Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

احسان اللہ احسان کو کس نام سے پکار ا جائے | انور عباس انور

احسان اللہ احسان کو کس نام سے پکار ا جائے | انور عباس انور

جب سے احسان اللہ احسان سکیورٹی اداروں کی حراست میں آیا ہے، اس وقت سے میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے، بحث یہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کو دہشت گرد کہا جائے یا اسلام کا مجاہد کے لقب سے لکھا اور پکارا جائے؟احسان اللہ احسان پورے دس سال یا کچھ اس میں سے کم عرصے تک طالبان کی ترجمانی کے منصب پر فائز رہا اور پورے دھڑلے سے ان کی ترجمانی کی، ملک و قوم حتیٰ کہ پاک فوج کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کرتا رہا، سوال یہ ہے کہ کیا احسان اللہ احسان پاک وطن کو غیر مستحکم کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی کا مرتکب نہیں ہوا۔
احسان اللہ احسان کے متعلق کچھ لکھنے سے گھبرا اس لیے رہا ہوں کہ کہیں وہ دوست خفا نہ ہوجائیں جو آج کل اس کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، اور ان کی آرزو اور خواہش ہے کہ اب تک جتنے معصوم لوگ ان کی بربریت اور درندگی کی بھینٹ چڑھ کر شہید ہو چکے ہیں، اور جو زخمی ہوکر تاحیات معذور ہوگئے ہیں اور زندہ لوگوں سے ابتر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ، کا نا حق بہنے والا لہو معاف کردیا جائے، اور احسان اللہ احسان کو بہترین مسلمان اور قومی محب وطن تسلیم کیا ہی نہ جائے بلکہ انہیں تمغہ حب الوطنی سے بھی نوازا جائے۔
ایسا سوچنے والے اس بات کو بھی ذہن نشین رکھیں کہ اگر ان کے اپنے پیارے دہشت گرد حملے کا نشانہ بنے ہوتے اور احسان اللہ احسان اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کرتاتو کیا آپ اپنے پیاروں کا خون اسے معاف کر دیتے؟میڈیا پر اس کی وکالت کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس دہشت گرد کے ہاتھوں پر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں افراد کی شہادت کا لہو موجود ہے، ان سینکڑوں شہداء کے لواحقین اسکے جرائم کبھی معاف نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں فراموش کرسکتے ہیں۔
میں اسے وقت اور حالات کی ستم ظریفی کہوں گا کہ ریاست اور حکمرانوں کی ضروریات کبھی کبھی قومی ہیروز کو غیر محب وطن بنا دیتی ہیں، اور غیر محب وطنوں اور دہشت گردوں کو محب وطن ۔کل کے دہشت گردوں کے ترجمان اور آج کے احسان اللہ احسان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کا معاملہ اس کی بہترین مثال ہے، لوگوں کی تشنگی مٹانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے مقدمات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کے گھر سے تین اور چار اپریل 1979 کی شب ان کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے گئے اور عوام کو بتایا گیا کہ وہاں سے پاکستان دشمنی پر مبنی دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، اور نواز شریف کے متعلق کہا گیا کہ اس نے جنرل مشرف کے طیارے کو بھارت لے جانے کے احکامات جاری کئے، اس طرح کے الزامات بے نظیر بھٹو پر بھی لگائے گئے، لیکن بعد میں “ضروریات” کے تحت انہیں سیلوٹ بھی کیے گئے۔جیسا کہ آج کل نواز شریف کو سکیورٹی رسک قرار دیا جا رہا ہے، اور ماضی قریب میں صدر زرداری اور بے نظیر بھٹو کو بھی سکیورٹی رسک کہا گیا۔
سلیم صافی سمیت دیگر جہادی صحافی، اینکرز پوری کوشش کر رہے ہیں کہ احسان اللہ احسان کو کلین چٹ دیدی جائے اور معاف کیا جائے، اس کے خلاف مقدمات قائم نہ کیے جائیں۔اس کے لیے احسان اللہ احسان کے ممنون احسان صحافی دلیلوں کے انبار لگا رہے ہیں،کوئی احسان اللہ احسان کے خود کو سرنڈر کرنے کو بلوچستان کے فراریوں کے ہتھیار پھینکنے سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی مختلف ادوارمیں حکومتوں کی جانب سے طالبان سے کیے گئے معاہدوں سے اسکی حراست کو جوڑتا نظر آتا ہے،احسان اللہ احسان جیسے نامی گرامی دہشت گرد کو معافی تلافی دلانے میں کوشاں عناصر ماضی میں سیاستدانوں کی جانب سے انہیں ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کی پیشکشوں کو بھی ڈھال کے طور استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کالعدم طالبان کے ترجمان کے واسطے ہلکان ہونے والے صحافیوں میں اتنی جرآت اور ہمت ہے نا کہ وہ ایک ایسے دہشت گرد کی اعلانیہ طور پر حمایت کر رہے ہیں۔ ایک ایسا صحافی جو خود کو دانشور اور پاکستان کا سب سے بڑا باخبر صحافی بھی سمجھتا ہے اور اس کے پرندے بڑی بڑی پہنچ رکھتے ہیں جو باریک سے باریک سوراخ میں سے اندر گھس کر اندر کی خبر نکال لاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ زیر حراست احسان اللہ احسان نے بتایا ہو کہ ایک لمبی قطار معافی کے وعدے پر ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے ، اور اس کا کیس ٹیسٹ کیس ہے ، اور اسکا سرنڈر کرنا ٹرم اینڈ کنڈیشن کے تحت ہو ۔ ایک اور اینکر جسے میں پیار سے “تلقین شاہ” کہتا ہوں کا کہنا ہے ، کسی نے یہ تو نہیں کہا کہ اسے کھلی معافی دیدی جائے گی یا دیدی گئی ہے ، بات صرف اتنی ہے کہ اسکو میڈیا پر ہنستا مسکراتا دکھا کے دوسرے دہشت گردوں کو سرنڈر کرنے کی جانب راغب کرنا مقصود و مطلوب ہے۔
احسان اللہ احسان کو وی وی آئی پروٹوکول دینا اور اسے معاف کرنا یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کسی کو سات سو خون معاف ہوں، ہماری اسٹیبلشمنٹ کا یہ بھی المیہ رہا ہے کہ وہ سیاستدانوں کی غلطیوں ( جرائم ) کو تو معاف کرنے پرتیار نہیں مگر اپنے پسندیدہ مجرموں کے سنگین ترین جرائم بھی معاف کردیئے جاتے ہیں، اب یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ احسان اللہ احسان کی حمایت اور وکالت وہ عناصرکر رہے ہیں جو سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے منظور نظر ہیں۔یہ بھی اب کوئی راز نہیں رہا کہ طالبان کے ترجمان کی حیثیت سے احسان اللہ احسان پاکستانی میڈیا کے بڑے ناموں والے صحافیوں ،اینکرز کی خاطرمدارت بھی کیا کرتے تھے۔
احسان اللہ احسان کے انٹرویو کرنے کاجس کسی بھی چینل نے پلان بنایا یہ اس اکیلے کی سوچ نہیں تھی، احسان اللہ احسان کا انٹرویو کروانے اور اسے نشر کروانے کی اس ادارے نے باقاعدہ منظوری دی تھی، جس کی زیر حراست ہے ،ا س میں اس ادارے کی انتظامیہ کی رضامندی شامل تھی، سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ آئی ایس پی آر کے تعاون سے اس انٹرویو کا پروگرام بنایا گیا اور انٹرویو ہوا بھی۔پھر نہ جانے حکومت کو کیا سوجھی کہ اس نے عین وقت پر انٹرویو نشر کرنے پر پابندی لگادی۔یقیننا آئی ایس پی آر کے اس انٹرویو کا اہتمام کرنے اور اسے نشر کروانے کے پس پردہ کوئی تو مقاصد ہوں گے؟
اس سے آگے چلیں تو چودہری نثار علی خاں وزیر داخلہ نے بیان داغ دیا کہ”زیر حراست ملزمان کو میڈیا کے روبرو پیش نہیں کرنا چاہیے” نے مزید ابہام پیدا کردیا، میری سمجھ میں تو نہیں آ سکا کہ چودہری نثار علی خاں کا بیان کس ملزم کی طرف اشارہ تھا؟ کیا ان کا کہنا ڈاکٹر عاصم حسین کی جانب تھا یا ان کے بیان کا مدعا عزیر بلوچ تھا؟ یا پھر دیگر زیر حراست ملزمان کی جانب تھا جن سے عدالتوں میں پیشی کے مواقع پر میڈیا پرسنز انٹرویوز کرتے ہیں؟
آخری بات یہ کہ اگر اسے معاف کیا گیاتو اس بدکام میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے والوں کو پاکستان کے غیور عوام ہرگز معاف نہیں کریں گے، اور نہ ہی دہشت گردی کی وارداتوں میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین ان سب کو فراموش کریں گے، باقی سکیورٹی کے اداروں کی اپنی پالیسی ہے جو وہ ملک و قوم کے لیے مناسب سمجھیں گے وہیں کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔اے وطن عزیز کے پاسبانوں اور رکھوالو ! احسان اللہ احسان پر رحم کھاتے وقت اتنا یاد رکھا جائے کہ یہ اس قبیلے اور نسل سے تعلق رکھتا ہے جو ہمیشہ اپنے محسنوں پر ہی بھونکتا ہے۔لہذا یہی بہتر ہوگا کہ اسے استعمال کرکے دشمنان پاکستان اور ان کے سرپرستوں کے ٹھکانوں کا پتہ معلوم کیا جائے اور آخر میں دیگر کے ساتھ اسے بھی انعامات سے نواز دیاجائے، ثواب بھی کما لیا جائے اور احسان پر احسان بھی چڑھا دیاجائے۔ ویسے مولائے متقیان علی ابن ابی طالب کا فرمان عالی شان ہے کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔اس لیے خدائے بزرگ و برتر سے دعا ہے کہ اے تمام جہانوں کے مالک اس وطن عزیز کو اس کے بدخواہوں سے اپنی پناہ میں رکھنا۔

مرتبہ پڑھا گیا
189مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: