلیل یہ ہے کہ حزب اسلامی افغانستان کی حکومت میں پاکستان نواز آواز ثابت ہوگی۔
افغان میڈیا کے مطابق حکمت یار کی بیس سال بعد کابل واپسی افغان حکومت کے ساتھ ایک واضح ڈیل کے نتیجے میں ہوئی ہے، اس ڈیل کے باعث گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کے تمام جنگجو ہتھیار پھینک کر امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے، اور حکمت یار نے” طالبان بھائیوں” سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان حکومت کے خلاف برسرپیکار رہنے کی پالیسی ترک کرکے افغانستان کی ترقی ،عوام کی فلاح و بہبود اور افغانستان میں قیام امن میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے اپنے طالبان بھائیوں کو یقین دہانی کروائی ہے
“I will fight for all your legitimate demands”
گلبدین حکمت یار کی افغانستان کی سیاست میں واپسی میں شرف غنی انتظامیہ کے ساتھ پچھلے سال ہونے والے سمجھوتے نے اہم کردار ا کیا ، اس سمجھوتے کے تحت امریکہ نے فروری میں گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اور گلبدین حکمت یار پر اقوام متحدہ کی عائد سفری پابندیاں اور ان کے منجمد اکاؤنٹس بحال کردی گئیں تھیں،گلبدین حکمت یار طالبان کے کابل پر قابض ہونے سے قبل افغانستان کے وزیر اعطم رہ چکے ہیں،اور افغانستان سمیت پوری دنیا میں “وار لارڈ” کی شناخت رکھتے ہیں۔
عالمی میڈیا میں اس رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ گلبدین حکمت یار کی افغانستان کی سیاست میں واپسی افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے سودمند ثابت ہوگی، لہذا افغان انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ہر شق پر ایمانداری سے عمل درآمد کرکے “کابل کے قصائی” کی شخصیت اور سیاست سے بھرپور فائدہ اٹھائے،اور سرزمین افغانیہ کو پائیدار امن دینے اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کو یقینی بنانے کو پہلی ترجیح قرار دے کیونکہ ایسے مواقع قدرت بار بار نہیں فراہم کرتی۔
گلبدین حکمت یار کا یہ کہنا بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ افغان جنگ کے لیے باہر سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے لیکن مر افغانی رہے ہیں،ان کا یہ کہنا بھی بہت اہم ہے کہ اچھے اور برے طالبان کا نعرہ جنگ کو طول دینے کے لیے لگایا گیا،گو کابل کا قصائی کابل حکومت کو غیر آئینی بھی قرار دیتا ہے اور اس سے معاہدہ کرکے افغانستان کے سیاسی اور حکومت عمل کا حصہ بن کر اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ بھی دکھائی دیتا ہے ،دیکھتے ہیں کہ یہ بیل منڈھے چڑھتی ہے یا بیچ چوارہے میں ٹوٹ جاتی ہے۔ کیا حکمت یار افغانستان کو پائیدار امن دینے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں اس کے لیے کچھ عرصے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔

مرتبہ پڑھا گیا
518مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: