Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہماری سیاسی بلوغت اور تربیت-انور عباس انور

ہماری سیاسی بلوغت اور تربیت-انور عباس انور
Print Friendly, PDF & Email

جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہونے والی دھینگا مشتی کے جو مظاہرے ہوئے، انہیں پاکستانی قوم کے ساتھ پوری دنیا کے عوام و خواص نے دیکھا، اور انگشت بدنداں رہ گئے،پوری مہذب دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی اور درگت بنائی گئی، زیادتی مراد سعید سے کی جانب سے کی گئی یا جاوید لطیف نے اخلاقی اقدار کی مٹی پلید کی،دونوں اپنی غلطی کا اعتراف کرکے پاکستان کے ماتھے پر ملی جانے والی "کالک” کو صاف نہیں کر سکتے، مراد سعید تو ابھی گرم لہو کے زمرئے میں آتا ہے لیکن "شیخوپورہ کا جیدا چھری” تو عمر کے اس حصے میں ہے جہاں لوگ اپنے اس عمر کے افراد کو بزرگی کا درجہ دیتے ہیں اور ان سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں لہذا جاوید لطیف المعروف جیدا چھری کو مراد سعید کی زیادتی(اگر اس نے واقعی کی تھی) سے درگزر کرنا چاہیے تھا، جاوید لطیف رکن اسمبلی ہیں اور اس اسمبلی کے رکن ہیں جس اسمبلی کے ایوان کو مقدس قرار دیا جاتا ہے۔ بڑے بزرگ کی حثیت سے ان پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں،جن کا انہیں احساس ہونا چاہیے۔
اس ناخوشگوار واقعہ پر اس سے بھی زیادہ ستم مقدس ایوان کے کسٹودین یعنی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈھایا ہے، انہیں چاہیے تھا کہ فی الفور دونوں ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل کردیتے، اور ایک انکوائری کمیٹی بناتے ( جو خیر سے انہوں نے بنا بھی دی ہے) اس میں ایسے معزز ارکان کو رکن بنایا جاتا جن کی شہرت دیانت دار کی ہو جن کے ذمہ اس لڑائی جھگڑے میں زیادتی کے مرتکب کی نشاندہی کرنا ہوتی۔
اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی میں کئی نام تنقید کی زد میں ہیں، سب ارکان اسمبلی مرادسعید اور جاوید لطیف کے تنازع کو غیر مہذب،غیر شائستہ، غیر اخلاقی اور حددود سے تجاوز قرار دے رہے ہیں، سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس واقعہ خصوصا جاوید لطیف کے طرز عمل نے پوری پاکستانی قوم کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں،اس واقعہ کی جس قدر بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، کئی ارکان کا کہنا ہے کہ معافی مانگنے یا معاف کردینے سے مقدس ایوان کا وقار بحال نہیں ہو سکتا اور شرم سے جھکے سرکو اٹھانا اس وقت تک ممکن نہیں ،جب تک واقعہ میں زیادتی کے مرتکب کو نشان عبرت نہ بنادیا جائے۔
جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ اپنے صدر کو کرپشن میں ملوث ہونے پر منصب صدارت سے ہٹا سکتی ہے تو ہماری پارلیمنٹ غیر ذمہ دار ، غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے والے ارکان کو ڈس مس نہیں کر سکتی؟اس حوالے سے دونوں ارکان کی جماعتی قیادت کا بھی امتحان ہے، کیا وہ اس آزمائش کی گھڑی میں اپنا کردار ادا کرنے کامیاب ہوتی ہے یا اخلاقیات کے مقابلے میں اپنے جماعتی اور خاندانی وفاداروں کی پشت پر پوری قوت سے کھڑی ہونے کو قومی وقار پر ترجیح دیتی ہے۔
جاوید لطیف نے مراد سعید کی ماؤں بہنوں کے بارے میں جس زبان کا استعمال کیا ہے اس کی کوئی بھی عزت دار اور صاحب کردار حمایت نہیں کرسکتا، اوریا مقبول جان ، رؤف کلاسرا اور دیگر اینکرز سمیت پر صاحب رائے کی جانب سے جاوید لطیف کی مراد سعید کی خاندان کی خواتین کے بارے میں گندی اور بیہودہ زبان استعمال کرنے پر ان کی جرآت و بے باکی پرمذمت کی جا رہی ہے، اور اسے پانامہ کیس اور ڈان لیکس پر اندرون خانہ ہونے والی سرگرمیوں پر بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا جاریا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کی سیاست مخالفین کی خواتین پر رکیک حملے کرنے سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہوتی ہے ،شریف خاندان پہلے ذوالفقار علی بھٹو پھر نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید کی عزتوں پر غلیظ اور گندے حملے کرواچکے ہیں۔
اسپیکر اسمبلی سردار ایاز صادق سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ عوام سے شیئر کریں گے اور کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کرکے ایوان کے تقدس اور ارکان اسمبلی کی توقیر کی مکمل حفاظت کا بندو بست کریں گے۔اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے حوالے اہم اقدامات بھی اٹھائیں گے، کیونکہ پارلیمنٹ کے ارکان اور ایوان کی عزت و ناموس کی حفاظت اسپیکر کے فرائض میں شامل ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت اور مسلم لیگ کے سربراہ بھی اپنے اپنے ارکان اسمبلی کو شائستگی اور اخلاق کا دامن نہ چھوڑنے کی ہدایات دیں گے، کیونکہ غیر شائستگی اور اخلاقیات کا جنازہ نکالنے سے ارکان کو روکنا ان کی اولین ذمہ داری ہے، اب تک کی اسمبلی کی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین کی خواتین کا مذاق اڑانے مٰیں مسلم لیگ سب سے آگے ہے۔ شریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہنا، اور اور بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔
خواتین کی عزت و ناموس کی حفاظت کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا ریکارڈ شاندار ہے، سابق صدر آصف علی زرداری کے سابق صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے فیصلے کے آگے ان کی اپنی صاحبزادیاں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہو گئیں اور عرفان اللہ مروت کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی ڈٹ کر مخالفت کی حتی کہ "مرد حر”کو اپنی بیٹیوں کے ٓاگے سرنڈر کرنا پڑا، یعنی گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ لیکن سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کی صاحبزادی کی جانب سے اس حوالے سے خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے۔ عوام اور سوشل میڈیا پر اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کی دختر محترمہ مریم صفدر آگے بڑھ کر اپنی جماعت کے ارکان اور وزرا کو لگام دیں گی لیکن ان کی طرف سے اس معاملے پر مکمل”چپ” نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، ایک خاتون ہونے کے ناطے انہیں چپ کا روزہ توڑ کر آگے بڑھنا چاہیے اور معاملے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ مسلم لیگی وزرا اور ارکان اسمبلی ان کی بات سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے الیکشن میں انہیں آپ کی خوشنودی درکار ہوگی۔

Views All Time
Views All Time
273
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   امریکی صدارتی انتخابات اور مسلم دنیا کے " کودن " - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: