خودکشی کرنے کے رجحان میں اضافہ – انور عباس انور

Print Friendly, PDF & Email

rp_Anwar-Abbas-Anwar-new-291x300.jpgسنگل کالم خبر شائع ہوئی ہے، مجھے معلوم ہے کہ اس خبر کا کسی نے نوٹس نہیں لیا ہوگا، خبر یہ ہے کہ نشتر کالونی کے علاقے کمہاں روڈ میں غربت سے تنگ آکر خودکشی کرلی، بتایا گیا ہے کہ 40 سالہ یعقوب مسیح سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی کرتا تھا کچھ عرصہ قبل اسے نوکری سے جواب دیدیا گیا تو فاقوں سے گھر میں جھگڑے ہونے لگے اور گزشتہ روز یعقوب مسیح نے درخت سے جھول کر پھانسی لے لی، یعقوب چار بچوں کا باپ بتایا جاتا ہے۔ یہ کمال پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے کہ چار بچوں کے باپ نے غربت کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی جان دیدی اور چار بچے ایک بیوی بے آسرا ہوگئی لیکن حکومت کے کسی ادنٰی سے ادنٰی افسر کے کانوں پر جوں نہیں رینگی، یہی وجہ ہے کہ کسی نے اس واقعہ اور سانحہ کا نوٹس نہیں لیا
یہ واقعہ آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کے بدوؤں میں ہوتا تو حاکم وقت پر لرزہ طاری ہوجاتا ممکن ہے کہ وہ حکومت سے الگ ہونے کو ترجیح دیتا۔ ہم چونکہ ان فضول باتوں پر یقین نہیں رکھتے اس لیے یہاں حکمرانوں سے ایسی توقع رکھنا ہی بے وقوفی ہے، برطانیہ جہاں آج بھی اخلاقی روایات کی پاسداری ہوتی ہے، وہاں کے ایک وزیر کو اس لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا کہ ایک طوائف کے کوٹھے سے اترتے وقت ایک اخبار نے تصویر شائع کردی تھی اور ڈیود کیمرون کو اس لیے وزارت عظمٰی چھوڑنی پڑی کہ اس کے والد کا پانامہ پیپرز میں نام آیا تھا، آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے اقتدار سے علیحدگی اختیار کر لی کیونکہ اسکی اہلیہ کا نام بھی پانامہ پیپرز میں شامل تھا، ہمارے وزیر اعظم کے بیٹوں اور بیٹی کے نام بھی آئے ہیں لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، برطانیہ سمیت اگر یورپ میں اخلاقی تباہی کے باوجود سیاست کے میدان میں اخلاقی ذمہ داریاں نبھائی جا رہی ہیں تو دنیا بھی انکی گرویدہ ہے۔
مغربی دنیا کے مفکر اگر اسلامی حکمرانوں( موجودہ دور کے نہیں ،حضرت عمر،حضرت علی اور دیگر) کے نقش قدم پر چلنے کی اپنی قوم کو تلقین کرتے ہیں تو کوئی تو وجہ ہوگی ناں،انکی سیرت ،انکا کردار آج تک زندہ ہے، حضرت عمر کہتے تھے کہ اگر دریا دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو اسکی جواب دہی عمر سے ہوگی۔ کیا انکی سلطنت کم بڑی تھی، اگر ایک بدو حضرت عمر سے یہ پوچھنے کی ہمت و جرآت رکھ سکتا ہے تو آج کے حکمران پانامہ پیپرز کے جواب دینے سے کیوں گھبراتے ہیں؟
ہمارے اخبارات اور میڈیا میں روزانہ بلا ناغہ خبریں شائع اور نشر ہوتی ہیں کہ فلاں گاؤں میں کوڑے کے ڈھیر سے نوزائیدہ بچے کی نعش ملی، فلاں شہر کے گٹرمیں سے نومولود بچی برآمد، فلاں علاقے کے کھیتوں میں کتے نوزائیدہ بچے کی نعش کھاتے رہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یا پھر ایسی خبریں بھی سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ لاہور کے فلاں علاقے میں چھ بچوں کے والدین نے بچوں کو موت کی نیند سلا دیا اور بعد میں خود کو بھی گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا، محلے داروں نے بتایا کہ مقتول شریف مہنگائی کے ہاتھوں پریشان تھا، مقتول کے گھر کئی دنوں سے فاقوں کا راج تھا اس لیے میاں بیوی نے بچوں کو قتل کرکے خود کو بھی ختم کرلیا ہے۔
رحیم یار خاں میں ہسپتال کے منصوبے کا افتتاح کے موقعہ پر غریبوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیر اعطم نواز شریف آبدیدہ ہو گئے،وزیر اعطم نواز شریف کا آبدیدہ ہونے کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل آمر مطلق نواز شریف کے پیرو مرشد ضیاء الحق بھی اپنے آخری ایام میں ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کرک کی ایک خاتون کے خط کا ذکر کرتے ہوئے رونے لگے تھے، اور ان کے محبوب خاص غلام اسحاق خان بھی ایک بار ایسے ہی قوم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ رونا وہ بھی بااختیار ہوتے ہوئے کیا ظاہر کرتا ہے ؟ یہی ناں کہ حکمران کمزور ہو چکے ہیں اب ان کی بات نہیں مانی جا رہی۔ دوسرا لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ بے اختیار و کمزور کا رونا ،چیخنا چلانا تو سمجھ میں آتا ہے ،مگر صاحب اقتدار ، اختیار اور طاقت ہونے کے باوجود روئے تو اسے ڈرامہ بازی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم مسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے خلفائے راشدین کبھی روتے دکھائی نہیں دیئے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ انہیں یقین کامل تھا کہ انہیں مرنا ہے اور خدائے ذوالجلال کے روبرو پیش ہوکر جواب دینا ہے، اور ہمارے آج کے حکمران اس حقیقت کو فراموش کر چکے ہیں کہ انہوں نے مرنا بھی ہے۔
بات کہاں سے کہاں جا پہنچی تو بات ہو رہی تھی کہ لوگ خودکشیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں ، اس رجحان میں اس بات کے باوجود تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ ہمارے دین میں خود کشی کرنا حرام اور ممنوع ہے ،اخباری اطلاعات کے مطابق تو اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ لوگ اپنے جگر پاروں کو سرعام فروخت کرنے بازار میں لیکر بیٹھ جاتے ہیں۔ خدا ئے ذوالجلال و برتر سے مایوس ہونا گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔مہنگائی ،بھوک افلاس اور غربت کے ہاتھوں بے بسی کے عالم میں خود کشیوں کی خبروں کی اشاعت بھی حکمرانوں کی توجہ اس ناسور کیجانب مبذول کروانے سے قاصر ہے، ہم اور ہمارے حکمران اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی مگر پھر بھی دعوی کیا جاتا ہے کہ ہم عوام کے خادم ہیں اور ہم سیاست کوعوام کی خدمت سمجھتے ہیں۔
یہ کیسی عوامی خدمت اور عبادت ہے؟ جہاں آئے دن عوام اپنے اور اپنے خاندان اور پیاروں کو موت کی ابدی نیند محض اس لیے سلا رہے ہیں کہ وہ انکے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے انہیں سکول میں داخل نہیں کرواتے کہ وہ انکی فیسوں کی ادائیگی نہیں کرسکتے ، اے میرے دیس کے حکمرانو! کچھ تو سوچو۔۔۔ خیال کرو اور ہوش میں آؤ! کل جب مر کر اللہ کی عدالت میں حاضری دو گے تو وہاں کیا جواب دو گے؟ آج اگر آپ رحیم یار خان میں ایک محدود اجتماع کے روبرو روئے ہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو ٹیلی ویژن سکرین پر آکر پوری دنیا کے سامنے رونا پڑے اس لیے جتنی جلد ممکن ہو سکے بقول شاعر”مینوں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات” مطلب یہ کہ اس دھرتی سے ناانصافی کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، عدم مساوات کے معاشرے کو مساوات کا معاشرہ بنا دیں، پھر آپکو رونے یا آبدیدہ ہونے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور نہ ہی کسی غریب کو بھوک افلاس اور مہنگائی کے باعث اپنے پھول سے بچوں کو موت کی نیند سلانے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی انہیں خود اپنی زندگیاں ختم کرنی پڑیں گی۔ عدم مساوات اور ناانصافی کے نظام کے خاتمے سے خودکشیوں میں بڑھتے رجحان کے آگے بند باندھا جا سکے گا۔

Views All Time
Views All Time
327
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   برادر یوسف کے نام سورگ سے ایک خط - محمد عامر حسینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: